تحریک انصاف کی احتجاج کی کال کس وجہ سے ناکام ہوئی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف کی 8 فروری کو ملک گیر احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال بری طرح ناکام ہونے کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی کی اندرونی تنظیمی کمزوریاں اور پارٹی ورکرز میں بڑھتی ہوئی مایوسی ہے۔

اپنے سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ لاہور، پشاور، کراچی اور دیگر بڑے و چھوٹے شہروں سے تعلق رکھنے والے ایسے سیاسی کارکن، جو برسوں سے عملی سیاست کا حصہ رہے اور ماضی میں مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی سے نظریاتی وابستگی رکھتے تھے، اس صورتحال پر حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر تحریک انصاف کے سخت ناقد رہے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ اس امر پر فکرمند نظر آئے کہ بارہا دی جانے والی احتجاجی کال کے باوجود ان کے علاقوں میں کسی قسم کی قابلِ ذکر عوامی سرگرمی دکھائی نہیں دی۔

ان کارکنوں کی تشویش محض تحریک انصاف کے احتجاج کی ناکامی تک محدود نہیں رہی بلکہ معاملہ مجموعی سیاسی عمل تک پھیلتا دکھائی دیتا ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ مجموعی طور پر سیاسی جماعتوں اور سیاست سے بیگانگی اختیار کرتی محسوس ہو رہی ہے، جو مستقبل کے لیے ایک خطرناک رجحان سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ طبقہ ہے جو ماضی میں ذاتی مفادات کے بجائے نظریے کی بنیاد پر سیاست کرتا رہا، مگر اب وہی لوگ آنے والی نسلوں کے سیاسی مستقبل کے بارے میں شدید خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ کیفیت کسی ایک جماعت کی ناکامی نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام پر عدم اعتماد کی علامت ہے۔

انکے مطابق تحریک انصاف کا عروج دراصل اسی سیاسی بے چینی کا نتیجہ تھا جو دو دہائیوں تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی باہمی محاذ آرائی، حکومتیں گرانے اور الزام تراشی کی سیاست سے پیدا ہوئی۔ اسی پس منظر میں عمران خان ایک متبادل سیاسی قوت کے طور پر ابھرے۔ نصرت جاوید کے مطابق اکتوبر 2011ء میں مینارِ پاکستان کے سائے تلے منعقد ہونے والا جلسہ اس تبدیلی کی واضح علامت تھا، جہاں نوجوانوں اور خواتین کی غیر معمولی شرکت نے تحریک انصاف کو روایتی سیاست سے ہٹ کر ایک نئی عوامی قوت کے طور پر متعارف کرایا۔ یہ وہ طبقے تھے جو ماضی میں سیاسی سرگرمیوں سے دور رہتے آئے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے اندر ایسے عناصر کا اثر بڑھتا گیا جو موقع پرستانہ سیاست اور طاقتور حلقوں سے قربت کو سیاسی کامیابی کا شارٹ کٹ سمجھتے تھے، جس سے پارٹی کی نظریاتی شناخت دھندلانا شروع ہوئی۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں تحریک انصاف کے بارے میں سنجیدہ سوالات نے جنم لیا اور پارٹی کے اندر نظریاتی کمزوری نمایاں ہونا شروع ہوئی، جس کے اثرات بعد ازاں حکومت اور اپوزیشن دونوں کرداروں میں واضح طور پر سامنے آئے۔

2018ء میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد تحریک انصاف ایک مؤثر، مستحکم اور قابلِ عمل نظامِ حکومت متعارف کروانے میں ناکام رہی۔ حکومتی توانائی کا بڑا حصہ سابق حکمران جماعتوں کو احتساب کے نام پر نشانہ بنانے تک محدود رہا۔ نصرت جاوید کے مطابق اپریل 2022ء میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کے خاتمے کے بعد قومی اسمبلی سے استعفے اور پھر پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں سے دستبرداری جیسے فیصلے تحریک انصاف کی سب سے بڑی اسٹریٹجک غلطیاں ثابت ہوئے، جن کے نتائج آج بھی پارٹی کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ فروری 2024ء کے انتخابات میں تحریک انصاف عددی اعتبار سے سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی، تاہم انتخابی نتائج کو متنازع قرار دیا گیا اور پارٹی نے مینڈیٹ چوری ہونے کا مؤقف اختیار کیا۔ اگر واقعی پارٹی قیادت اس بات پر قائل تھی کہ اس کا مینڈیٹ چھینا گیا ہے تو اسے نئی قائم ہونے والی اسمبلی کا حصہ بننے سے انکار کر دینا چاہیے تھا، جیسا کہ 1977ء میں اس وقت کی اپوزیشن نے کیا تھا۔ واضح سیاسی فیصلوں کے بغیر احتجاجی سیاست کو دیرپا جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔اسی پس منظر میں 8 فروری 2026ء کے لیے دی گئی پہیہ جام ہڑتال سامنے آئی، مگر اس کے لیے کوئی مضبوط عوامی فضا یا منظم سیاسی تیاری دکھائی نہیں دی۔

احتجاج کی کال ناکام ہونے کے بعد PTI نے مفاہمتی رویہ اپنا لیا

 

نصرت جاوید کے مطابق نومبر 2024ء میں اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعات کے بعد تحریک انصاف اب تک خود کو منظم اور ازسرِنو متحرک کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث احتجاجی کالیں عملی نتائج پیدا نہیں کر پا رہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف عمران خان کے گرد گھومتی ہے اور ان کے جیل جانے کے بعد سے اس کی سٹریٹ پاور بھی ختم ہو گئی ہے۔ لہٰذا پاکستان میں جمہوری عمل کی بحالی اور عوامی سیاست میں نئی روح پھونکنے کے لیے تحریک انصاف کی جیل سے باہر موجود قیادت کا فعال کردار ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں عوامی لاتعلقی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں تحریک انصاف کو اگلا قدم اٹھانے سے پہلے دو قدم پیچھے ہٹ کر اپنی تنظیمی کمزوریوں، غلط سیاسی فیصلوں اور عوام سے بڑھتے فاصلے کا سنجیدہ اور دیانت دارانہ جائزہ لینا ہوگا، بصورتِ دیگر عوام کی سیاسی بیگانگی ایک طویل عرصے تک ملکی سیاست کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی رہے گی۔

Back to top button