پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کو اچانک بریک کیوں لگ گئی؟

 

 

 

عمران کے ریاست مخالف بیانیے نے نہ صرف ان کی رہائی کے تمام ممکنہ راستے مسدود کر دئیے ہیں بلکہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور ختم اور عوامی مقبولیت کا غبارہ بھی پنکچر کر دیا ہے۔ کم ہوتی ہوئی عوامی حمایت کی وجہ سے تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کیلئے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے میں یکسر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ عوامی پذیرائی میں مسلسل کمی کی وجہ سے اب پی ٹی آئی نے رمضان المبارک کے بہانے اپنی تمام احتجاجی کارروائیوں معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے سڑکوں پر دباؤ بڑھانے کے دعوؤں کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی حالیہ خاموشی نے سیاسی حلقوں میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالانکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے ’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام اور سٹریٹ موومنٹ تیز کرنے کے اعلانات کے بعد توقع تھی کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک میں شدت آئے گی، تاہم رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی پارٹی سرگرمیاں نمایاں طور پر محدود ہو گئی ہیں، ناقدین کے مطابق عوامی پذیرائی میں کمی اور رمضان المبارک کی وجہ سے عملا تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کو بریک لگ گئی ہے۔

تاہم پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق رمضان المبارک کے احترام اور عملی مشکلات کے باعث احتجاجی سرگرمیوں میں بریک لیا گیا ہے تاہم احتجاجی حکمت عملی پر مشاورت جاری ہے، ان کے مطابق عید کے بعد رہائی فورس باضابطہ طور پر فعال ہوگی، ملک گیر سٹریٹ موومنٹ دوبارہ زور پکڑے گی اور ممکنہ دھرنوں و احتجاج کے آپشنز پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی کی حالیہ خاموشی پسپائی نہیں بلکہ اگلے مرحلے کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا حصہ ہے۔تاہم ناقدین کا ماننا ہے پی ٹی آئی میں جاری داخلی انتشار، گروپ بندی اور کم ہوتی عوامی مقبولیت کی وجہ سے پارٹی کا بھرپور عوامی طاقت کے ساتھ سڑکوں پر نکلنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک شروع کرنے کی تیاری تو کررہی ہے، تاہم  نئے سال کے ابتدائی چند مہینوں میں تحریک شروع ہونے کے امکانات کم ہیں کیونکہ جہاں سخت سردی کی وجہ سے عوام کو سڑکوں پر لانا مشکل ہے وہیں پارٹی رہنما بھی احتجاجی تحریک کے حوالے سے ایک پیج پر نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک اہم سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سہیل آفریدی علیمہ خان گروپ کے ساتھ ہیں جو بنیادی طور پر احتجاج کے حق میں ہے اور مذاکرات کے بجائے سڑکوں پر احتجاج کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو اندازہ ہے کہ علی امین گنڈاپور سے کارکنان ناراض ہیں اور منظم احتجاج نہ کرنے پر ہی انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ سہیل آفریدی اپنی کرسی کو بچانے کیلئے احتجاج کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں تاکہ پارٹی کارکنان کو رام کیا جا سکے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں احتجاج کی بالکل کوئی گنجائش نہیں ہے۔تاہم اگر احتجاج شروع ہوا بھی تو اپریل کے بعد ہی ہوگا کیونکہ  سہیل آفریدی کی کوشش ہے کہ مکمل تیاری کے ساتھ احتجاج کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ دباؤ پیدا ہو۔ان کے مطابق پارٹی کے اندرونی اجلاسوں میں بھی ان تمام امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور متفقہ رائے یہی ہے کہ عید کے بعد ہی احتجاج ممکن ہوگا،تاہم عید کے بعد دوبارہ کارکنوں کو فعال کرنے اور مکمل تیاری کے ساتھ نکلنے میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

کیا علیمہ خان پی ٹی آئی پر قبضے میں کامیاب ہو پائیں گی؟

تاہم ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کی ممکنہ احتجاجی تحریک کا انجام بھی ماضی سے مختلف نہیں ہو گا کیونکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی غیر سیاسی اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف پنجاب اور بلوچستان سے بالکل مائنس ہو چکی ہے تاہم سندھ میں اس کے چند نام لیوا موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ماضی قریب میں خبیرپختونخوا کے علاوہ ملک بھر میں پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کارکنان کو متحرک کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے، ویسے بھی مسلسل مزاحمتی اور احتجاجی سیاست کی وجہ سے عوام پی ٹی آئی قیادت سے متنفر ہو چکے ہیں اسی لئے تحریک انصاف کی احتجاجی کالز پر سڑکوں پر آنے سے گریزاں ہیں، مبصرین کے مطابق موجودہ ملکی سیاسی حالات میں پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے عوام کو سڑکوں پر نکالنے کے دعوے کرنا بہت آسان ہے، لیکن جب ایسا کرنے کیلئے میدان میں اترے گی تو اسے لگ پتا جائے گا کیونکہ پی ٹی آئی کی احتجاجی تحاریک کو کامیاب بنانے والی فیضی امداد کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔

Back to top button