پی ٹی آئی کے یوتھیا بریگیڈ نے ابصار عالم کو نشانے پر کیوں لے لیا ؟

تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ اپنے ٹرولز کے ذریعے حکومت اور فوج کے خلاف تو جھوٹا پروپیگنڈا کرتا ہی ہے لیکن وہ صحافی اور اینکرز بھی اسکا نشانہ ہیں جو عمران خان کو دیوتا تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ ماضی میں خان کا یوتھیا بریگیڈ معروف اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کی کردار کشی پر فوکس کرتا تھا لیکن اب اس نے ایک اور اینکر پرسن اور صحافی ابصار عالم کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا ہے۔  پی ٹی آئی کے ٹرول نیٹ ورک نے حالیہ پروپیگنڈا مہم میں ابصار عالم کے اسرائیل سے متعلق تبصرے کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اس انداز میں وائرل کیا گیا گویا وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی وکالت کر رہے ہوں۔ تاہم تحقیق پر معاملہ بالکل اس کے برعکس نکلا۔

یاد رہے کہ ابصار عالم وہ صحافی ہیں جنہیں عمران خان کے دور حکومت میں مبینہ طور پر اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے حکم پر گولی ماری گئی تھی

خیال رہے کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا بریگیڈ نے 10جولائی 2025 کے ایک پوڈ کاسٹ کا آدھا ادھورا کلپ نئے کیپشن کے ساتھ شئیر کر کے سینئر صحافی ابصار عالم کی ٹرولنگ کا آغاز کیا ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پی ٹی آئی ٹرولز کی جانب سے شیئر کردہ ویڈیو کلپ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دیکھئے صحافی ابصار عالم پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے کون کون سے فوائد بتا رہے ہیں، تاہم حقیقت میں یہ وائرل کلپ نامکمل تھا اور اصل میں ابصار عالم یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ آیا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے پاکستان کو واقعی کوئی فائدہ حاصل ہوگا یا نہیں؟ آئی ویری فائی پاکستان کی ٹیم نے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے دعوؤں کے بعد ایک فیکٹ چیک کے ذریعے ابصار عالم کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فوائد بیان کرنے سے متعلق یوتھیوں کے دعوؤں کو گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔

جمعرات کو اینکر اور یوٹیوبر طارق متین نے سما ٹی وی کے ایک پوڈکاسٹ سے ابصار عالم کا ایک کلپ شیئر کیا، جس پر یہ عبارت درج تھی کہ ’ابصار عالم نے اب اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فوائد گنوانے شروع کر دیے، یہ لوگ اپنی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔‘

شئیر کردہ کلپ کا متن کچھ یوں تھا: ’اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کریں تو لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں فائدے ہوں گے، جیسے بلوچستان پر دباؤ کم ہو جائے گا، یا بھارت اور اسرائیل ہمارے خلاف سازشیں بند کر دیں گے، شاید ہمیں زرعی یا عسکری ٹیکنالوجی تک رسائی مل جائے، مگر کیا اس کی کوئی گارنٹی ہے؟بھارت بھی ہمارا دشمن ہے، مگر ہم اس سے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں، جس میں ثقافتی تبادلے اور عوامی روابط شامل ہیں، کیا اس سے کبھی بھارت نے کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت بند کی؟ نہیں۔ تو سفارتی تعلقات ضروری نہیں کہ ہمارے نظریاتی یا جغرافیائی مفادات کی حفاظت کریں۔ہر ملک اپنے مفاد میں کام کرتا ہے، آج اگر کوئی بھارتی ہائی کمیشن جاتا ہے تو اس کے خاندان کی چھان بین کی جاتی ہے، کل کو اگر یہاں اسرائیلی سفارت خانہ کھلتا ہے تو لوگ وہاں بھی جائیں گے، کیا ہم سب کی تحقیقات کریں گے؟’ہمیں اس سے ملے گا کیا؟ میری سمجھ سے باہر ہے، کیا امریکا ہمیں اپنا اتحادی مان لے گا؟ ہمارے قرضے معاف کر دے گا؟ ہمیں ایف-35 طیارے تحفے میں دے گا؟ کیا بدلے گا؟‘

جس کے بعد پی ٹی آئی سے منسلک ایک اکاؤنٹ نے بھی یہی کلپ شیئر کیا اور کیپشن دیا کہ ’جو کل تک عمران خان کو اسرائیل کا ایجنٹ کہہ رہا تھا، آج وہی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فوائد گنوا رہا ہے، کیونکہ نہ ان کی زبان ان کی ہے نہ آواز، بس جو اسٹیبلشمنٹ ریکارڈ کرواتی ہے وہی سناتے ہیں۔

جس کے بعد ابصار عالم یوتھیوں کے نشانے پر آ گئے اور عمرانڈوز  نے ان پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا۔  جس کے بعد عوامی دلچسپی کے مدنظریوتھیوں کے دعوے کی صداقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کیا گیا، ”ابصار عالم پوڈکاسٹ“ کے کلیدی الفاظ پر یوٹیوب پر تلاش کرنے سے 10 جولائی 2025 کو سما ٹی وی کے چینل پر ایک ویڈیو ملی، تاہم ’آئی ویری فائی پاکستان‘ کے فیکٹ چیک سے یہ بات واضح ہوئی کہ کلپ مکمل سننے پر معلوم ہوتا ہے کہ ابصار عالم اسرائیل کو تسلیم کرنے کے دلائل کو سوالیہ انداز میں چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کا اصل مؤقف یہ تھا:”اگر فلسطینیوں پر ظلم جاری رہا، اور یہاں اسرائیلی سفارت خانہ کھل گیا، تو یہ اچھی علامت نہیں ہو گی۔ ہمیں اصولی مؤقف پر قائم رہنا چاہیے۔”انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کوئی عرب ملک نہیں جو دوسروں کے نقشِ قدم پر چلے، بلکہ ایک خودمختار اور ایٹمی طاقت ہے، جسے ہر فیصلہ صرف اور صرف قومی مفاد اور اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر کرنا چاہیے۔ فیکٹ چیک کی تحقیقات نے پی ٹی آئی ٹرول بریگیڈ کی دعوؤں کی یکسر نفی کر دی۔

بلوچ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے سیاسی ڈائیلاگ کیوں ضروری ہے؟

 ناقدین کےمطابق پی ٹی آئی بریگیڈ کی جانب سے ابصار عالم کو نشانہ بنائے جانے کی اصل وجہ اسرائیل نہیں بلکہ وہ نکتہ چینی ہے جو وہ عمران خان کی شخصیت پرستی، سیاسی تضادات اور عسکری اداروں کے ساتھ مفاداتی تعلقات پر کرتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل ماضی میں عاصمہ شیرازی کے ساتھ بھی اختیار کیا گیا، جب انہیں ’لفافہ‘، ’غدار‘، اور یہاں تک کہ ’غلیظ الفاظ‘ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔پی ٹی آئی بریگیڈ کا اصول سادہ ہے:اگر تم عمران خان کے ناقد ہو، تو تم خود بخود ریاست دشمن ہو، یا کسی ایجنڈے پر کام کر رہے ہو۔یہی بیانیہ ابصار عالم پر مسلط کیا جا رہا ہے۔

مبصرین کے بقول سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے ’ادھوری سچائی‘ کو مکمل جھوٹ بنا کر پیش کرنا اب محض پی ٹی آئی کا ایک حربہ نہیں، بلکہ ایک مکمل بیانیہ بن چکا ہے۔ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ کا حالیہ حملہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر منظم جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنا تحریک انصاف کا بنیادی ہتھیار ہے۔ ابصار عالم جیسے صحافی جو دلائل، حقائق اور اصولوں کے ساتھ بات کرتے ہیں، ان کے خلاف نفرت، الزام تراشی اور فیک نیوز کی یلغار اب روزمرہ کا معمول بنتی جا رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق کیا پاکستان میں اختلافِ رائے کی کوئی گنجائش باقی رہ گئی ہے؟ یا پاکستانھ میں سچ وہی ہے جو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہینڈلرز طے کریں؟

Back to top button