رجب بٹ برطانیہ سےڈیپورٹ ہوایااپنی مرضی سے واپس آیا؟

معروف یوٹیوبرز رجب بٹ اور ندیم نانی والا نے اپنے خلاف شکنجہ کستا دیکھ کر ایف آئی اے حکام کو دھمکانا شروع کر دیا ہے۔ ایف آئی اے حکام پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے یوٹیوبر ندیم نانی والا کا کہنا ہے کہ ہمیں گرفتار کرنے کے خواب دیکھنے والے افسران تیار رہیں اب وہ سب کچھ بے نقاب ہو گا جس کو ڈکی بھائی کھل کر بیان نہیں کر سکے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے یوٹیوبر رجب بٹ اور ٹک ٹاکر ندیم مبارک کی 10 روزہ راہداری ضمانت منظور کرلی ہےاور پولیس حکام کو رجب بٹ اور ندیم نانی والا کو گرفتار کرنے سے روک دیا ہے جبکہ یوٹیوبرز کو متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

خیال رہے کہ سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ برطانوی حکومت نے رجب بٹ کا ویزا منسوخ کر کے انہیں برطانیہ سے بے دخل کر دیا ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ رجب بٹ نے ڈیڑھ برس قبل برطانوی ویزا کیلئے اپلائی کرتے وقت خود پر چلنے والے کیسز کی تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں۔ حقائق سامنے آنے کے بعد ان کا ویزہ منسوخ کیا گیا ہے۔ مرتضی علی شاہ کے مطابق’کچھ ہفتے قبل رجب بٹ اور ندیم نانی والا کو برطانوی انسداد دہشت گردی ایجنسی ایم آئی 6 نے غیرقانونی کارروائیوں کے الزامات لگنے کے بعد گرفتار کیا تھا تاہم تفتیش کے بعد یوٹیوبرز پر لگنے والے الزامات بوگس ثابت ہوئے تھے۔ تاہم بعد ازاں ان کے خلاف پاکستان میں درج فوجداری کیسز کی فہرست سامنے آئی تھی جس کی وجہ سے انھیں ملک بدر کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب یوٹیوبر رجب بٹ اپنی برطانیہ بدری کی خبروں کی تردیدکرتے دکھائی دیتے ہیں۔ رجب بٹ کا اپنی برطانیہ سے ملک بدری کو مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ انہیں برطانیہ سے ڈی پورٹ نہیں کیا گیا ورنہ وہ کبھی بھی بزنس کلاس میں واپس نہ آتے۔ پاکستان واپسی کے بعد راہداری ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ آمد کے موقع پر رجب بٹ کا کہنا تھا کہ ہوم آفس میں درخواست دی گئی تھی کہ میرے اوپر پاکستان میں متعدد مقدمات درج ہیں جس کی وجہ سے میرا ویزا منسوخ ہوا ہے، تاہم برطانوی حکام کی جانب سے انھیں ڈی پورٹ نہیں کیا گیا۔ رجب بٹ کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام سدا بہار نہیں تاہم جب تک ان کے خلاف کیس چل رہے ہیں تب تک وہ پاکستان میں ہی رہیں گے۔ رجب بٹ نے مزید کہا کہ برطانیہ میں اگر ویزا منسوخ ہو جائے اور اس کے بعد بھی وہاں پر رہائش رکھی جائے تو 10 سال کی پابندی لگتی ہے۔ ہمیں خود پر پابندی نہیں لگوانی تھی کیونکہ وزٹ کے لیے کبھی بھی برطانیہ جانا پڑ سکتا ہے۔ اسی لئے انھوں نے ویزہ منسوخی کے فوری بعد وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس موقع پر ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر یہ بھی چل رہا ہے کہ میرا ویزا بھی منسوخ کیا گیا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا کیونکہ میں مستقل برطانوی شہری ہوں اور میرے پاس برطانوی شہریت موجود ہے۔ اس لئے میرے ویزہ کی منسوخی کی خبرین بے بنیاد ہیں۔ ندیم نانی والا نے مزید کہا میں ڈکی بھائی سے ملا ہوں جو بات ہوئی سوشل میڈیا پر بتائی، جب وقت آئے گا تو سب کو بے نقاب کرینگے۔ ندیم نانی والا کے بقول ہم اپنے خلاف درج کیسز میں ٹرائل کا سامنا کریں گے اور تفتیش کے دوران وہ تمام حقائو بے نقاب کریں گے جو شاید ڈکی بھائی کھل کر نہیں بتا سکے۔‘

اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجب بٹ اور ندیم نانی والا کی 10 روزہ راہداری ضمانت منظور

واضح رہے کہ رجب بٹ پاکستان کے ایک مشہور یوٹیوبر ہیں جو اپنی روزمرہ زندگی پر وی لاگز کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے یوٹیوب پر 60 لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز موجود ہیں۔این سی سی آئی اے کی جانب سے رجب بٹ کے خلاف رواں برس ستمبر میں غیرقانونی جوئے کی ایپس کی تشہیر کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم رجب بٹ کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے وہ گرفتاری سے بچ گئے تھے۔ یاد رہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ رجب بٹ کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوا ہو اور قانونی چارہ جوئی کی گئی ہو، رواں برس جنوری میں گھر میں غیر قانونی طور پر شیر رکھنے کے جرم میں انھیں لاہور کی ایک مقامی عدالت نے سزا سنائی تھی اور انھیں ایک سال تک کمیونٹی سروس کرنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح رواں برس مارچ میں یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف لاہور میں ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا جس کی ایف آئی آر میں پیکا ایکٹ اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کی دفعات شامل کی گئی تھیں۔ایف آئی آر میں یوٹیوبر رجب بٹ کے چند ویڈیو بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے اپنے بیانات سے دفعہ 295 اے اور 295 سی کی توہین کی ہے تاہم 25 مارچ کی صبح ایف آئی آر درج ہونے سے کچھ گھنٹے پہلے ہی رجب بٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں 295 کے نام سے پرفیوم لانچ کرنے کو اپنی کم علمی اور جہالت قرار دے کر عوام سے معافی مانگ لی تھے اور اپنے اس پرفیوم کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

Back to top button