بلوچستان میں انڈین اور اسرائیلی ایجنسیوں نے پنجے گاڑ لیے

 

 

 

پاکستان کے چین، ایران اور افغانستان سے تعلقات بگاڑنے کیلئے موساد، سی آئی اے اور را کا ٹرائیکا بلوچستان میں سرگرم ہو گیا۔ جس کے بعد بلوچستان اب محض ایک جغرافیائی اکائی یا داخلی سلامتی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ پاکستان مخالف خفیہ ایجنسیوں کی پراکسی وار کا باقاعدہ میدان بن چکا ہے، جہاں را، موساد اور سی آئی اے کا گٹھ جوڑ کھل کر متحرک دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین کے مطابق بلوچستان میں بی ایل اے جیسے علیحدگی پسند گروہوں کو جدید ہتھیاروں، بھاری فنڈنگ اور انٹیلی جنس معاونت کی فراہمی نے حالیہ دہشت گردی کو کسی مقامی بغاوت کے بجائے ایک منظم عالمی پراکسی وار میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس خفیہ جنگ کا اصل ہدف نہ صرف سی پیک اور گوادر پورٹ کو سبوتاژ کرناہے بلکہ پاکستان کے چین، ایران اور افغانستان سے تعلقات کو عدم استحکام سے دوچار کرنا بھی ہے۔

 

تازہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے نہ صرف بیرونی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھے بلکہ انہیں براہِ راست افغانستان سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، حملے کسی اچانک ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ کم از کم چھ ماہ سے ایک سال کی منظم منصوبہ بندی کا حصہ تھے۔ ان مذموم کارروائیوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را، اسرائیلی ایجنسی موساد اور امریکی سی آئی اے کا گٹھ جوڑ نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے مربوط حملوں کی کمان افغانستان میں موجود ہینڈلرز کے ہاتھ میں تھی،حملہ آور دہشت گردوں کے مذموم کارروائیوں کے دوران مسلسل اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں رہنے کے ثبوت سامنے آ چکے ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں نے نہ صرف ان مقامات کی نشاندہی کر لی ہے جہاں سے دہشتگردوں کو ہدایات دی جا رہی تھیں بلکہ انہیں لاک بھی کر دیا گیا ہے، جبکہ جلد سخت اور براہِ راست جواب دینے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق کالعدم بی ایل اے اور نام نہاد ”فتنہ الہندوستان“ سے وابستہ دہشت گردوں کو ایک ہفتے تک کارروائیاں جاری رکھنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس دوران کسی اہم سرکاری یا حساس عمارت پر قبضہ کر کے ریاست کو یرغمال بنایا جائے، تاہم سکیورٹی فورسز کی بروقت، تیز اور فیصلہ کن کارروائی نے اس منصوبے کو خاک میں ملا دیا۔دفاعی ماہرین کے بقول بھارت مئی کے معرکے میں ہونے والی ذلت آمیز شکست کو اب تک ہضم نہیں کر سکا۔ تاہم اس مختصر معرکے کے بعد دونوں ممالک میں براہِ راست جنگ کا آپشن تقریباً ختم ہو چکا ہے کیونکہ بھارتی عسکری قیادت اس کی متحمل نہیں، اسی لیے بھارت نے پراکسی وار اور دہشت گردی کو واحد ہتھیار بنا لیا ہے۔ عملی طور پر بھارت نے بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کے ذریعے پاکستان میں خونریزی کا راستہ اختیار کر لیا ہے، جس میں معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان اس وقت بین الاقوامی جیو پولیٹیکل رسہ کشی کا مرکز بن چکا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں حالیہ حملوں کی نوعیت، ٹائمنگ اور پیشہ ورانہ مہارت کسی بڑی انٹیلی جنس ایجنسی کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں۔ ان حملوں کا بنیادی مقصد سی پیک اور گوادر پورٹ کو غیر مؤثر بنانا اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو سبوتاژ کرنا ہے، جو چین کو آبنائے ملاکا کے متبادل راستے کے ذریعے بحیرہ عرب تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موساد، سی آئی اے اور را کا یہ گٹھ جوڑ نہ صرف چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا چاہتا ہے بلکہ پاکستان کے ایران اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بھی شدید دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس حوالے سے افغانستان کے علاقے قندھار اور ایران کے سیستان و بلوچستان کے علاقوں کو لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جہاں سے حملہ آوروں کو پاکستان مخالف ایجنسیوں کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات، جدید ہتھیار اور محفوظ نقل و حرکت کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق بلوچ علیحدگی پسند گروہ اب محض مقامی دہشتگرد تنظیمیں نہیں رہے بلکہ ایک وسیع تر اینٹی چائنا الائنس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ حملوں میں جدید ڈرونز، انکرپٹڈ سیٹلائٹ فونز، تھرمل امیجنگ گنز اور جدید کمیونیکیشن سسٹمز کا استعمال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عسکریت پسندوں کو وہ ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں جو عام طور پر نیٹو یا موساد کے اسپیشل یونٹس کے زیر استعمال ہوتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے یہ جدید اسلحہ بلیک مارکیٹ سے حاصل نہیں کیا گیا بلکہ کسی سٹیٹ ایکٹر کی جانب سے باقاعدہ آپریشنل سپورٹ کے طور پر فراہم کیا گیا ہے۔

بلوچستان کے 12 شہروں پر حملے، سکیورٹی ادارے ناکام کیوں ہوئے؟

عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کے بقول بلوچستان میں حالیہ حملوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور مواصلاتی نظام وہی ہے جو مشرق وسطیٰ کی مختلف جنگوں میں شرپسندوں کو استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردوں کی جانب سے استعمال کئے جانے والے ہتھیار وہی ہیں جو امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے تھے۔ سیکیورٹی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی دفاعی شراکت داری بھی بلوچستان کی صورتحال پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق اسرائیل کے لیے بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت دراصل ایران کو اس کے مشرقی محاذ پر الجھانے کی ایک حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ موساد کی بلوچستان میں دلچسپی حقیقت میں پاکستان سے زیادہ ایران سے جڑی دکھائی دیتی ہے، جہاں سیستان و بلوچستان کے علاقوں میں عدم استحکام پیدا کر کے ایران کو دباؤ میں لانا مقصود ہے۔ اسی لئے بعض تجزیہ کار مستقبل میں ایران کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کے لیے پاکستان کی سرحدی پٹی کو استعمال کیے جانے کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب یورپی یونین کے بعض انٹیلی جنس اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو بیرون ملک سے کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھاری رقوم فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چینی انجینئرز اور اہم سویلین افسران کی ہٹ لسٹس تیار کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں، جو اس خفیہ جنگ کے خطرناک رخ کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔ مجموعی طور پر بلوچستان میں جاری یہ صورتحال اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کو درپیش چیلنج محض داخلی نہیں بلکہ ایک پیچیدہ عالمی پراکسی وار کا حصہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ اور خطے میں بدلتی ہوئی طاقت کی بساط نے بلوچستان کو عالمی اسٹرٹیجک کشمکش کے عین مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں آنے والے دنوں میں یہ معرکہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

Back to top button