روس نے پاکستانی اخبار کو امریکی ایجنٹ کیوں قرار دیا ؟

روس جیسی بڑی عالمی طاقت نے پاکستان کے ایک چھوٹے سے انگریزی روزنامے ’دی فرنٹیئر پوسٹ‘ پر تنقید کرتے ہوئے اسے امریکی مفادات کا ترجمان قرار دے دیا ہے جسکے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر ماسکو کو یہ الزام لگانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ روسی سفارت خانے نے الزام لگایا ہے کہ پشاور سے شائع ہونے والا انگریزی اخبار دی فرنٹئیر پوسٹ امریکہ کے زیر اثر ہے اور اس کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے، اخبار پر مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ادارتی صفحے کے ذریعے روس مخالف بیانیہ پھیلاتا ہے اور اس کے لکھاری ہمیشہ ماسکو اور صدر ولادیمیر پوتن کے ناقدین ہوتے ہیں۔
روسی سفارتخانے کے مطابق دی فرنٹیئر پوسٹ اخبار کی بین الاقوامی ٹیم واشنگٹن سے خبریں منتخب کرتی ہے اور اسے بمشکل ہی ’پاکستانی‘ کہا جا سکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ فرنٹیئر پوسٹ روس کی مثبت یا غیرجانبدار تصویر پیش نہیں کرتا اور مغربی پروپیگنڈا دہراتا ہے جسکا بنیادی مقصد امریکی ایجنڈے کا فروغ ہے۔ حتیٰ کہ روسی سفارت خانے کی جانب سے دی فرنٹیئر پوسٹ میں ہونے والی افغانستان سے متعلق رپورٹنگ پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ روسی سفارت خانے نے اظہار ناراضی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی انگریزی اخبار نے ماسکو فارمیٹ اجلاس کو نظرانداز کیا۔ روس نے پاکستانی عوام کو مشورہ دیا کہ وہ غیر ملکی سرپرستوں کے جھوٹے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں۔
روسی سفارت خانے کی جانب سے عائد کردہ الزامات کا جواب دیتے ہوئے ’دی فرنٹیئر پوسٹ‘ نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ اخبار نے کہا کہ روسی سفارتی حلقے جدید صحافت کی روح یعنی آزادی، سوال اور احتساب کو نہیں سمجھتے۔ اخبار کے مطابق، اظہارِ رائے کی آزادی کو روسوفوبیا کہنا درست نہیں، اور صحافت کا مقصد طاقت وروں کو خوش کرنا نہیں بلکہ سچ کی تلاش ہے۔ انگریزی اخبار نے واضح کیا کہ وہ پاکستانی ادارہ ہے جو واشنگٹن ڈی سی سے کام کر رہا ہے تاکہ عالمی مرکزِ سیاست سے براہِ راست رپورٹنگ فراہم کر سکے۔ اخبار کے منیجنگ ایڈیٹر جلیل آفریدی نے ہمیشہ جمہوریت، انسانی حقوق اور علاقائی امن کے موضوعات پر لکھا ہے۔ اخبار نے ماسکو فارمیٹ اجلاس کی خبر کا لنک بھی پیش کر کے روسی الزام کو "غلط اور منفی پروپیگنڈا” قرار دیا۔
دی فرنٹئیر پوسٹ کی جانب سے جوابی بیان میں مزید کہا گیا کہ دباؤ چاہے ماسکو سے ہو یا واشنگٹن سے، فرنٹیئر پوسٹ اپنی آزادی پر قائم رہے گا۔
اخبار نے اپنے قارئین سے کہا کہ کوئی طاقت یہ طے نہ کرے کہ آپ کون سی حقیقت پڑھ سکتے ہیں۔ ’’اظہارِ رائے کی آزادی روسوفوبیا نہیں، بلکہ ہر آزاد معاشرے کی بنیاد ہے۔‘‘ فرنٹیئر پوسٹ کی تاریخ بھی اس جرأت کی گواہی دیتی ہے۔ یہ اخبار فوجی صدر ضیاء الحق کے دور میں وجود میں آیا اور اپنے بےباک مؤقف اور تحقیقی صحافت کے سبب عالمی سطح پر پہچانا گیا۔ اس نے سیاسی خاندانوں، خفیہ اداروں اور وزرا پر سخت رپورٹنگ کی، جس کے نتیجے میں اسے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مالک رحمت شاہ آفریدی کو جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، جبکہ 2001 میں ایک توہین آمیز خط شائع ہونے کے بعد دفتر پر حملے ہوئے اور اشاعت عارضی طور پر بند کر دی گئی۔
پنجاب نے TLP کی مساجد اور مدارس کا قبضہ کس کو دیا ہے ؟
دی فرنٹئیر پوسٹ کے مدیر کے مطابق آج ایک بار پھر یہ اخبار ایک عالمی طاقت کے نشانے پر ہے لیکن اہم ترین سوال یہی ہے کہ آخر روس کو پاکستان کے ایک چھوٹے سے اخبار سے اتنی تکلیف کیوں؟ کیا آزاد آوازیں اتنی طاقتور ہو چکی ہیں کہ سپر پاورز بھی ان سے خائف نظر آتی ہیں؟
