شیخ روحیل اصغر نے انصار عباسی کو بیمار ذہن کیوں قرار دیا؟

حال ہی میں نواز شریف کے نواسے جنید سے اپنی پوتی کو بیاہنے والے مسلم لیگی رہنما شیخ روحیل اصغر نے سینیئر صحافی انصار عباسی کو بیمار ذہنیت رکھنے والا سیاسی یتیم قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ انصار عباسی نے شادی کی شاہانہ تقریبات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوامی قیادت کا دعویٰ کرنے والے سیاست دانوں کو اپنے بچوں کی شادیاں سادہ انداز میں کرنی چاہئیں۔
انصار عباسی نے کہا تھا کہ جب کوئی شخصیت صوبے کی وزیراعلیٰ ہو اور خود سادگی اور کفایت شعاری کا درس دے تو اس کی ذاتی تقریبات بھی عوام کے لیے ایک پیغام ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات کی تصاویر اور کھانوں کی ویڈیوز سے یہ تاثر ملا کہ ون ڈش کی پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مہمانوں کو مختلف اقسام کے کھانے پیش کیے گئے۔
انصار عباسی کے مطابق جنید صفدر کی شادی کی تقریبات میں شریک افراد کے ملبوسات بھی عوامی بحث کا موضوع بنے۔ سوشل میڈیا پر فیشن سے واقف حلقوں نے دعویٰ کیا کہ مریم نواز، ان کی صاحبزادیوں اور جنید صفدر کے ملبوسات کی قیمتیں لاکھوں روپے تھیں، جبکہ وزیراعلیٰ کے مہنگے لباس اور زیورات نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے بیٹے کی دوسری شادی کرتے وقت مریم نواز کو کم از کم عوامی جذبات کا خیال ضرور کرنا چاہیے تھا۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما شیخ روحیل اصغر نے انصار عباسی کی تنقید کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پوتی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی پر تنقید کرنے والے انصار عباسی جیسے نام نہاد صحافی ذہنی مریض اور سیاسی یتیم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی بیمار ذہنیت پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے اور خوشیوں کے موقع پر منفی سوچ سمجھ سے بالاتر ہے۔
ایک خصوصی انٹرویو میں شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ انصار عباسی انتہائی بیمار ذہنیت کے انسان ہیں جنہوں نے ان کی نواسی کی شادی کی تقریبات پر ایک گھٹیا کالم لکھا۔ انکا کہنا تھا کہ صحافی کو ملک، معیشت اور عوامی مسائل پر لکھنا چاہیے، نہ کہ شادیوں پر۔ انہوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو وسائل دیے ہیں تو انہیں خوشیوں کے مواقع پر خرچ کرنا کوئی جرم نہیں۔
شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ میاں نواز شریف اپنی جیب سے لوگوں کی فلاح و بہبود کے کام کرتے ہیں اور خاموشی سے لوگوں کی مالی مدد کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے اپنے نواسے کی شادی پر خرچ کیا ہے تو اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نواز شریف نے کسی سے پیسے لے کر یا کسی پر ظلم کر کے یہ شادی کی ہے؟ اگر ایسا نہیں تو تنقید بے بنیاد ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی پوتی کی شادی اپنی حیثیت کے مطابق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پوتی کی پھوپھی ملک کی معروف ڈریس ڈیزائنر ہیں، شادی کے تمام ملبوسات انہی نے ڈیزائن کیے، جنہیں دنیا بھر میں لوگ پسند کرتے ہیں۔ شیخ روحیل اصغر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ بلاوجہ دوسروں کی بہو بیٹیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے عدت کیس پر بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ کسی کی ذاتی زندگی پر بحث نہیں ہونی چاہیے۔ شیخ روحیل اصغر نے بتایا کہ جنید صفدر اور شانزے علی کی شادی مریم نواز کی بیٹی ماہ نور کی کاوشوں سے طے پائی۔ ماہ نور نے پہلے اپنی والدہ اور پھر اپنے نانا نواز شریف سے بات کی، جس کے بعد یہ رشتہ آگے بڑھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جنید صفدر سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق نکاح کے موقع پر نواز شریف نے بطور گواہ شرکت کی اور خود ان کی پوتی کا ہاتھ جنید صفدر کے ہاتھ میں دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنید صفدر کے ولیمے پر ون ڈش رکھی گئی تھی، جس میں مٹن پلاؤ اور دیسی چکن پیش کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف پلاؤ کے ساتھ دیسی مرغی اور آلو گوشت کا سالن کھانا پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے جنید صفدر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اچھے، ملنسار اور بااخلاق نوجوان ہیں اور ان کے بارے میں کبھی کوئی منفی بات نہیں سنی۔
حکمران بچوں کی شادیوں پر شاہانہ خرچ کی نمائش کیوں کرتے ہیں؟
شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز بہتر انداز میں حکومت چلا رہی ہیں اور پنجاب میں گورننس پہلے سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپنے والد نواز شریف جیسے تجربہ کار سیاستدان کی رہنمائی حاصل ہے۔ نواز شریف کے سیاسی کردار پر بات کرتے ہوئے شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ اگرچہ وہ اس وقت وزیر اعظم نہیں، لیکن سیاسی طور پر مضبوط ترین شخصیت ہیں۔ وہ پس منظر میں رہ کر مشورے دیتے ہیں اور یہی ان کا دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف براہ راست متحرک ہو جائیں تو سیاست کا رخ یکطرفہ ہو سکتا ہے، اسی لیے ان کا پیچھے رہنے کا فیصلہ بڑے تدبر کا مظہر ہے۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ سیاست اور معاشرتی اقدار وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں، اس لیے ہر معاملے کو موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
