سیرین اور ایئر سیال کی فلائٹس منسوخ کیوں ہونے لگیں؟

گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں اندرونِ ملک فضائی آپریشن شدید بدنظمی کا شکار نظر آتا ہے۔ ایک جانب قومی ایئرلائن پی آئی اے کی پروازیں مسلسل تاخیر اور تعطل کا شکار ہیں، تو دوسری جانب نجی ایئرلائنزسیرین ایئر اور ایئر سیال نے بھی پروازوں کی منسوخی کو معمول بنا لیا ہے، جس کے باعث جہاں مسافروں کو ایئرپورٹس پر شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔  وہیں مختلف ائیرلائنز کے کرایوں میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں 18 سے 20 ہزار روپے میں دستیاب ہونے والے ٹکٹ کی قیمت اب 50 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جس نے فضائی سفر کو عام شہری کے لیے تقریباً ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے۔
پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کی وجہ سے مسافر ایئرپورٹس پر گھنٹوں ذلیل و خوار ہوتے ہیں تاہم صورتِ حال کی سنگینی کے باوجود حکومت کی جانب سے ٹھوس اور مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے، اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف نوٹس لینے اور ایئرلائنز کی وضاحتوں پر اکتفا کر رہی ہے جبکہ اس بحران کو سنبھالنے کی سنجیدہ کوشش کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
پاکستان میں سیرین ایئر اور ایئر سیال کی اندرون ملک پروازوں کی منسوخی بارے وفاقی وزیر دفاع و ہوا بازی خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ دونوں ایئر لائنزکے ایئرکرافٹ گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے ملکی پروازیں مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔ تاہم مسلسل پروازوں کی منسوخی کا حکومت نے نوٹس لے لیاہے۔ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حال ہی میں سیرین ایئر کے قابلِ پرواز طیاروں کی عدم دستیابی کے سبب اس کا ایئر آپریٹر سرٹیفکیٹ اے او سی معطل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ایئر لائن کی دو اکتوبر 2025 سے تمام شیڈول ملکی پروازیں منسوخ ہوئیں۔جبکہ ایئر سیال کو اس ضمن میں شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایئر لائن ملکی رابطے بحال نہ کر سکی تو موسمِ سرما کے شیڈول 2025 سے اس کی بین الاقوامی پروازوں کی حد بندی و معطلی پر غور کیا جائے گا۔
تاہم جہاں اندرون ملک مختلف نجی ائیر لائنز کا شیڈول شدید متاثر ہے وہی ان کے کرایوں میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے گزشتہ چند ماہ کے دوران فضائی ٹکٹس کی قیمت تقریبا ڈبل ہو چکی ہے۔ تاہم نجی ائیر لائنز کے کرایوں میں اضافے بارے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نجی ائیرلائنز کے کرایوں کا تعین مسابقت کے اصولوں کے تحت ہوتا ہے اور یہ طلب و رسد، فضائی سروس کے معیار اور دستیاب سہولتوں کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔ ریاستی انتظامیہ کا مقصد ہوابازی کے شعبے میں حفاظت، سکیورٹی اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ خواجہ آصف کے بقول کوئی بھی ملک فضائی سفر کے کرایوں کو اس لیے فکس نہیں کرتا تاکہ قیمت، معیار اور سفری سہولتوں کے درمیان توازن برقرار رہ سکے۔
قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں نجی ائیرلائنز کی اجارہ داری کا دفاع کرتے ہوئے مزید بتایا گیا ہے کہ تاریخی طور پر ملکی سطح پر کرائے اوسطاً 25 ہزار روپے کے قریب رہے ہیں۔ تاہم چند مواقع پر بظاہر حد سے زیادہ کرایوں کا مشاہدہ صرف اس وقت ہوا ہے جب ٹکٹ خریدنے کا وقت پرواز کے مقررہ وقتِ روانگی کے بہت قریب تھا۔ ’تاہم ایسے چند واقعات کو عمومی یا نمائندہ عمل قرار نہیں دیا جا سکتا، وزارت ہوا بازی کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ایئر لائنز مسافروں سے ناجائز وصولیاں کر رہی ہیں۔ تاہم اگر پھر بھی مناسب سمجھا گیا تو زیادہ کرایوں پر ایک معقول بالائی حد مقرر کی جا سکتی ہے۔

Back to top button