جنید کی شادی پر سوشل میڈیا دو دھڑوں میں کیوں بٹ گیا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید کی دوسری شادی کو لے کر اتنی بحث کیوں ہو رہی ہے کہ سوشل میڈیا بھی ہماری قوم کی طرح دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ایک سادہ سی خاندانی تقریب کو غیر معمولی قومی مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔
بی بی سی اردو کے لیے اپنے تفصیلی تجزیے میں وسعت اللہ خان لکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ایک طبقہ اس معاملے کو مکمل طور پر نجی قرار دے رہا ہے۔ اسکا مؤقف ہے کہ شادی ایک ذاتی معاملہ اور خاندانی خوشی ہوتی ہے، لہٰذا بیگانی شادی میں کسی عبداللہ کو دیوانہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق شریف خاندان میں ماضی میں ہونے والی شادیاں بھی غیر نمایاں، خاموش اور سادگی کے ساتھ انجام پاتی رہی ہیں، خواہ وہ خود مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی شادی ہو یا پھر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی شادیاں۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ جنید، مریم نواز کا اکلوتا بیٹا ہے اور اگر ایک ماں اس موقع پر دلہن کی طرح سج کر اپنے دل کے ارمان نکالتی ہے تو اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے بقول پنجاب کے سماجی اور ثقافتی تناظر میں شادی بیاہ ہمیشہ سے ایک بڑے سماجی مظاہرے کی حیثیت رکھتے آئے ہیں، جہاں خوشی کا اظہار محدود پیمانے پر کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
وسعت اللہ خان سوشل میڈیا پر سرگرم بعض لکھاریوں اور یوٹیوبرز پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان حضرات نے جس طرح شادی کی تقاریب پر مفصل تبصرے کیے ہیں انہوں نے کوریج کے لیے کیمروں کے بجائے گویا ایکس رے مشینیں نصب کر رکھی ہیں۔ ان کے مطابق انہیں شاید پنجاب کی شادیوں میں ہونے والے عمومی اخراجات اور روایتی شان و شوکت کا اندازہ ہی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں چارٹرڈ طیاروں میں خاص مہمانوں کی آمد، پنچ ہزاری نوٹوں کی بارش میں عالیشان مجروں کا اہتمام، باراتیوں پر ڈالر، یورو اور پاؤنڈ لٹانا اور حتیٰ کہ بعض تقریبات میں قیمتی موبائل فونز تک نچھاور کر دینا کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھی جاتی۔
وسعت اللہ خان کے مطابق جنید نواز کی شادی میں تو ایسا کچھ بھی دیکھنے میں نہیں آیا، اس کے باوجود مہندی کی تقریب کے مینیو تک کا سی ٹی اسکین کر کے سوشل میڈیا پر پیش کر دیا گیا، جیسے کوئی قومی خزانے کا پوسٹ مارٹم ہو رہا ہو۔ تاہم وسعت کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے دوسرے کیمپ کی دلیل کو یکسر رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ناقدین کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کوئی شاہی خاندان یا محض امیر صنعتی گھرانہ نہیں بلکہ ایک ایسا حکمران سیاسی خاندان ہے جسے اقتدار موروثی طور پر نہیں بلکہ عوامی ووٹ کے ذریعے ملا ہے، چاہے وہ عمل کتنا ہی مشکل اور ناپسندیدہ کیوں نہ رہا ہو۔ چنانچہ ایسے خاندان کے طرزِ زندگی اور تقریبات کا موازنہ عوام کے اس طبقے سے ہونا فطری ہے جو مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی سہولیات کے فقدان سے دوچار ہے۔
وسعت اللہ خان کے مطابق اپوزیشن کی سرگرمیاں ایک الگ بحث ہیں، مگر جب کوئی شخصیت اقتدار میں ہو تو اس کی ہر ادا، ہر تقریب اور ہر اظہار عوامی تبصروں کی مشترکہ ملکیت بن جاتا ہے۔ یہی تبصرے اچھے یا برے پیغامات کی صورت دنیا بھر میں پھیلتے ہیں اور بالآخر ریاست کے مجموعی تشخص کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی لیے دنیا بھر میں بالخصوص عالمی امرا اور بااثر طبقات میں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنی نجی تقریبات کو میڈیا کی نظروں سے اوجھل رکھتے ہیں، تصاویر اور ویڈیوز کے کاپی رائٹس کا بندوبست کرتے ہیں اور نجی پن برقرار رکھنے کے لیے گھروں سے دور ’ڈیسٹی نیشن شادیوں‘ کا انتخاب کرتے ہیں۔
جنید کی دلہن نے انڈین ڈریس ڈیزائنرز کا تیار لباس کیوں پہنا ؟
وسعت اللہ خان اس بحث کی ایک بڑی وجہ پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کے ایک پرانے بیان کو بھی قرار دیتے ہیں۔ عظمیٰ بخاری نے تقریباً دو برس قبل وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے دفاع میں یہ کہہ دیا تھا کہ وہ نہایت سادہ طبیعت کی مالک ہیں اور لان کے جو سوٹ پہنتی ہیں ان کی قیمت چھ یا آٹھ سو روپے سے زیادہ نہیں ہوتی، مگر ان کا رکھ رکھاؤ ایسا ہے کہ دیکھنے والوں کو لباس مہنگا محسوس ہوتا ہے۔ وسعت اللہ خان کے بقول اس بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین وزیرِ اعلیٰ کے پیچھے ہی پڑ گئے۔ ان کے مطابق حالیہ سیلاب کے دوران مریم نواز کے امدادی دوروں کی تشہیر، ان کے جاپان، سوئٹزرلینڈ اور برازیل کے دورں کی کوریج اور اب انکے بیٹے کی شادی کی تقریبات بارے حاسدانہ اور طنزیہ تبصروں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔
وسعت اللہ خان نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی یہ بے رحم نظر صرف حکمران خاندانوں تک محدود نہیں رہی۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کی صاحبزادی عائشہ کی کئی روزہ شادی کی تقریبات کو بھی اسی شدت سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا، حالانکہ فریال تالپور کے پاس اس وقت کوئی انتظامی یا آئینی عہدہ موجود نہیں۔ وہ تو محض اپنے خاندان کی امانت دار ہیں، وسعت اللہ سوال اٹھاتے ہیں، تو کیا یہ بھی جرم ٹھہرا؟ ان کے مطابق جنید نواز کی شادی پر ہونے والی یہ بحث دراصل پاکستان میں نجی زندگی، اقتدار، عوامی حساسیت اور سوشل میڈیا کے غیر اعلانیہ احتساب کے اس تصادم کی علامت ہے، جہاں ریڈلائینز روز بروز دھندلا رہی ہیں اور ہر ذاتی خوشی ایک عوامی مقدمہ بنتی جا رہی ہے۔
