سہیل آفریدی نے فوجی جوانوں پر مساجد میں کتے باندھنے کا الزام کیوں لگایا؟

 

 

 

تحریکِ انصاف کی ماضی کی روش کے عین مطابق وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایک بار پھر مذہب کارڈ استعمال کرتے ہوئے فوجی اہلکاروں پر قبائلی علاقوں کی مساجد میں کتے لانے کا بے بنیاد الزام عائد کر دیا ہے جس سے نہ صرف سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان اختلافات کی خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے عمران خان کو خوش کرنے کے چکر میں پی ٹی آئی پر ہی سیاسی خودکش حملہ کر دیا ہے۔ جس پر مقتدر حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق عسکری قیادت نے سہیل آفریدی کے الزام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کی مرکزی قیادت کو سخت پیغام پہنچایا ہے کہ اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی نہ صرف ریاستی اداروں کے احترام کو مجروح کرتی ہے بلکہ قومی یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے ایسی بیہودہ الزامات کو قطعا برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی اسٹیبلشمنٹ مخالف جارحانہ بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم ان کے تازہ بیان نے سیاسی فضا کو ایک بار پھر شدید ہلچل میں مبتلا کر دیا ہے۔ اپنے حالیہ خطاب میں سہیل آفریدی نے بغیر کسی ثبوت کے فوجی اہلکاروں پر الزام عائد کیا کہ وہ قبائلی علاقوں کی مساجد میں کتے باندھتے ہیں۔ سہیل آفریدی نے اپنی حالیہ میڈیا گفتگو میں یہ متنازعہ دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کارروائیوں کے دوران ہم نے دیکھا کہ سیکیورٹی فورسز نے ہماری مساجد میں کتّے باندھے تھے، اور جب ہم نے اعتراض کیا تو ہمیں کہا گیا کہ ‘تم اور یہ کتّے ایک ہی جیسے ہو’۔” سہیل آفریدی کے اس بیان نے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں شدید ردِعمل پیدا کر دیا ہے۔ سہیل آفریدی کے اس بیان کو نہ صرف اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے عوام کے مذہبی جذبات بھڑکانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

 

سیاسی و مذہبی حلقوں نے سہیل آفریدی کے بیان کو سخت الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ مختلف مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، مذہبی تنظیموں کے رہنما اور سول سوسائٹی کے نمائندے اس اقدام کو “انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک” قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق، ایک صوبائی وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے سہیل آفریدی کا یہ طرزِ گفتگو ریاستی اداروں کے خلاف نفرت اور مذہبی اشتعال کو ہوا دے سکتا ہے، جو ملکی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔ دوسری جانب، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے سہیل آفریدی سے فوری معافی مانگنے اور اپنے “لغو اور بیہودہ” بیان کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کا یہ طرزِ بیان دراصل پی ٹی آئی کی ایک پرانی سیاسی مذہب کارڈ حکمتِ عملی کا تسلسل ہےجس میں وہ مذہب اور عوامی جذبات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ “پی ٹی آئی کی قیادت جب بھی دباؤ میں آتی ہے تو یا تو اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ تیز کرتی ہے یا مذہبی کارڈ استعمال کر کے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ سہیل آفریدی کے بیانات اسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔” مبصرین کے مطابق چونکہ قبائلی علاقوں میں مذہبی حساسیت بہت گہری ہے، اور اس قسم کے الزامات وہاں شدید ردعمل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لئے سہیل آفریدی نے قبائلی علاقوں کی مساجد کا ذکر کر کے وہاں کی عوام میں فوج مخالف جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے تاہم انھیں اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ ایسے بیانات نہ صرف مقامی سطح پر نفرت پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں، بلکہ یہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو جنم دے سکتے ہیں۔”

 

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق، سہیل آفریدی کی جارحانہ پالیسی دراصل عمران خان کے جیل سے جاری بیانیے کا تسلسل ہے، جس میں فوجی اداروں کو سیاسی مخالفین کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم، مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا جیسا حساس صوبہ، جہاں مذہب، روایت اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعلق انتہائی پیچیدہ ہے، وہاں اس نوعیت کی بیان بازی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کو شاید اندازہ نہیں کہ وہ جس نکتے پر کھیل رہے ہیں، وہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ مذہبی جذبات کو بھڑکانا وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتا ہے، لیکن اس کے طویل المدتی نقصان ناقابلِ تلافی ہوتا ہے۔

عاصم منیر بیک وقت 4 فوجی عہدے رکھنے والے پہلے جرنیل

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی ابھر رہا ہے کہ سہیل آفریدی کی بیان بازی نے خود ان کی سیاسی پوزیشن کمزور کر دی ہے جس کے بعد ابھی سے ہی اپوزیشن جماعتوں نے ان کے “غیر سنجیدہ رویّے” کو جواز بنا کر ان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق پاکستان کی سیاست میں مذہب کا استعمال نیا نہیں، مگر جس شدت سے تحریکِ انصاف کے بعض رہنما اسے سیاسی بقا کے آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، وہ جمہوری رویوں کے لیے ایک خطرناک نظیر بن سکتا ہے۔ مبصرین کے بقول اگر اس طرزِ سیاست کو روکا نہ گیا تو مستقبل میں مذہبی تاثر کی بنیاد پر عوامی تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔مبصرین کے مطابق، سہیل آفریدی کی جانب سے اگر یہی روش جاری رہی تو نہ صرف صوبائی حکومت کی ساکھ متاثر ہو گی بلکہ پی ٹی آئی کیلئے سیاسی راہیں مزید مسدود ہو جائیں گی۔ سہیل آفریدی کی جانب سے سیاسی میدان میں مذہبی اشتعال اور الزام تراشی کو پالیسی بنانے کے بعد لگتا ہے سہیل آفریدی کے اقتدار کا سورج زیادہ دیر تک چمک نہیں پائے گا،۔

 

Back to top button