سہیل آفریدی نے اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست ٹکر کیوں لے لی؟

 

 

وزیراعلیٰ خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی نے اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست ٹکر لیتے ہوئے صوبے میں سویلین حکومت کی مدد کے لیے فوجی اختیارات ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے، اس فیصلے سے فوج کے لیے طالبان دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے اس فیصلے سے خیبر پختون خواہ میں پاکستانی فوج کے لیے پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

 

تاہم بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سہیل آفریدی اپنے کپتان عمران خان کے دیے ہوئے پرو طالبان ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ یاد رہے کہ سہیل آفریدی نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے فوری بعد صوبائی اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ وہ کسی بھی صورت فوج کو خیبر پختون خواہ میں طالبان کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد یہ بحث بھی شروع ہوئی تھی کہ وہ اور ان کے قائد عمران خان طالبان نواز ذہن رکھتے ہیں، اور شدت پسند عناصر سے انکے ہمدردانہ رویے کی وجہ سے صوبے میں جاری فوجی کاروائیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل افریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس میں "ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشنز” کے خاتمے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت فوج کو کسی علاقے میں تعینات ہونے، شدت پسندوں کو گرفتار کرنے اور ان کو عدالت میں پیش کیے بغیر حراستی مراکز میں رکھنے کا اختیار حاصل تھا۔ اب یہ اختیار ختم کر دیا گیا ہے حالانکہ صوبہ بلوچستان میں بھی فوج کو یہ اختیارات حاصل ہیں۔

 

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلی خیبر پختون خواہ کے مشیر اطلاعات شفیع اللہ جان نے بتایا کہ صوبائی حکومت کو اس آرڈیننس پر تحفظات تھے اس لیے اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق چونکہ اس آرڈیننس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہے، اس لیے فوری طور پر اسے ختم کرنا ممکن نہیں۔خیال رہے کہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن آرڈیننس 2011 میں وفاقی حکومت کی جانب سے قبائلی علاقوں میں نافذ کیا گیا تھا، بعد میں 2019 میں اس آرڈیننس کو صوبے کے تمام اضلاع میں توسیع دے دی گئی۔ اس قانون کے تحت فوج کو شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کارروائی کی اجازت تھی۔

 

اس کے علاوہ دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران حراستی مراکز میں رکھے جانے والے افراد کی نگرانی کے لیے دو سویلین اور دو فوجی افسران پر مشتمل بورڈ بنایا گیا تھا۔ کسی بھی زیر حراست شخص کو 120 دن سے زائد حراست میں نہیں رکھا جا سکتا تھا۔

2019 میں پشاور ہائی کورٹ نے اس آرڈیننس کو غیر قانونی قرار دے دیا، مگر عمران خان کی وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی، جو تاحال زیر سماعت ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق جب تک اس کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آتا، یہ قانون نافذ العمل ہے، لیکن اگر آفریدی کی صوبائی حکومت سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپیل واپس لینے کا فیصلہ کرے تو اس آرڈیننس کی قانونی حیثیت ختم ہو جائے گی۔

 

کیا حسینہ واجد کو سزا الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش ہے؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اور سہیل آفریدی کے طالبان نواز ذہن اور انکی فوج مخالف پالیسی انہیں ایسے فیصلوں پر مجبور کر رہی ہے۔ دوسری طرف، خیبر پختون خواہ میں تحریک طالبان کی بڑھتی ہوئی دہشتگردی پاکستان کی قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے، مگر تحریک انصاف کی قیادت دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کی بجائے ان سے دوستی کا ایجنڈا لے کر چل رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خواہ حکومت کا یہ رویہ صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو کمزور کر دے گا۔

Back to top button