سہیل آفریدی کو اپنی گرفتاری کا خدشہ کیوں لاحق ہو گیا؟

پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی 9 اور 10 مئی 2023 کو پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر ہونے والے حملے کی ویڈیوز میں موجودگی کی تصدیق کے بعد ان کے گرد گھیرا تنگ ہونے جا رہا ہے اور انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت پشاور میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق ویڈیوز کی مکمل فرانزک جانچ مکمل ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔
پشاور پولیس کی درخواست پر پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق آڈیو اور ویڈیو مواد کا تفصیلی فرانزک تجزیہ کیا، جس کے بعد رپورٹ مرتب کر لی گئی ہے۔ یہ رپورٹ تھانہ شرقی پشاور کی جانب سے فراہم کردہ مواد کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، جس میں 16 ویڈیوز شامل تھیں۔
فرانزک رپورٹ کے مطابق تمام ویڈیوز کا فریم بائی فریم معائنہ کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فائل نمبر ایک سے آٹھ تک کی ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے شواہد نہیں ملے، جبکہ فائل نمبر نو میں ویڈیو ایڈیٹنگ کے بجائے مختلف فریمز کو جوڑنے کے آثار پائے گئے۔ اسی طرح فائل نمبر 10 سے 14 تک کی ویڈیوز میں صرف لوگو شامل کیے گئے، جبکہ فائل نمبر 15 اور 16 میں مختلف ویڈیو کلپس کو آپس میں ملایا گیا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی ضلع پشاور کے صدر عرفان سلیم سے متعلق ویڈیوز اصلی ہیں۔اس فرانزک جانچ کے دوران وزیر اعلی آفریدی کی پروفائل تصاویر کا ویڈیوز میں نظر آنے والے فرد سے موازنہ کیا گیا تو اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ویڈیو میں موجود شخص اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایک ہی ہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف کے رہنماؤں عرفان سلیم، کامران بنگش اور تیمور سلیم جھگڑا کی پروفائل تصاویر کا ویڈیوز میں نظر آنے والے افراد سے موازنہ کیا گیا تو تمام کیسز میں واضح مطابقت پائی گئی۔
فرانزک رپورٹ کے مطابق ایک ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کی شناخت عامر خان چمکنی کے طور پر ہوئی، جو تحریک انصاف کے رہنما ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام تجزیہ صرف ویژول مواد تک محدود رکھا گیا اور ویڈیوز کی ڈیجیٹل انٹیلی جنس ٹیبل کی مدد سے چہروں کی شناخت کی گئی۔ رپورٹ کی تیاری کا عمل 19 دسمبر سے 23 دسمبر 2025 کے دوران مکمل کیا گیا۔
واضح رہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت نے ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس میں پولیس سے فرانزک رپورٹ طلب کی تھی، جس کے بعد پشاور پولیس نے ویڈیوز کے تجزیے کے لیے مواد پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کو بھجوایا۔ ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گگیانی کے مطابق لیبارٹری کی رپورٹ پولیس کو موصول ہو چکی ہے اور اسے 10 جنوری کو عدالت میں پیش بھی کر دیا گیا ہے، جبکہ نادرا کی ایک علیحدہ رپورٹ تاحال موصول ہونا باقی ہے۔ شبیر گگیانی نے بتایا کہ ان کی جانب سے عدالت میں اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ اس مقدمے میں حکومتی عہدوں پر فائز افراد ملزمان ہیں، اس لیے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل حکومت کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 26 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی ضلع پشاور کے صدر عرفان سلیم نے فرانزک رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقدمے میں ان سمیت سہیل آفریدی، کامران بنگش اور تیمور جھگڑا کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیوز میں ان کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا رہا، تاہم ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلانے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما نے مؤقف اختیار کیا کہ جب اس کیس میں ان کا یا دیگر رہنماؤں کا نام شامل ہی نہیں تو فرانزک رپورٹ کی قانونی حیثیت نہیں بنتی۔
پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریڈیو پاکستان پشاور حملے سے متعلق ایف آئی آر نمبر 221 میں ان کا نام شامل نہیں اور نہ ہی کسی ضمنی چالان میں ان کا ذکر ہے۔ ان کے مطابق اس کیس کا ٹرائل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور مرکزی مقدمہ عدالت سے خارج ہو چکا تھا، جس میں ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عدالتی فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ استغاثہ کا مقدمہ انتہائی کمزور تھا۔
تاہم قانونی ماہرین کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت میں جلاؤ گھیراؤ کی ویڈیوز میں موجودگی کی تصدیق کے بعد تفتیشی اداروں کے لیے ان کے خلاف کارروائی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، اور آئندہ دنوں میں اس کیس میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔
