سہیل آفریدی فوج کی بجائے TTP کے ساتھ کیوں کھڑے ہو گئے؟

ایک جانب خیبر پختونخوا میں تحریکِ طالبان کی دہشت گرد سرگرمیوں میں مسلسل اضافے سے نمٹنے کے لیے گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا سوچا جا رہا ہے، تو دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایک بار پھر طالبان مخالف فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے مذاکرات کا پرچم اٹھائے میدان میں نکل آئے ہیں۔ یہ تجویز سامنے آنے کے بعد صوبے میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے کہ اس طرح کا بھونڈا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے۔
تحریکِ انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا یہ مؤقف دراصل پارٹی کے بانی عمران خان کی سوچ کا تسلسل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان ہمیشہ طالبان کے خلاف بندوق کے استعمال کے بجائے ان کے ساتھ مذاکرات کے حامی رہے ہیں۔ اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران بھی انہوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید کے ذریعے اسی پالیسی پر عمل کیا اور ہزاروں طالبان جنگجوؤں کو افغانستان سے واپس لا کر خیبر پختون خواہ میں بسایا۔ تاہم ناقدین کے مطابق اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ اس کے باوجود تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کی جانب سے تحریکِ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت بدستور جاری ہے۔
صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں کسی بھی قسم کے فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائیاں کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتیں اور امن بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں سے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ جرگہ سسٹم نے بھی آپریشن کو مسترد کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ صوبے میں آپریشن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، تاہم کوئی بھی فرد یا ادارہ زور زبردستی اپنا فیصلہ خیبر پختونخوا پر مسلط نہیں کر سکتا۔ اپنے صوبے کے وزیر اعلی ہونے کے باوجود دہشت گردی کنٹرول کرنے میں مکمل ناکامی رہنے والے سہیل آفریدی کھلے عام عمران کی پالیسی کے مطابق تحریکِ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔ ناقدین اس تناظر میں عمران خان کے دورِ حکومت کی مثالیں بھی دیتے ہیں جب ہزاروں ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو افغانستان سے واپس لا کر خیبر پختونخوا میں آباد کیا گیا تھا۔ لیکن اس فیصلے کے نتیجے میں تحریکِ طالبان دوبارہ منظم ہوئی اور آج اس کے تباہ کن اثرات اور نتائج خیبر پختونخوا کے عوام بھگت رہے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ماضی میں ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ متعدد امن معاہدے کر چکا ہے، مگر ان میں سے کوئی بھی معاہدہ پائیدار امن قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا کیونکہ طالبان کی جانب سے ہر مرتبہ معاہدہ توڑ دیا گیا۔ تحریک طالبان کی قیادت تب ہی حکومت یا فوج کے ساتھ معاہدہ کرتی تھی جب اس کی پوزیشن کمزور ہوتی تھی لیکن معاہدے کے بعد وہ دوبارہ سے اپنی طاقت اکٹھی کرتی اور معاہدہ توڑ دیتی۔ ان معاہدوں کی ناکامی کے بعد ریاست کو مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کرنا پڑیں۔ ماضی میں پاکستانی حکام نے جن عسکریت پسند رہنماؤں کے ساتھ امن معاہدے کیے، ان میں کمانڈر نیک محمد، کمانڈر بیت اللہ محسود، حافظ گل بہادر، مولانا صوفی محمد، ملا فضل اللہ، مولوی فقیر محمد اور کمانڈر منگل باغ جیسے لوگ شامل ہیں، لیکن یہ معاہدے چند ماہ سے زیادہ برقرار نہ رہ سکے۔
دہشت گردی روکنے کے لیے فوج سے پہلا بڑا امن معاہدہ اپریل 2004 میں جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی میں کمانڈر نیک محمد وزیر کے ساتھ کیا گیا۔ یہ معاہدہ مارچ 2004 میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد طے پایا، جس کا مقصد نیک محمد پر غیر ملکی ریاست مخالف جنگجوؤں سے تعلقات ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ معاہدے کے تحت حکومت نے قیدی رہا کیے اور جائیداد کے نقصان کا معاوضہ ادا کیا، جبکہ نیک محمد نے جنگجوؤں کی رجسٹریشن کرقانے اور سرحد پار حملے روکنے کا وعدہ کیا۔ تاہم یہ معاہدہ زیادہ عرصہ نہ چل سکا جس کا اختتام کمانڈر نیک محمد کی ایک ڈرون حملے میں موت پر ہوا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا تعلق قبائلی علاقے سے ہے، جس کے باعث وہ تحریکِ طالبان کے لیے ہمدردانہ جذبات رکھتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس ہمدردی کی بنیاد صرف نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ قبائلی دباؤ اور زمینی حقائق بھی ہیں۔ ناقدین آفریدی کو ایک پرو طالبان شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے بقول آفریدی نے اس تاثر کو اپنی وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد تب مضبوط تر کیا، جب انہوں نے صوبائی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر کے دوران فوجی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے واضح اعلان کیا تھا کہ وہ صوبے میں طالبان کے خلاف کسی بھی قسم کے فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔
عمران کے حامی جان دینے والے جوانوں کو ہیرو کیوں نہیں مانتے؟
سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سہیل آفریدی ماضی میں بھی جرگہ سسٹم، مذاکرات اور عسکریت پسندوں کی مین سٹریم میں شمولیت جیسے بیانیے کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ ان کے بیانات میں اکثر ریاستی طاقت کے استعمال کے بجائے قبائلی روایات، مصالحت اور مذاکرات پر زور دیا جاتا ہے، جسے ناقدین طالبان کے لیے نرم گوشہ قرار دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت خیبر پختونخوا واقعی ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور سیکیورٹی خدشات ہیں، تو دوسری طرف صوبائی حکومت اور وفاقی اداروں کے درمیان پالیسی کا اختلاف نظر آ رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا ماضی کی طرح ایک بار پھر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے گا یا ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کسی بڑے اور فیصلہ کن آپریشن کی جانب بڑھے گی۔ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
