سہیل وڑائچ نے شہباز حکومت کی بیٹری کو ڈاؤن کیوں قرار دے دیا؟

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اتحادی حکومت کی بیٹری کو ڈاؤن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی گاڑی نہ فراٹے بھر رہی ہے اور نہ ہوا سے باتیں کر رہی ہے۔ طاقتور فوجی انجن کے باوجود اس کی رفتار ایک پھٹیچر پیسنجر ٹرین جیسی ہے حالانکہ اسے تیزگام کی سپیڈ سے دوڑنا چاہئے۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت کے سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز اس قدر زیادہ ہیں کہ کچھوے کی چال امیدوں پر اوس ڈال رہی ہے۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ شہباز حکومت کی بیٹری ڈاؤن ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس وقت سیاسی لڈو پر کوئی سانپ نظر نہیں آتا اور ہر طرف سیڑھیاں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ لڈو پر سیڑھیاں ملتی رہیں تو کھلاڑی کو منٹوں میں 100کا ہندسہ عبور کر کے بازی جیت لینی چاہئے، مگر لڈو کا سفر ہے کہ طے ہی نہیں ہو رہا۔ ایک طرف فراری کار پابہ زنجیر ہے جس کے حامی اور مخالف سب کو علم ہے کہ یہ گاڑی چلتی نہیں بلکہ اڑتی ہے، اسے تھوڑا سا راستہ بھی ملا تو وہ تمام تر رکاوٹوں کو توڑ کر سب کو مات دیدے گی۔ دوسری طرف حکومتی گاڑی کا انجن زوردار ہے، رکاوٹ کوئی نہیں، راستے کھلے ہیں، ڈرائیور بھی پرانا اور تجربہ کا رہے، بظاہر آئیڈیل سچویشن ہے۔ لیکن جب سب ایک صفحے پر ہوں اور گاڑی پھر بھی بڑے گیئر میں نہ جائے تو لوگ یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ حکومتی بیٹری ڈائون ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اگر حکومتی بیٹری فُل ہو اور اس کے پیچھے سیاست کارفرما ہو تو سیاسی ڈیرے آباد ہو جاتے ہیں، ایم پی اے اور ایم این اے کے دفاتر کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں، سیکرٹریٹ میں آنے اور جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے، مگر چونکہ حکومتی بیٹری ڈائون ہے اس لئے سیاسی ڈیرے ویران پڑے ہیں، ایم این اے اور ایم پی اے جن لاکھوں لوگوں کے ووٹ لے کر آئے ہیں وہ اُن کے کاموں کیلئے انتظامیہ کو فون کرتے ہیں تو شنوائی نہیں ہوتی۔ وفاق ہو یا پنجاب، وزیروں کی اپنے وزیراعظم اور وزیراعلی سے مہینوں ملاقات نہیں ہوتی، اس وقت اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر مکمل بااختیار اور اراکین پارلیمان بے مکمل اختیار ہیں، حد تو یہ ہے کہ اب ترقیاتی اسکیموں پر شکریے کے بینر بھی ایم پی اے یا ایم این اے کے نام کے نہیں بلکہ ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر کے نام اور تصویر کے ساتھ لگائے جاتے ہیں۔ اسی لئے ایک جل بھنے رکن اسمبلی نے غصّے میں کہا ’’ایسا لگتا ہے کہ اگلا الیکشن بھی ڈپٹی کمشنر بہادر ہی لڑیں گے۔!!‘‘
سینیئر صحافی کے مطابق بیٹری ڈاؤن نظام کے حامی کہتے ہیں کہ اس وقت گڈ گورننس جاری و ساری ہے، سفارش کا کلچر ختم کرکے میرٹ لاگو کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق گڈ گورننس ہی دراصل گڈ سیاست ہوتی ہے اور اگر اس نظام کے ثمرات آئے تو ہی گڈ گورننس، گڈ نتائج لائے گی۔ دوسری طرف اس نظام کے نقاد کہتے ہیں کہ گڈ گورننس تو ٹیکنوکریٹ حکومت میں بھی ہوتی ہے۔ کیا وہ کبھی پاپولر ہوئے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ عوامی اور مقبول سیاست کیلئے لوگوں کے دل جیتنا پڑتے ہیں، جب ایم این اے اور ایم پی اے کے دفاتر آباد ہوتے ہیں تو زمین سے اقتدار کے آسمان تک ایک ڈور میں سب پروئے جاتے ہیں۔ یہی سیاسی نیٹ ورک ہوتا ہے جو آپ کو ووٹ دلاتا ہے اور مشکل میں آپ کے کام آتا ہے ۔
سہیل وڑائچ کے بقول گورننس کرنا بیوروکریٹس کا کام اور سیاست کرنا سیاستدانوں کا کام ہوتا ہے۔ ایک سابق وزیر اعظم نے اس بیٹری ڈاؤن نظام کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ایک جملے میں ساری صورتحال کو پرو دیا۔ انکا کہنا تھا کہ بظاہر موجودہ حکومت ایک آئیڈیل صورتحال میں کام کر رہی ہے۔ ملک کی دو بڑی پارٹیاں اتحادی حکومت میں شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کے پاس صرف آئینی عہدے ہیں۔ سارے اختیارات نونی حکومت کے پاس ہیں۔ مرکز اور سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایک جماعت نون کی حکومت ہے نون اور پیپلز پارٹی میں اختلاف ہوں تو فوج دھکا لگا کر ان اختلافات کو ختم کروا دیتی ہے۔ عمران خان جیل میں بند ہے اور اپوزیشن حکومت کیلئے کوئی بھی رکاوٹ ڈالنے کی پوزشن میں نہیں ہے۔ ان حالات میں تو حکومت ہر مہم آسانی سے سر کر سکتی ہے جب میدان میں آپ اکیلے ہوں اور پھر بھی آپ قلعہ سَر نہ کر سکیں تو الزام آپ ہی پر آئے گا.
سینیر صحافی کہتے ہیں کہ آئیے دیکھتے ہیں کہ اسوقت حکومتی بیٹری کیوں ڈاؤن ہے اور اسے کونسے دو بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اب تک جو قانون سازی کی ہے اور جو مسائل طے کئے ہیں وُہ بہت زیادہ اختلافی نہیں تھے۔ پہلے جو کام آسانی اور معمولی دھکے سے ہو جاتے رہے ہیں این ایف سی، نئے صوبے اور دیگر آئینی معاملات میں دونوں جماعتوں کے درمیان اور پھر فوج سے سوچ میں اختلافات حائل ہیں اسلئے بیٹری ڈاؤن حکومت کا گہری خلیج کے اوپر سے چھلانگ لگا کر گزرنا ناممکن ہے۔ اس کیلئے ایک ایک سنگ میل کو عبور کرنا پڑے گا۔
انکے مطابق دوسرا بڑا مسئلہ نونی جماعت کے اندر کا ہے۔ گو چچا وزیراعظم شہباز شریف اور بھتیجی وزیراعلیٰ مریم نواز ہیں، دونوں کے خوشگوار تعلقات ہیں اور بظاہر کوئی اختلاف نہیں لیکن وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی سمتوں اور اہداف میں بہت فرق ہے۔ وفاقی حکومت سے جڑے پیپلزپارٹی کے آئینی عہدیدار ہوں یا نون کے وفاقی وزرا، سبھی کو پنجاب کی صوبائی حکومت سے شکوے اور شکایتیں ہیں۔ وفاق میں جب بھی کوئی غیر رسمی اجلاس ہوتا ہے اسی طرح کی آوازیں سننے میں آتی ہیں اور جب کوئی نونی دانشمند معاملہ طے کروانے کیلئے سپریم لیڈر نواز شریف کے پاس لے جانے کی بات کرتا ہے تو اسے جواب ملتا ہے کہ نواز شریف وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ دونوں کو آزادانہ کام کرنے دیتے ہیں اور ان کے فیصلوں میں کم ہی مداخلت کرتے ہیں۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ وفاق اور پنجاب کے عدم تعاون پر سب پریشان ہیں لیکن کسی کے پاس بھی اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ خلیجی جنگ نے بھی معاشی مسئلے کو نیا رخ دیدیا ہے مگر حکومتی بیٹری کی سب سے بڑی خرابی معاشی مینجمنٹ میں ہے۔ باوجود مسلسل کوششوں کےغیرملکی سرمایہ کاری لانے میں مکمل ناکامی ہوئی ہے۔ صوبۂ پنجاب میں 50 فیصد صنعتیں بند ہیں۔ پنجاب کی صنعتوں کیلئے 19000 میگا واٹ کی بجلی منظور ہے لیکن اسوقت اس میں سے صرف 2800 میگاواٹ استعمال ہو رہی ہے۔ پنجاب میں صنعتوں کیلئے بجلی کا یونٹ 32 روپے فی میگاواٹ ہے، لیکن صوبہ سندھ میں صنعتوں کی صورتحال کافی بہتر ہے کیونکہ سندھ حکومت نے صنعت کاروں کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے ہوا سے بجلی بنانیوالے یونٹس سے نوری آباد کیلئے خصوصی ٹرانسمیشن لائن بنائی اور اب وہاں صنعتوں کیلئے بجلی 15 روپے فی یونٹ مہیا ہے۔ گویا پنجاب میں سندھ کے مقابلے میں صنعتوں کیلئے بجلی دوگنا مہنگی ہے۔
ماہرین معیشت سکڑتے ہوئے بزنس، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور سودی معیشت کے اضافے کو غلط معاشی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک تحقیقی ادارے کے مطابق قیام پاکستان سے لیکر 2023ء تک کے 70 سال میں بینکوں میں کل جمع شدہ رقم 23 ٹریلین روپے تھی لیکن سود کا ریٹ بڑھنے سے لوگوں نے بزنس بند کرکے رقم بینکوں میں جمع کرا دی اور گھر بیٹھے سود کھانے لگے۔ صرف 2024ء کے سال میں ڈپازٹ 30 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ اب سود کا ریٹ کم ہوکر 10.5 فیصد ہوگیا مگر اب بھی کاروبار کرنا نقصان دہ اور بینک میں پیسے رکھوانا فائدہ مند ہے۔ اسی لئے 2025ء میں مزید 7 ٹریلین روپے بینکوں کے ڈپازٹ میں چلے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بینکوں کا سارا ڈپازٹ حکومت سود پر ادھار لیتی ہے اور پھر بینکوں کا وہی سود عوام میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ یعنی کاروبار بند، معیشت ٹھپ، بس زبانی کلامی سودوں پر سودی کام جاری ہے جسکی وجہ سے ملکی زرعی اور معاشی نمو ہو ہی نہیں پا رہی۔ کسی بھی ملک کی بیٹری اس کی معیشت ہوتی ہے لیکن جب معیشت نہ چلے تو بیٹری ڈائون ہونا لازم اور ناگزیر ہو جاتا ہے۔
امریکہ اور ایران کی جنگ کی پاکستان پہنچنے کا خطرہ؟
سہیل وڑائچ کے بقول اس نظام کے چیلنجز بہت بڑے ہیں۔ اگر حکومتی بیٹری اسی طرح ڈائون رہی تو کسی نہ کسی کو اسے ری چارج کرنا پڑے گا۔ ہر کوئی گواہی دیتا ہے کہ بیٹری ڈائون ہونے میں وزیراعظم شہباز شریف کا کوئی قصور نہیں۔ وُہ تو بہت محنت کر رہے ہیں لیکن کچھ مسائل ان سے بھی بڑے ہیں۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا سسٹم موجودہ حکومتی خامیوں کی کاسمیٹک سرجری کر کے اسے ٹھیک کرنے میں کامیاب ہو پائے گا کیونکہ اگر حکومتی بیٹری ڈائون ہی رہی تو پھر گاڑی چلانے والے بدلنا پڑیں گے۔
