سہیل وڑائچ نے دوبارہ قومی حکومت کا چورن کیوں پیش کر دیا؟

سینئر صحافی اور جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکرپرسن سہیل وڑائچ نے ایک مرتبہ پھر قومی حکومت کا چورن پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال پاکستان میں نہ تو کوئی فوری سیاسی قیامت آنے کا امکان ہے اور نہ ہی وزیراعظم شہباز شریف کہیں جا رہے ہیں، تاہم اگر سیاسی قیامت ناگزیر ہو گئی تو ایک تین سالہ قومی حکومت تشکیل دیے جانے کا امکان ہے جس میں عمران خان کی تحریک انصاف سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتیں شامل ہوں گی۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ نے قومی حکومت کے تصور کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس مجوزہ سیٹ اپ کو محض نگراں حکومت کا متبادل نہ سمجھا جائے، یہ ایک عبوری نہیں بلکہ نسبتاً طویل اور پائیدار بندوبست ہوگا جو کم از کم تین برس تک کام کرے گا۔ اس دوران ایسی دور رس اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی جن سے ملک کو سیاسی استحکام اور معاشی سمت مل سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ آئینی ترامیم اور انتظامی تبدیلیوں پر بھی مختلف حلقوں میں غور و خوض جاری ہے۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ شبھ شبھ بولنا چاہیے، فی الحال شہباز حکومت کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں۔ تاہم جب حکومت کی آئینی مدت مکمل ہو گی، چاہے ایک سال بعد یا دو سال بعد، تو قومی حکومت کے قیام کا امکان موجود ہے۔ ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ شہباز شریف اپنی سیاسی مہارت سے آنے والے سیاسی بحران کو کتنی دیر تک مؤخر کر سکتے ہیں اور موجودہ سیٹ اپ کو کتنی مدت تک چلا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی حکومت کا مطالبہ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی جانب سے کیا جا رہا ہے، جبکہ عمران خان کو بھی اس تجویز سے اصولی اختلاف نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مطالبہ بظاہر اپوزیشن کا ہے، لیکن اسے فوج کے لیے بھی قابلِ قبول تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ اسے اپنانے سے سیاسی کشیدگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق تحریک انصاف طویل المدتی نگران یا پائیدار قومی حکومت کی خواہاں نہیں، جبکہ حکومت سازی میں کردار ادا کرنے والے حلقے چاہتے ہیں کہ اگر ایسی حکومت قائم ہو تو کم از کم تین سال تک کام کرے اور مصالحتی فضا کے ساتھ مستقبل کا واضح سیاسی و معاشی روڈ میپ دے۔ تجزیہ نگار کے مطابق اس وقت تحریک انصاف کے ساتھ جو نسبتاً ہولا ہاتھ رکھا کیا گیا ہے، اس میں مسلم لیگ (ن) اور فوج دونوں ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد خود کو سخت گیر نظام نافذ کرنے کے تاثر سے بچانا، عالمی سطح پر ساکھ بہتر رکھنا، معاشی ماحول کو سازگار بنانا اور مفاہمت کے ذریعے اندرونی استحکام پیدا کرنا ہے۔

سینیئر صحافی نے موجودہ صورتحال کو چرچل کی جنگی کابینہ کے متبادل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر قومی حکومت بنتی ہے تو اس کی بنیادی ذمہ داری ملک کو بحران سے نکالنا ہوگی۔ سہیل وڑائچ کے مطابق حالیہ عرصے میں شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے، خصوصاً شہباز شریف کی سفارتی سرگرمیوں اور مسلسل محنت نے انہیں سیاسی طور پر مزید مستحکم کیا ہے۔ ان کے بقول اس وقت فیصلہ ساز حلقے دفاعی پوزیشن میں نظر آتے ہیں جبکہ وزیراعظم کو پہلے سے زیادہ گنجائش حاصل ہو چکی ہے۔ شہباز شریف طاقت کے ایوانوں کی باریکیوں کو بخوبی سمجھتے ہیں، ناراضی کو ظاہر کیے بغیر اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کا ہنر جانتے ہیں اور مشکل فیصلوں کو مؤخر یا مؤثر انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سہیل وڑائچ کا کہنا یے کہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں شہباز شریف کے حقیقی مد مقابل عمران خان نہیں بلکہ محمود خان اچکزئی ہیں۔ دونوں رہنماؤں کا طویل سیاسی تجربہ ہے، مگر اندازِ سیاست مختلف ہے۔ ان کے مطابق شہباز شریف ویلنگ ڈیلنگ کے ماہر ہیں اورماضی میں فوج کے ساتھ ہونے والی اہم مفاہمتوں میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب محمود خان اچکزئی کو وہ ایک ایسے سیاستدان کے طور پر پیش کرتے ہیں جو برسوں سے فوج پر تنقید کے باوجود سیاسی نظام کا حصہ بنے رہے اور آئینی بالادستی کے داعی ہیں۔ سینئیر صحافی کے مطابق اگر مقابلہ طاقت کے ایوانوں تک محدود رہا تو شہباز شریف کو برتری حاصل ہوگی، لیکن اگر فیصلہ سیاسی میدان یا پارلیمان میں ہوا تو محمود خان اچکزئی نمایاں ہو سکتے ہیں۔

سہیل وڑائچ کے مطابق قومی حکومت کی سوچ نئی نہیں بلکہ 2024ء کے انتخابات کے بعد ہی سے اس پر غیر رسمی بات چیت جاری ہے۔ تاہم اب تحریک انصاف کی رضامندی نے اس تجویز کو تقویت دی ہے۔ ان کے بقول ممکن ہے یہ سیٹ اپ تین سال کے بجائے پانچ سال تک بھی چلے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگلے انتخابات سے قبل قومی حکومت کا قیام ایک مضبوط امکان ہے۔ لیکن اگر قومی حکومت نہ بنی اور مجوزہ اصلاحات پر عملدرآمد نہ ہوا تو انتخابات کے انعقاد پر بھی سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ ان کے مطابق عوام ایک ایسی قومی حکومت کے منتظر ہوں گے جو انتخابی نظام، سیاسی ڈھانچے اور معیشت میں اہم ترین بنیادی اصلاحات کرے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک ان اصلاحات کی تفصیلات سامنے نہیں آتیں، حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ ان کے بقول اگر ترامیم وسیع تر مشاورت اور مفاہمت کے ذریعے نافذ کی گئیں تو ملک مزید مستحکم ہو سکتا ہے، لیکن اگر یہ اقدامات شخصی اقتدار کے استحکام یا وقتی سیاسی مفادات کے لیے ہوئے تو ان کا انجام بھی سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور کی اصلاحات جیسا ہو سکتا ہے، جو اسکے آمرانہ اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی غیر مؤثر ہو گئیں۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ آج ملکی سیاسیت مستحکم نظر آتی یے لیکن سیاست میں کل کیا ہو گا، اس بارے میں حتمی پیشگوئی ممکن نہیں۔ لہذا قومی حکومت کسی بھی وقت بن سکتی ہے۔

Back to top button