سولر صارفین کو اچانک لاکھوں روپے کے بجلی بل کیوں آنے لگے؟

 

 

 

لیسکو سمیت دیگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نئی پالیسی کے نام پر سولر صارفین کے ایکسپورٹ کردہ کروڑوں یونٹس میں پیرپھیر کرنا شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں جنوری میں آنے والے بجلی کے بھاری بلوں نے سولر صارفین کے چھکے چھڑا دئیے ہیں۔ بجلی کمپنیوں کی چالبازیوں کی وجہ سے سولر صارفین اپنی پیداکردہ بجلی کے باوجود تمام استعمال شدہ یونٹس کا بل دینے پر مجبور ہیں۔

 

واضح رہے کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارف دن کے وقت اپنی اضافی پیدا ہونے والی بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرتا ہے اور رات یا ضرورت کے وقت گرڈ سے بجلی استعمال کرتا ہے۔ مہینے کے اختتام پر صارف کے برآمد شدہ یونٹس اور امپورٹ شدہ یونٹس کو آپس میں منہا کیا جاتا ہے۔ اگر صارف نے زیادہ بجلی گرڈ کو دی ہو تو اس کا بل کم ہو جاتا ہے یا بعض صورتوں میں صفر بھی آ جاتا ہے۔موجودہ نظام میں سولر صارفین کو برآمد شدہ بجلی پر وہی ریٹ ملتا ہے جو انہیں بجلی خریدنے پر ادا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم حکومت نے نئی سولر پالیسی کے تحت نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کروا رکھا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت سولر صارف کی درآمد شدہ بجلی پر قومی ٹیرف لاگو کیا جاتا ہے جبکہ برآمد شدہ بجلی کے یونٹس کو ایک علیحدہ مقررہ ریٹ یعنی 27 روپے فی یونٹ پر خریدا جاتا ہے۔نئے بلنگ فارمولے کے مطابق سب سے پہلے صارف کے استعمال شدہ یونٹس پر قومی ٹیرف کے مطابق بل بنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد سولر صارف کی جانب سے گرڈ کو دی گئی بجلی کے یونٹس کا بل 27 روپے فی یونٹ کے حساب سے منہا کئے جاتے ہیں۔ اگر منفی کرنے کے بعد بل باقی رہتا ہے تو صارف کیلئے اس کی ادائیگی لازمی ہوتی ہے۔

 

تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ نئی پالیسی آنے کے بعد بجلی کمپنیوں نے نیٹ میٹرنگ کنکشن کے حامل لاکھوں صارفین کے بنائے یونٹس کو بل کا حصہ بنانا ہی بند کر دیا ہے اور سولر سسٹمز کے پیدا کردہ یونٹس کو سسٹم سے ہی غائب کر دیا ہے جس کے بعد سولر صارفین سے بھی ان کے استعمال شدہ تمام یونٹس کا بل چارج کیا جا رہا ہے۔ ایکسپورٹ شدہ یونٹس کو بجلی بلوں کا حصہ بنائے بغیر سولر صارفین کو بھاری بل بھجوائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈسکوز نے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو لائن لاسز چھپانے اور صارفین کی حوصلہ شکنی کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جس سے سولر صارفین بھاری بلوں کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی وجہ سسٹم کی تکنیکی خرابی ہے، جس کے تحت نیٹ میٹرنگ سسٹم میں ایکسپورٹ کردہ یونٹس کا ریکارڈ صحیح طور پر برقرار نہیں رکھا جا رہا۔ اس کے علاوہ، میٹر ریڈنگ میں انسانی یا تکنیکی غلطیاں بھی اس معاملے کا ایک اہم عنصر ہیں، جس سے صارفین کے یونٹس غلط شمار ہو سکتےہیں۔ کچھ توانائی کے ماہرین ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی جانب سے ایکسپورٹ ڈیٹا کو اپ ڈیٹ نہ کرنا بھی اس بحران کی وجہ قرار دے رہے ہیں، جس سے سولر صارفین کی جانب سے پیدا کی گئی بجلی کے بلوں میں درست حساب شامل نہیں ہو پا رہا اور صارفین بجلی کے بھاری بل دینے پر مجبور ہیں۔ سولر ماہرین کے بقول اگر یہ مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو نہ صرف صارفین کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں متبادل توانائی کے فروغ کے منصوبے بھی شدید متاثر ہوں گے کیونکہ سولر صارفین کی جانب سے پیدا کردہ بجلی کے یونٹس کا صحیح طور پر کریڈٹ نہ ملنا نہ صرف ان کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے بلکہ سرمایہ کاروں کی بھی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔” ماہرین کے بقول ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو شفاف اور جدید ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم متعارف کروانا چاہیے، تاکہ ایکسپورٹ یونٹس اور بلوں کا حساب درست اور بروقت کیا جا سکے کیونکہ فوری تحقیقات اور اصلاح کے بغیر سولر صارفین کے اعتماد پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور ملک میں توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔

عمران خان کی تصاویر والی پتنگوں پر پنجاب حکومت کی پابندی

ذرائع کے مطابق جہاں نئی پالیسی کے بہانے سولر صارفین کو بھاری بل بھجوائے جا رہے ہیں وہیں ڈسکوز نے گزشتہ دو ماہ سے نیٹ میٹرنگ کنکشنز اور نئے معاہدے بھی روک رکھے ہیں جبکہ ہزاروں صارفین کے معاہدے مکمل ہونے کے باوجود انہیں میٹر فراہم نہیں کیے جا رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رویے سے نہ صرف سولر صارفین کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ملک میں متبادل توانائی کے فروغ کی کوششیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ صارفین حکومت اور ڈسکوز سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں شفافیت لائیں اور سولر یونٹس کو بلوں میں شامل کر کے صارفین کے حقوق کی حفاظت کریں۔

 

Back to top button