اسٹیبلشمنٹ مخالف اچکزئی فوج کی پیداوار عمران کے ساتھ کیوں گئے؟

سینئیر صحافی رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اچکزئی ایک زمانے میں اصول پرست سیاستدان سمجھے جاتے تھے لیکن اب پنجاب اور سندھ کے دیگر سیاستدانوں کی طرح وہ بھی پاور پالیٹکس کے شوقین بن چکے ہیں اور ان کی زبان کو بھی اقتدار کی سیاست کا چسکا لگ چکا ہے۔ اب وہ پرانے محمود اچکزئی نہیں رہے، اسی لیے ساری زندگی فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست کرنے والے اچکزئی اب اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار عمران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اب وہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو پاور پالیٹکس کرنے کے طعنے مارنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ سیاستدانوں کی بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے لیے منتیں کرنے والے عمران خان کے وکیل بن کر اچکزئی نے اپنی اصول پسندی کا جنازہ نکال دیا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ میں اکتوبر 2002ء سے خواجہ آصف کو اسمبلی میں تقاریر کرتے دیکھ رہا ہوں۔ ان پر جو کیفیت تقریر کرتے ہوئے طاری ہوتی ہے‘ اس کا کوئی جواب نہیں۔ خواجہ آصف کی بعض تقاریر تو یادگار ہیں۔ ایک تقریر انہوں نے اپنے والد خواجہ صفدر کے بارے کی تھی جب انہوں اسمبلی میں کھڑے ہو کر باقاعدہ معافی مانگی تھی کہ ان کے والد کو جنرل ضیا الحق کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا اور وہ ان کے بیٹے کی حیثیت سے قوم سے معافی مانگتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب جنرل پرویز مشرف حکمران تھے اور نواز لیگ زیرِ عتاب تھی۔ خواجہ آصف پرویز مشرف کی وجہ سے نیب کے ہاتھوں جیل بھگت چکے تھے‘ ان کے یہ زخم تازہ تھے لہٰذا وہ اپنی تقاریر سے پورے ہاؤس کے دل گرماتے تھے۔ انہوں نے اُن دنوں اپنی تقاریر میں فوج پر سخت تنقید بھی کی جس کا حوالہ عمران خان نے حال ہی میں اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بھی دیا۔ عمران کا کہنا تھا کہ فوج پر جتنی تنقید خواجہ آصف اور احسن اقبال نے کی ہے آج تک کسی نے نہیں کی۔

لیکن کلاسرا کہتے ہیں کہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کے حوالے دے دے کر عمران خان فوج پر جو تقدیر کرتے آئے ہیں اس کا بنیادی مقصد اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کر کے مذاکرات پر مجبور کرنا ہے لیکن وہ اپنے اس مقصد میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ فوج پر تنقید کا جو ریکارڈ عمران نے بنایا ہے اسے کوئی نہیں توڑ سکتا۔ پچھلے دنوں تو ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے 1971ء کے پس منظر میں ایک ایسی وڈیو بھی ٹویٹ کی گئی تھی جس پر وہ خود بھی گھبرا گئے رھے کہ کیا کر بیٹھے ہیں‘ لہٰذا اب چاہے خان صاحب خواجہ آصف اور احسن اقبال کے کندھوں پر بندوق رکھ کر جتنے بھی فائر کرتے رہیں، فوجی اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ بات چیت پر آمادہ نظر نہیں آتی۔

روف کلاسرا کہتے ہیں کہ عمران کی جانب سے حکومت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی خواہش لے کر چلنے والے محمود خان اچکزئی بارے خواجہ آصف نے اگلے روز دلچسپ تقریر کی۔ انہوں نے اسمبلی ہال میں محمود اچکزئی پر طنز کے تیر برسا کر انہیں ان کا ماضی یاد دلایا تو بیچارے اچکزئی کو کوئی جواب نہ سوجھا اور وہ بیٹھے دیکھتے رہے کہ خواجہ آصف کو کیا جواب دیں۔ دوسری جانب خواجہ آصف کو بھی علم تھا کہ یہی موقع ہے‘ محمود خان اچکزئی کو جتنا رگڑا لگایا جا سکتا ہے‘ لگا لیا جائے۔ خواجہ آصف جانتے تھے کہ اچکزئی صاحب بھی تقریر کیلئے مشہور ہیں لیکن اس ایشو پر وہ جواب نہیں دے پائیں گے۔ خواجہ آصف حیرانی سے پوچھ رہے تھے کہ بھلا اچکزئی جیسا ‘اصول پسند جمہوری انسان‘ اب فوج کی پیداوار عمران کا نمائندہ بن کر سیاست دانوں کی بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے تیار ہوگیا ہے؟ انکا سوال تھا کہ یہ چمتکار کیسے ہوا؟ خواجہ آصف نے کہا کہ محمود اچکزئی تو ساری عمر کہتے رہے ہیں کہ وہ فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف ہیں اور اتنا خلاف ہیں کہ بات کرنا تو دور کی بات‘ وہ ان سے کبھی ہاتھ بھی نہ ملائیں۔ لہازا اب اچانک اچکزئی صاحب عمران کا نمائندہ بن کر فوج سے بات چیت کے لیے کیسے تیار ہوگئے؟ آخر کون سی مجبوری آن پڑی کہ اچکزئی نے اپنے برسوں کے سیاسی اصول عمران کی سیاست پر قربان کر دیے اور خان کو ناں کرنے کی ہمت بھی نہ کر سکے؟

روؤف کلاسرا کہتے ہیں افسوس کہ عمران نے اچکزئی جیسے بندے کو اپنی لائن پر لگا لیا ہے اوراب وہ پی ٹی آئی کے دیگر ورکرز کی طرح بن چکے ہیں جنہیں بغیر کوئی سوال جواب کیے خان کے کہے پر عمل کرنا ہے؟ خواجہ آصف کہتے ہیں کہ اچکزئی عمران کا نمائندہ کیسے بن سکتے ہیں جو کہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ فوج سے بات کرنا چاہتا ہے۔ خواجہ آصف کے لیے صدمے کی بات تو یہ ہے کہ پشتون قوم پرست اچکزئی اس کام کے لیے تیار بھی ہوگیا۔ یعنی محمود اچکزئی بھی ہار مان کر پنجاب کے سیاستدانوں کی طرح ہو گئے ہیں اور اب ان کیلئے اب اپنے پرانے مؤقف پر ڈٹے رہنا ممکن نہیں رہا۔ بقول کلاسرہ، اب اچکزئی بھی سندھ‘ پنجاب اور دیگر صوبوں کے سیاستدانوں کی طرح پاور پالیٹکس کا شکار ہو گئے ہیں جہاں اقتدار اور عہدے ہی سب کچھ سمجھے جاتے ہیں۔ کلاسرا کے مطابق عمران نے بڑی سمجھداری سے اچکزئی کو آصف زرداری کے مقابلے صدر کے الیکشن پر اپنا امیدوار بنایا‘ کیونکہ اچکزئی نے عمران کے حق میں ایک تقریر کی تھی۔ یہ وہی عمران ہیں جو ماضی میں اپنے جلسوں اور تقریروں میں دوپٹہ لیکر اچکزئی کا مذاق اڑاتے اور ان پر جملے کستے تھے۔ ایسا کرتے ہوئے عمران کہا کرتے تھے کہ اچکزئی نواز شریف کے ساتھ اس لیے مل گئے تاکہ اپنے بھائی کو گورنر بلوچستان اور رشتہ داروں کو وزیر لگوا سکیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پنجاب کو طعنے دینے والے اچکزئی نے اسی پنجاب کے سیاست دان کے پاس رائیونڈ میں بیٹھ کر اپنے بھائی کو گورنر لگوایا۔ پختون اور بلوچ قوم پرستوں نے پاور شیئرنگ کے لیے بھی رائیونڈ کا انتخاب کیا۔ عمران بھی اس لیے اچکزئی سے ناراض تھا کہ وہ تو اچکزئی کو دیوتا سمجھتا تھا جسے کوئی سیاسی رشوت نہیں خرید سکتی لیکن اس نے اپنے بھائی کے لیے گورنر شپ لے کر پنجاب کے لیڈروں سے سمجھوتا کر لیا۔ پہلے اچکزئی پنجاب کے لیڈروں سے ناراض رہتا تھا کہ وہ فوج کے ذریعے پاور میں آتے ہیں اور ڈیلیں کرتے ہیں۔ اب وہی اچکزئی عمران کا نمائندہ بن کر فوج کے نمائندے سے خفیہ یا اعلانیہ ملاقات کیلئے تیار ہے۔ یہی بات تھی جس پر خواجہ آصف ان پر طنز کے تیر برسا رہے تھے کہ آپ کیسے اپنا قبلہ بدل کر عمران خان کی سیاست کو اونرشپ دے رہے ہیں۔ کلاسرا کے خیال میں اچکزئی عمران کا نمائندہ بن کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں اور ساری عمر کا اپنا فوج مخالف بیانہ خود خراب کر رہے ہیں۔

Back to top button