ایران پر حملے نے ٹرمپ کی صدارت خطرے میں کیوں ڈال دی؟

اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر ایک بھیانک غلطی کر بیٹھے ہیں جس کے نتیجے میں وہ عالمی تنہائی کا شکار ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران پر تھوپی گئی جنگ کا نتیجہ بالاخر ٹرمپ کی صدارت کے خاتمے کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔
ٹرمپ کے ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی صدارتی مہم کے دوران امریکیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں ادھر ادھر جنگیں چھیڑ کر دور دراز کی سرزمینوں کے تنازعات میں نہیں الجھائیں گے۔ لیکن ان کا ’امریکہ فرسٹ‘ کا نعرہ ایک ایسی جنگ کے لیے ترک کر دیا گیا ہے جس کی نہ تو کوئی واضح وجہ نظر آتی ہے اور نہ ہی کوئی واضح ہدف نظر آتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت نے عالمی طاقتوں کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ایران پر اسرائیل کے ساتھ مل کر کیے گئے حملے نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اقدام ان کے اپنے بیانیے سے واضح انحراف ہے۔ ان کی صدارت کے لیے انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ امریکہ اور اس کے عوام کو غیر ضروری جنگوں سے دور رکھا جائے گا، لیکن موجودہ صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایران پر تھوپی گئی جنگ کا مقصد کیا ہے۔ کیا یہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے ہے، یا اس کا ہدف ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا ہے؟ یاد رہے کہ جون 2025 میں جب امریکہ نے ایران پر حملے کیے تھے تو صدر ٹرمپ نے یہ دعوی کیا تھا کہ ایران کی نیوکلیئر تنصیبات مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہیں اور اس کی میزائل بنانے کی صلاحیت بھی ختم ہو گئی ہے۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر ایران کی نیوکلیئر صلاحیت اور میزائل بنانے کی صلاحیت ختم ہو گئی تھی تو پھر اب ٹرمپ دوبارہ یہ بات کیوں کر رہے ہیں کہ ایران کی نیوکلیئر صلاحیت ختم کرنا ضروری ہے۔
ناقدین یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ اگر جون 2025 میں امریکی حملوں نے ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت ختم کر دی تھی تو جنگ چھڑنے کے دو ہفتے بعد بھی ایران خلیجی ممالک اور اسرائیل پر میزائل اور ڈرون کیسے داغتا چلا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسی میں تضاد نمایاں ہے۔ ایک طرف سخت فوجی کارروائی کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی بات کی جاتی ہے، جس سے حکمت عملی میں ابہام پیدا ہوتا ہے۔ ایک جانب کہا جاتا ہے کہ ایران کی مرکزی قیادت ختم کر دی گئی ہے اور امریکہ جنگ جیت چکا ہے جبکہ دوسری جانب مغربی ممالک سے ایران پر دباؤ ڈلوا کر آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل کی جاتی ہے، جسے مسترد کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکی عوام کو ایران کے خلاف جنگ کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں کیا گیا تھا۔ نہ ہی ٹرمپ حکومت کی جانب سے کوئی جامع بیانیہ پیش کیا گیا کہ یہ قدم کیوں اٹھایا گیا اور اس کے مقاصد کیا ہیں، جس کے باعث عوامی سطح پر شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ تیل کی ترسیل متاثر ہونے سے نہ صرف یورپ اور ایشیا بلکہ خود امریکہ بھی توانائی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
سفارتی سطح پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کے قریبی اتحادی بھی بعض اہم پالیسی اقدامات پر ان کا ساتھ دینے سے گریزاں ہیں، جس سے امریکہ کی عالمی پوزیشن متاثر ہو رہی ہے۔ ایران کی جانب سے سخت ردعمل اور نئی قیادت، خصوصاً مجتبیٰ خامنہ ای کے امریکہ سے انتقام لینے کے بیانات نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ اس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ جنگ مزید طول پکڑ سکتی ہے۔
امریکی داخلی سیاست میں بھی اس فیصلے کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ پالیسی ساز حلقوں میں اختلافات بڑھ رہے ہیں اور بعض اہم شخصیات اس جنگ پر کھل کر تنقید کر رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ طویل اور مہنگی ثابت ہوتی ہے تو اس کے سیاسی نتائج بھی سنگین ہو سکتے ہیں، اور یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
کیا مجتبیٰ خامنہ ای واقعی علاج کے لیے روس پہنچ گئے ہیں؟
موجودہ صورتحال میں اگر یہ کہا جائے تو بے جانا ہوگا کہ صدر ٹرمپ ایران پر حملہ کر کے ایک سنگین غلطی کر بیٹھے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واضح حکمت عملی اور سفارتی حل سامنے نہ آیا تو یہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی نظام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اور بالآخر یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
