ثمر بلور کی نون لیگ میں شمولیت سے بلور خاندان کیوں بکھرگیا؟

سیاست میں لئے گئے بعض فیصلے تاریخ کا رُخ موڑ دیتے ہیں، عوامی نیشنل پارٹی اے این پی کی سابق رہنما، ثمر ہارون بلور نے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوکرایک خاندان، ایک جماعت، اور شاید ایک پوری سوچ کی تبدیلی کی کہانی لکھ دی ہے۔ جس کے بعد عوامی نشنل پارٹی کا ستون سمجھا جانے والا بلور خاندان اب قصہ پارینہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ ثمر بلور کی نون لیگ میں شمولیت کے بعد اے این پی کی طاقت سمجھا جانے والا بلور خاندان ٹکڑے ٹکڑے ہوتا نظر آتا ہے۔
غلام احمد بلور، بشیر احمد بلور، ہارون بلور – یہ وہ نام ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا، خاص طور پر پشاور کی سیاست کو کئی دہائیوں تک اپنے مضبوط کندھوں پر اٹھائے رکھا۔ قوم پرستی، پشتون حقوق اور سیکولر سیاست کے ترجمان اس خاندان نے اے این پی کو نہ صرف اپنا سیاسی گھر بنایا بلکہ اس کی طاقت کا اصل منبع بھی بنے رہے۔ تاہم، دہشت گردی کی ایک لمبی اور خونی تاریخ نے اس خاندان کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔ بشیر احمد بلور اور ان کے بیٹے ہارون بلور کی شہادت نے صرف ایک جماعت کو نقصان نہیں پہنچایا، بلکہ بلور خاندان کے حوصلے، عزم اور مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
ثمر ہارون بلور کی سیاست میں آمد ایک ذاتی المیے کا نتیجہ تھی۔ 2018 میں اپنے شوہر ہارون بلور کی خودکش حملے میں شہادت کے بعد، ثمر بلور میدان سیاست میں آئیں اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشست جیت کر اپنی سیاسی بصیرت کا آغاز کیا۔ متاثرہ بیوہ سے ایک باقاعدہ سیاسی رہنما تک کے سفر میں انھوں نے دہشتگردی، خوف، معاشی مشکلات اور جماعتی سیاست کی پیچیدگیوں سے گزر کر اپنا راستہ خود بنایا۔
مبصرین کے مطابق ثمر بلور کا مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونا صرف پارٹی بدلنے کا عمل نہیں، بلکہ نظریاتی بنیادوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کا سخت اور طنزیہ ردعمل کہ "ثمر بلور کو جو نشست ملی، وہ شہداء کے لہو کی بدولت تھی”درحقیقت پارٹی کے اندرونی جذبات کا ترجمان ہے۔
تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق ثمر بلور کا ن لیگ میں جانا ان کی خاندانی سیاسی شناخت کی طرف واپسی ہے، کیونکہ ان کے والد اور نانا دونوں مسلم لیگ سے وابستہ تھے۔ یعنی ان کا اے این پی سے تعلق، ازدواجی اور خاندانی حالات کا نتیجہ تھا، نظریاتی وابستگی کا نہیں۔ اس لئے ثمر بلور اپنے خاندانی مرکز کی طرف واپس لوٹ گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک وقت تھا جب بلور ہاؤس پشاور کی سیاست کا مرکز تھا، مگر آج وہی گھر فروخت ہو چکا ہے، اور خاندان اسلام آباد منتقل ہو چکا ہے۔ غلام احمد بلور نے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ثمر بلور سمیت دیگر افراد نے مختلف سیاسی راستے اختیار کیے—ثمر (ن) لیگ میں، غضنفر بلور پی ٹی آئی میں جبکہ باقی افراد نئے ٹکھانوں کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس سے صاف ظاہر ہے کہ بلور خاندان اب متحد سیاسی قوت نہیں رہا، بلکہ بکھرتی ہوئی شناختوں کا ایک نمونہ بن چکا ہے۔
مبصرین کے بقول ن لیگ کے لیے پشاور جیسے مشکل سیاسی میدان میں اے این پی کی پرانی حلیف ثمر بلور کو توڑ کر اپنی موجودگی مضبوط کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔وزیراعظم سے ملاقات، قومی اسمبلی کی نشست کا وعدہ، اور پارٹی میں مرکزی کردار—یہ سب اس بات کا اظہار ہیں کہ ن لیگ ثمر بلور کو محض علامتی حیثیت نہیں دے رہی بلکہ ان سے حقیقی فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ناقدین کے مطابق ثمر ہارون بلور کا فیصلہ بلاشبہ ان کا ذاتی حق ہے، مگر یہ فیصلہ اے این پی کے لیے صرف ایک رکن کی جدائی نہیں بلکہ ایک علامت کا زوال ہے۔ یہ علامت ایک ایسے خاندان کی تھی جس نے جانوں کا نذرانہ دے کر ایک نظریے کا پرچم بلند رکھا۔ اب جب کہ وہ پرچم ہاتھ سے چھوڑا جا چکا ہے، سوال یہ نہیں کہ ثمر بلور کہاں گئی ہیں، سوال یہ ہے کہ اے این پی اپنی نظریاتی زمین کو کس طرح محفوظ رکھے گی، اور کیا ن لیگ اس نئے اتحادی کو وہ مقام دے سکے گی جس کا وعدہ کیا گیا ہے؟ کیونکہ سیاست میں اصول اکثر مفادات کے آگے ہار جاتے ہیں، لیکن تاریخ صرف ان اصولوں کو یاد رکھتی ہے جو آخر تک نبھائے جاتے ہیں۔
