کپتان کا ٹرول بریگیڈ فوج کو گالیاں دینے پر کیوں اتر آیا؟

وزیر اعظم عمران خان کی یقینی رخصتی کے پیش نظر حکمران جماعت تحریک انصاف کے ٹرول بریگیڈ نے

سوشل میڈیا پر فوجی قیادت کے خلاف گندی گالیوں پر مبنی ایک نفرت آمیز مہم شروع کر دی ہے

جس کا بظاہر مقصد فوج کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے غیر نیوٹرل ہونے اور کپتان کا ساتھ دینے پر مجبور کرنا ہے۔ لیکن اس حکومتی مہم نے ان خدشات کو بھی جنم دیا ہے کہ کہیں عمران فوجی قیادت کو گالیاں دلوا کر موجودہ سیاسی بساط لپیٹنے کا جواز تو مہیا نہیں کر رہے تاکہ ان کا "نہ کھیڈاں گے، تے نہ کھیڈن دیاں گے”، کا ایجنڈا پورا ہو جائے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے ٹرول بریگیڈ نے فوجی قیادت کے خلاف نام لیکر گندی گالیوں کی جو مہم شروع کی ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس غلیظ مہم میں حکومتی اراکین بھی حصہ ڈال رہے ہیں اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس مہم کا آغاز کچھ ہفتے پہلے خود وزیراعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل کیے جانے کے بعد ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا۔

انہوں نے سیاست نیوٹرل میں ہو جانے کا دعوی کرنے والی فوجی قیادت کو جانور قرار دے دیا تھا۔ یہی پی ٹی آئی کے ٹرول بریگیڈ کی جانب سے فوجی قیادت پر حملے کا نقطہ آغاز تھا۔ اب پاکستانی سوشل میڈیا پر صورتحال یہ ہے کہ فوجی قیادت کی تصاویر کے ساتھ انہیں گندی سے گندی گالیاں لکھی جا رہی ہیں اور گالیاں دینے والے تحریک عدم اعتماد کا مدعا اسٹیبلشمنٹ کے سر ڈال رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر وزیراعظم سے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو برطرف کرنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

تاہم ناقدین کو خدشہ ہے کہیں عمران خان اپنے اقتدار کے خاتمے کا یقین ہو جانے کے بعد جان بوجھ کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اکسا کر سیاسی بساط لپیٹنے پر مجبور تو نہیں کرنا چاہتے تاکہ اقتدار ان کے ہاتھ سے نکل کر انکے سیاسی مخالفین کے ہاتھ میں نہ جا سکے۔ اس معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ عمران فوج کو جانور قرار دے رہا ہے جبکہ اسکی سوشل میڈیا ٹیم اداروں کیخلاف پروپیگنڈا کررہی ہے، لہذا آئی ایس پی آر اور عدلیہ اس مہم کا نوٹس لے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ ہم ہارے ہوئے شخص کو عوام کی قسمت سے کھیلنے نہیں دیں گے، عمران خان کی کوشش ہے جمہوری عمل سے بھاگیں، اس لیے وہ گالیاں دے کر کوشش کر رہے ہیں کہ ادارے نیوٹرل نہ رہیں، انکا کہنا تھا کہ عمران ملک میں آئینی بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے، بلاول نے کہا کہ عمران نے نیوٹرل کو جانور کہنے کے باوجود آج تک اس پر معافی نہیں مانگی بلکہ اپنا یہ مؤقف دہرارہے ہیں۔ بلاول نے مطالبہ کیا کہ عمران کی میڈیا ٹیم اور وزرا فوج کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں اس کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا جائے، وزیراعظم اور وزرا کی کوشش ہے کہ اداروں کو متنازع بنایا جائے، انہوں نے عمران سے پوچھا کہ کیا مدینہ کی ریاست اجازت دیتی ہے کہ آپ کسی کے خلاف ایسی گندی زبان استعمال کریں.

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے ترجمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی میڈیا ٹیم کو فوجی قیادت کو بدنام کرنے اور گالیاں دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ شہباز شریف کے ترجمان ملک احمد خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کہا کہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کو یقینی دیکھ کر عمران خان بوکھلا گئے ہیں اور اپنے سوشل میڈیا ٹرول بریگیڈ کو فوجی قیادت کے پیچھے لگا دیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جس ریاست میں ادارے کی مرکز ی اتھارٹی تحلیل ہو جائے اس کا وجود خطرے میں پڑ جا تا ہے۔

منحرف ممبران اسمبلی واپس آ جائیں معاف کر دوں گا

ان کا کہنا تھا کہ عمران کی اس سازش کا مقصد موجودہ جمہوری نظام کی بساط لپیٹنا بھی ہو سکتا ہے لہٰذا فوجی قیادت کے خلاف جاری مہم کو فوری طور پر کروانا ہو گا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے سوشل میڈیا پر نئے آرمی چیف کی تقرری کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نیوٹرل ادارے کے سربراہ کے خلاف وزیر اعظم نے کوئی قدم اٹھایا تو اپوزیشن اسے تسلیم نہیں کرے گی، انکا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں اکثریت کھونے کے بعد عمران حکومت ختم ہو چکی ہے اور اب ملک میں ایک غیر آئینی حکومت ہے جس کا ہر اقدام غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

مسلم لیگ قاف کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر فوجی قیادت کے خلاف گالیوں بھری مہم کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری سالک حسین نےکہا ہے کہ تحریک انصاف  کی سوشل میڈیا ٹیم اور حکومتی رکن قومی اسمبلی کنول شوذب کی جانب سے فوجی قیادت پر جھوٹے الزامات ناقابل برداشت ہیں۔

چوہدری سالک نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اس گندی اور ملک دشمن مہم کا نوٹس لیں ورنہ ہم ایسے ملک دشمنوں سے نمٹنا خوب جانتے ہیں۔

دوسری جانب حسب توقع وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد نے کہا ہے کہ پاکستان دشمن سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈسپلے بدل کر فوج کیخلاف طوفان بدتمیزی برپا کیے ہوئے ہیں جسکا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آج فوج کو گالیاں دینے والے یہی سوشل میڈیا اکاونٹس ماضی میں نواز لیگ کے حق میں مہم چلاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انشا اللہ عمران خان اور فوج میں کبھی تفرقہ نہیں آسکتا کیونکہ وزیر اعظم فوج کو پاکستان کے تحفظ کا ضامن سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر جن اکاؤنٹس سے فوجی قیادت کے خلاف گندی مہم چلائی جا رہی ہے وہ تحریک انصاف کے لوگ ہی چلا رہے ہیں۔

Why did the captain’s troll come down to insult the brigade?

Back to top button