پاکستان میں چینی شاپنگ ایپ ٹیمو نے ہر چیز مہنگی کیوں کر دی؟

سستی چیزیں بیچنے کی وجہ سے پاکستان میں تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے والی آن لائن چینی شاپنگ ایپ "ٹیمو” نے اچانک یو ٹرن لیتے ہوئے ہر شے کی قیمت میں اچھا بھلا اضافہ کر دیا یے جو پاکستانیوں کے لیے پریشان کن ہے۔
گذشتہ ماہ جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو کی ’ٹیمو کاپی‘ قرار دیا تھا تو ساتھ ہی وضاحت بھی دی تھی کہ انکی مراد ’سستی کاپی‘ تھی کیونکہ چین کی آن لائن شاپنگ ایپ ٹیمو پر چیزیں خاصی سستی ملتی ہیں۔۔۔ لیکن ٹیمو کی جانب سے اچانک مہنگائی کرنے کے بعد بلاول بھٹو اپنا بیان واپس لینے پر سوچ سکتے ہیں۔ اس سے پہلے گھر کے لیے سی سی ٹی وی کیمرا درکار ہو، پانی کی بوتل ہو یا میک اپ کا سامان، سستی خریداری کے لیے پاکستانیوں میں ٹیمو ‘دراز’ جیسے دیگر آن لائن سٹورز کو پیچھے چھوڑ کر بہت آگے نکل گئی تھی۔ لیکن جیسے ہی جون کا مہینہ ختم ہوا اور کلینڈر پر یکم جولائی کی تاریخ آئی، ٹیمو پر موجود ہر شے کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی۔ کھانے کی چھ پلیٹس جو پہلے 900 روپے میں مل رہی تھیں اب ان کی قیمت 3000 روپے ہو گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی صارفین ٹیمو پر اشیا کی قیمتیں بڑھنے پر خاصے مایوس دکھائی دیے۔ کچھ صارفین نے یکم جولائی سے قبل ٹیمو سے خریدی اشیا کی تصاویر کے ساتھ انکی کم قیمتوں کے بارے میں لکھا جبکہ اکثر اد پچھتاوے کا اظہار کرتے نظر آئے کہ آخر انھوں نے ٹیمو کے کارٹ میں جو اشیا بعد میں خریدنے کی نیت سے رکھی تھیں، وہ انھوں نے آرڈر کیوں نہیں کیں۔ کچھ صارفین نے حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کے بجٹ میں عائد ٹیکسز کو بھی اس غیر متوقع اضافے کا ذمہ دار ٹھرایا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ٹیمو سے ’سستی‘ خریداری کرنے والے صارفین کے لیے اب یہ آن لائن اہپ انتہائی مہنگی ہو گئی ہے۔
بی بی سی اردو نے ٹیکس جمع کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے یہ معاملہ سمجھنے کی کوشش کی۔ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پاکستانی حکومت نے ’ڈیجیٹل ٹیکس ایکٹ‘ متعارف کروایا ہے، جس کے مطابق بیرون ملک سے پاکستان میں فروخت ہونے والی اشیا پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے اہلکار نے بتایا کہ غیر ملکی آن لائن شاپنگ سٹور پاکستان میں اشیا تو بیچتے ہیں لیکن کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’پاکستان میں کوئی بھی چیز بیچی جائے تو اس پر ٹیکس دینا لازمی ہوتا ہے۔ ایک سیلز ٹیکس اور ایک انکم ٹیکس۔۔۔‘ انھوں نے مثال دی کہ ’پاکستان میں اگر کوئی مینوفیکچرر دو شرٹس بناتا اور بیچتا ہے تو اس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس اور ساتھ 35 فیصد انکم ٹیکس بھی دیتا ہے لیکن باہر کی کمپنیاں جیسے ایمازون، علی ایکسپریس، علی بابا، ٹیمو وغیرہ پاکستان میں اشیا فروخت تو کرتی ہیں لیکن کسی قسم کا کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتیں۔‘
ایف بی آر کے اہلکار نے کہا کہ ’جو شخص یا کمپنی شرٹس امریکہ یا چین میں بنا کر پاکستان میں بیچ رہے تھے ان کا 18 فیصد سیلز ٹیکس بچ جاتا تھا لیکن جو یہاں پاکستان میں بنا کر فروخت کر رہا ہوتا تھا اسے نقصان ہو جاتا تھا۔ یہ سراسر عدم مساواتنکا نظام تھا۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’جب بیرون ملک سے اشیا پاکستان آنے لگیں تو پاکستانی مینوفیکچررز کی چیزیں فروخت نہیں ہو رہی تھیں۔ لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کے لیے بھی ضروری تھا کہ پاکستان میں بیرونِ ملک سے آنے والی کوئی چیز فروخت ہو تو وہ اتنا ٹیکس تو دیں نہ جو مقامی پراڈکٹ کی فروخت پر دیا جاتا ہے۔‘ ان کے مطابق اسیلیے ’ڈیجیٹل ٹیکس ایکٹ‘ متعارف کروایا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ پارلیمان میں اس معاملے پر بات بھی ہوئی اور یہ ٹیکس عائد کرنے کا بل منظور ہوا۔ انھوں نے وضاحت کی کہ باہر سے آنے والی اشیا پر انکم ٹیکس اس لیے نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ ان کمپنیوں کے پاکستان میں برانچ آفس نہیں۔
ایف بی آر کے اہلکار کے مطابق اس کے علاوہ ان آن لائن پلیٹ فارمز یا شاپنگ سٹورز کو پانچ فیصد ٹیکس کے علاوہ 18 فیصد سیلز ٹیکس بھی دینا ہو گا جیسے باقی پاکستانی دیتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکس ٹیمو پر قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ بنا ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے چونکہ اگر پاکستانی حکومت نے پانچ فیصد ٹیکس لگایا ہے تو ٹیمو نے اشیاء کی قیمتوں میں 300 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے جس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
