23مارچ کو تقسیم کیے گئے سول اعزازات متنازعہ کیوں ہو گئے؟

پاکستان میں 23 مارچ کو ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کی خدمات کے اعتراف میں دیے جانے والے سول اعزازات متنازعہ ہو گے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اعزازات پانے والوں میں وہ شخص بھی شامل ہے جس نے توشہ خانہ سکینڈل میں انکشاف کیا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے عمران خان کو بطور وزیر اعظم تحفے میں دی گئی گھڑی انہوں نے فرح گوگی سے خریدی تھی۔
14اگست کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارکردگی دکھانے اور گراں قدر خدمات سرانجام دینے والے افراد کے لیے سرکاری اعزازات کا اعلان معمول کی بات ہے لیکن گذشتہ برس کی طرح اس برس بھی یہ سرکاری فہرست اس وقت موضوع بحث بن گئی جب اس میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی عمر فاروق کا نام دکھائی دیا۔ عمر فاروق نامی اس کاروباری شخصیت نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو دیا جانے والا خصوصی گفٹ سیٹ، جس میں ایک گھڑی بھی شامل تھی، سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر کے ذریعے سابق وزیر اعظم کی اہلیہ کی قریبی دوست فرح خان سے دبئی میں دو ملین ڈالر کے عوض خریدا۔
عمر فاورق کو سماجی شعبے میں خدمات سرانجام دینے پر ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔ جب ان کی اس ایوارڈ کے لیے گذشتہ برس 14 اگست کو نامزدگی ہوئی تھی تو کیبینٹ ڈویژن کے ایک افسر نے تصدیق کی تھی کہ یہ وہہ شخصیت ہیں جن کا نام عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں سعودی ولی عہد کی جانب سے سابق وزیراعظم کو تحفے میں ملنے والی بیش قیمت گھڑی کے خریدار کے طور پر سامنے آیا تھا۔
مجموعی طور پر صدر آصف زرداری نے 23 مارچ یومِ پاکستان کے دن مختلف شعبوں میں 69 ملکی اور غیر ملکی شخصیات کو سول ایوارڈز سے نوازا۔ ان میں ایک سابق وزیر اعظم کے علاوہ کئی صحافیوں کے نام بھی شامل ہیں۔
چند برسوں سے جب بھی یہ موقع آتا ہے تو ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی سامنے آ جاتا ہے کہ ان ایوارڈز میں ’سفارش‘ اور ’دباؤ‘ کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔ صحافیوں میں ایوارڈ حاصل کرنے والی نمایاں شخصیات میں سینئیر اینکر ہرسن منیب فاروق، حسن ایوب، کامران شاہد، مزمل سہروردی، نصر اللہ ملک اور سرور منیر راؤ شامل ہیں۔ ایوارڈ کی تقریب میں بتایا گیا کہ یہ صحافی مصدقہ خبریں چلاتے ہیں اور بہت جانفشانی سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ اس بار حکومت نے بہت سی شخصیات کو یہ ایوارڈ دیے لیکن کچھ ناموں کو اس حتمی فہرست سے نکال بھی دیا جو خود گذشتہ سال 14 اگست کو جاری کی گئی تھی۔
ہر سال ایوان صدر میں منعقد ہونے والی اس پروقار تقریب کو دیکھیں تو بہت سے ایسے نام بھی شامل ہوتے ہیں جنھیں بعد از مرگ ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ شاید ان کی زندگی میں ان کی خدمات حکومت کی کمیٹی اور متعلقہ وزارتوں سے اوجھل ہوتی ہیں یا ان کی ترجیح میں شامل نہیں ہوتیں۔ اس کی ایک مثال سعادت حسن منٹو ہیں جن کی وفات کے دہائیوں بعد ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔
صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق یہ ایک روایتی تقریب ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ آئین میں بہت واضح لکھا ہے کہ کن کو یہ ایوارڈ دیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک بار 1973 کے آئین کے معماروں میں سے ایک عبدالحفیظ پیرزادہ نے سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ایک تقریر کا حوالہ دیا تھاجس میں سرحدوں کی حفاظت اور نرسنگ کے شعبے کے علاوہ ایوارڈ پر انھوں نے تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ’جو ہم کر رہے ہیں یہ ہمارے فرائض میں شامل ہے۔‘ مظہر عباس کے مطابق پاکستان میں اس وقت یہ ایوارڈ ’سیاسی رشوت کے طور پر اور نوازنے کے لیے زیادہ دیا جاتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس تقریب کو اب ’ایوارڈ دینے کا اور نوازنے کا جمعہ بازار بنا دیا ہے۔‘
مظہر عباس کے مطابق ماضی میں کچھ لوگوں کی ایسی مثالیں بھی ہیں کہ انھوں نے یہ ایوراڈ لینے سے انکار کیا ہے۔ تاہم ان کی رائے میں زیادہ تر لوگ یہ ایوارڈ لے لیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ایوارڈ کی ایک شان ہوتی ہے اور یہ واضح ہونا چاہیے کہ کس کو کن خدمات کے عوض یہ ایوارڈ دیا جا رہا ہے۔‘
’صحافت کے خاروگُل‘ کے مصنف اور سینیئر صحافی اشرف شاد نے بتایا کہ ایوارڈ سے نوازنے کا یہ سلسلہ مستقل ایک ہی لگے بندھے انداز میں چلا آ رہا ہے۔ اشرف شاد نے کہا کہ اب حکومت تو کبھی ایسے شخص کو ایوارڈ دے گی نہیں کہ جو اس کی حقیقی کارکردگی پر بات کرے یا اس کی خامیوں کو آشکار کرے۔ ان کے مطابق اس وقت دو چار نہیں بلکہ میڈیا کا بڑا حصہ حکومت اور اس کے اداروں کے ہاتھوں میں ہی ہے۔ ایوارڈ سے متعلق اشرف شاد کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ’حکومت نے ان ایوراڈ کا کوئی کارخانہ خریدا ہوا ہے، کوئی بھی ملک میں آتا ہے تو اسے بھی ایوارڈ پہنا دیا جاتا ہے۔‘ ان کی رائے میں ’ایوارڈ کی تقریب اب یہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں رہ گیا ہے۔ پتا نہیں کیوں اس چیز کو لوگ گلے میں ڈال کر فخر محسوس کرتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا جب صحافت ہی اس طرح نہ ہو رہی ہو تو پھر ایوارڈ کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ بظاہر ایسی تقریبات پر ہی ملک چل رہا ہے۔‘
اس بار کی ایوارڈ تقریب دیکھ کر سابق صدر عارف علوی فوری طور پر سوشل میڈیا پر نمودار ہوئے۔ انھوں نے اپنے دور میں ایک تقریب سے صحافی ارشد شریف کو ایوارڈ دینے پر لکھا کہ انھیں خوشی ہے کہ انھوں نے پاکستان کے عوام کی طرف سے میرٹ پر ایوارڈ دیا تھا۔
صحافی مطیع اللہ جان نے اس ایوارڈ تقریب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’لگے ہاتھوں ایک اور تمغہ جمہوریت بھی دے دیا جاتا۔‘ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر کے پہلے دور حکومت میں اس وقت کے آرمی چیف اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت سے نوازا گیا تھا۔ صحافی ماجد نظامی کا اس حوالے سے کہنا یے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس سکینڈل کے شہرت یافتہ، سندھ میں شوگر ملوں کے مالک، اومنی گروپ کے سربراہ اور آصف علی زرداری کے قریبی دوست خواجہ انور مجید کو پاکستان کے دوسرے بڑے سول اعزاز ’ہلال امتیاز‘ سے نوازا کیا گیا ہے۔ انھوں نے تجویز دی ہے کہ ان کی خدمات پر تو انھیں نشان امتیاز دینا چاہیے تھا۔ ناروے میں مقیم صحافی عفت حسن رضوی نے عمر فاروق کو ایوارڈ دیے جانے پر تبصرہ کیا کہ ’کیا خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ناروے میں فراڈ کے الزام میں مفرور ملزم کو پاکستان میں سول ایوارڈ دیا جا رہا ہے۔
