پاکستان میں عمرانی انقلاب کا خواب ناکامی کا شکار کیوں ہو گیا ؟

عمران خان کے سابقہ بہنوئی اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث تحریک انصاف کے رہنماؤں کو سزائیں سنانے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ نوشتہ دیوار تھا چونکہ ریاست خود پر حملہ اور ہونے والوں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان میں نہ تو کسی باغی کا کوئی مستقبل ہے اور نہ کسی انقلاب کی کامیابی کا کوئی امکان ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی لکھتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ لمبے عرصے تک چلے گا چونکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پاس اب اور کوئی چوائس باقی نہیں نہیں۔ انکے مطابق موجودہ سیٹ اَپ تاحد نگاہ برقرار رہیگا اور شہباز شریف کی حکومت کو دور دور تک کوئی خطرہ لاحق نظر نہیں آتا۔ موجودہ سیٹ اَپ میں تبدیلی کا سوچا بھی گیا تو نئی قیادت کو آزمایا جائیگا۔ دوسری طرف فوج کو للکارنے والوں کیلئے پیغام یہ ہے کہ انہیں ایسا کرنے پر قید و بند ’’پلس‘‘ بھگتنی ہوگی۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے جانب سے 9 مئی کے حملوں میں ملوث ملزمان کو سزائیں کپتان کے لیے توجہ دلاؤ نوٹس کی طرح ہیں۔ اللہ تعالیٰ خان کو ’’قید و بند پلس‘‘ سے محفوظ رکھے۔ نیازی کہتے ہیں کہ آج کے سیاسی حالات کی مشرقی پاکستان سے مطابقت نے مجھے جنرل خادم راجہ کی کتاب سے بار بار رجوع کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ اس کتاب سے مجھے ایک ہی سبق ملا ہے کہ ملک کی سلامتی، سیاسی استحکام میں مضمر ہے اور سیاسی بحرانوں کا حل صرف اور صرف سیاستدانوں کے پاس ہے۔ 1970 کے انتخابات کروانے والے جنرل خادم یہی باور کرواتے رہے لیکن تب کے فوجی حکمران کو یہ بات سمجھ نہ آ پائی۔
حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق، جنرل پرویز مشرف، اور جنرل قمر باجوہ کو کسی حد تک سیاسی سپورٹ میسر رہی۔ جنرل آغا محمد یحییٰ خان کا نہ ہی عوام الناس سے رابطہ تھا اور نہ ہی جنرل یحٰیی کو رابطے میں دلچسپی تھی۔ چنانچہ 8 دسمبر 1970 کی صبح انتخابی نتائج دیکھ کر جنرل یحییٰ خان کا سکتے میں آنا بنتا تھا، وجہ یہ ہے کہ ایک ڈکٹیٹر کو بھی کم از کم سیاسی عوامی حمایت چاہئے ہوتی ہے جو یحییٰ خان کے پاس سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ چنانچہ جنرل یحییٰ خان نے فوری طور میجر جنرل عمر کو 1970 کے انتخابی نتائج روکنے اور تبدیل کرنے کا حکم صادر فرما دیا۔
حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں یہ بحث فضول ہے کہ موجودہ سیٹ اَپ سے کون کتنا راضی ہے اور کس حد تک ناراض ہے، حالات کا جبر اور تقاضا یہی کہ اسی ’’حکومتی کمپنی‘‘ پر گزار اوقات کے علاوہ کوئی چارہ ہے نہیں۔ ویسے بھی فوج کے پاس کوئی اور آپشن ہے ہی نہیں یہ بھی درست ہے کہ جیل میں بند بانی تحریک انصاف عمران خان کا واحد ایجنڈا فوجی قیادت سے انتقام لینا ہے۔ اپنے اس مشن میں خان آخری حد تک جائے گا، چاہے اسے مارشل لا ہی کیوں نہ لگوانا پڑ جائے۔
نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان کی منتقم مزاجی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران موصوف بھارت کی جیت اور پاکستان کی شکست کی آس لگائے بیٹھے تھے تاکہ ان کے عسکری مخالفین کا دھڑن تختہ ہو جائے، یعنی خان نے دشمن کا دشمن اپنا دوست بنا لیا، تاہم پاکستان کی شاندار فتح نے انکی اُمیدوں پر اوس ڈال دی۔
حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان کی ہمشیرہ پچھلے کئی مہینوں سے فوج مخالف بیانیہ آگے بڑھاتے ہوئے جو زبان استعمال کر رہی ہیں وہ سراسر حماقت اور جہالت ہے۔ ایسی زبان پاکستان کے بدترین دشمن بھی استعمال کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایسی ہی غیر دانشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے عمران خان کی پانچ اگست کی کال کا بھی دھڑن تختہ ہو چکا ہے۔ آج کی تاریخ میں دور دور تک کسی احتجاج اور کسی تحریک کے کوئی آثار موجود نہیں ہیں۔ عمران خان کے دائیں بائیں دو اقسام کے حواری موجود ہیں، ایک تو چوم چوم کر مارنے والے ہیں اور دوسرے پیٹھ میں خنجر مارنے میں مہارت رکھتے ہیں ۔ میرا دھڑکا اور خدشہ مختلف کہ لگڑ بھگڑ احتجاج پر PTI کو اس بار 26؍نومبر 2024ءسے بھی زیادہ بھیانک قیمت نہ چکانی پڑ جائے۔ عمران کے بیٹوں کی احتجاج میں شرکت کے لیے پاکستان آمد کا شوشہ بھی سیاسی ناپختگی کا مظہر ہے اور عمران کے مسائل میں اضافہ کرے گا۔
حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ عمران کے حواری ان کی رہی سہی سیاست کو ہلکان کرنے پر کمربستہ ہیں، اللہ جانے وہ عمران کو غلط مشورے دے دے کر اسکی جماعت کا کیا حشر کریں گے۔ بفرض محال اگر عمران کے بیٹے پاکستان قدم رنجہ فرماتے بھی ہیں اور نامساعد حالات کا سامنا بھی کر لیتے ہیں تو بھی سوال یہ ہے کہ کیا وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو شکست دے پائیں گے۔ ایسا کیے بغیر عمران خان کو جیل سے نکلوانا ممکن نہیں ہے۔ پچھلی مرتبہ عمران کی گرفتاری کے بعد فوجی تنصیبات پر حملے کرنے والے یوتھیوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے اس کے پیش نظر اس ملک میں کسی انقلاب کا کوئی امکان نظر نہیں آتا اور نہ ہی کوئی باغی ابھرتا نظر آتا ہے۔
