الیکشن کمیشن نے 9 مئی کے مجرموں کو اتنی پھرتی سے نااہل کیوں کیا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے 9 مئی کے مقدمات میں سزائیں پانے والے اراکین پارلیمنٹ کو ہمارے الیکشن کمیشن نے جس پھرتی کے ساتھ نااہل کیا ہے وہ حیران کن ہے چونکہ ابھی تو ان لوگوں نے اپنی سزاؤں کے خلاف بڑی عدالتوں سے رجوع کرنا ہے اور وہاں سے فیصلے آنا باقی ہیں۔

نصرت جاوید اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ ماضی میں جب الیکشن کمیشن کسی رکن قومی یا صوبائی اسمبلی کو نااہل قرار دیتا تھا تو وہ عدالتوں سے سٹے لے کر ایوان ہی میں براجمان رہتا تھا۔ اس تناظر میں اہم ترین مثال عمران دور حکومت کی ہے جب قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو انتخابی ہیراپھیری کے الزام میں نااہل قرار دیا گیا تھا۔ لیکن موصوف سٹے آرڈر کی بدولت سابقہ حکومت کے آخر ی دنوں تک قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بنے رہے۔ عمران خان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد بھی انہوں ہی نے قومی سلامتی کے خلاف قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے فیصلے کے خلاف رات گئے سپریم کورٹ کا ہنگامی اجلاس ہوا اور بالآخر یہ قرار پایا کہ وزیر اعظم کے خلاف اگر تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں باقاعدہ جمع ہوجائے تو اسے صرف ایوان میں گنتی کے ذریعے منظور یا رد کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا تحریک عدم اعتماد پر گنتی ہوئی جس کا نتیجہ عمران کے خلاف آیا۔ وزارت عظمیٰ سے اس بنیاد پر فارغ ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا حصہ رہنے کی بجائے تحریک انصاف کے اراکین نے اپنے کپتان کی ہدایت پر وہاں سے مستعفی ہونے کو ترجیح دی۔ اگر پی ٹی آئی یہ فیصلہ نہ کرتی تو غالباََ قاسم سوری 2018 میں منتخب ہوئی اسمبلی کی پانچ سالہ آئینی مدت ختم ہونے تک اسنکے رکن ہی رہتے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ فروری 2004 کے الیکشن کے بعد سے ملکی قوانین میں بے شمار تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ آئین کی 26ویں ترمیم نے تو آئین میں ایک نیا باب ہی شامل کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں بحث کے بغیر ہونے وقلی تبدیلیوں کی وجہ سے اکثر پاکستانی اس بارے میں قعطاََ لاعلم ہیں کہ مختلف ترامیم اور 26ویں ترمیم کے ذریعے پہلے سے موجود قوانین میں کیا تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ اپنی لاعلمی کے باوجود میں یہ جان کر بہت حیران ہوا کہ الیکشن کمیشن نے 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں سینیٹر اعجاز چودھری کے علاوہ قومی اسمبلی کے رکن احمد چٹھہ اور پنجاب اسمبلی کے رکن اور قائد حزب اختلاف احمد بھچر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزائیں سنانے کے فوراََ بعد ہی ان ایوانوں کی رکنیت سے محروم کردیا جن کے وہ رکن تھے۔

میری دانست میں سنگین ترین جرم میں بھی نچلی عدالت سے سزا سنائے جانے کے باوجود ملزم کو اس کے خلاف اپیل کا حق میسر ہوتا ہے۔ عدالت سے اپنی سزا پر نظرثانی کی درخواست سنے جانے کے بعد وہ سٹے آرڈر کی بدولت اس ایوان میں اپنی نشست پر براجمان رہ سکتا ہے جس کا وہ رکن تھا۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ سینیٹر اعجاز چودھری لاہور کوٹ لکھپت جیل میں قید کاٹ رہے ہیں۔ 9 مئی کے کیسز میں سزائیں سنائے جانے کے بعد احمد چٹھہ اور احمد خان بھچر کی روپوشی کی خبریں گردش میں ہیں۔ مجھے خبر نہیں کہ ’’روپوشی‘‘ کے دوران وہ عدالتوں سے اپنے لئے ریلیف کی کوشش کس انداز میں سرانجام دیں گے۔ لیکن بظاہر وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوشی اختیار کر چکے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ حال ہی میں سینٹر منتخب ہونے والے تحریک انصاف کے فیصل جاوید اور مراد سعید کے ساتھ بھی ہے جو گرفتاری سے بچنے کے لیے مسلسل روپوش ہیں، بجائے کہ گرفتاری دے کر اپنے خلاف الزامات کا سامنا کریں۔

نصرت جاوید کے بقول تحریک انصاف کے حامی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اپنی تعلیمی ڈگریاں جعلی ثابت ہونے کی بنیاد پر الیکشن کمیشن سے نااہل ہوئے جمشید دستی بارہا کاوشوں کے باوجود لاہور ہائی کورٹ میں اپنی نااہلی کے خلاف اپیل کو باقاعدہ سماعت کی درخواست سمیت اب تک جمع ہی نہیں کرو اسکے۔ ان کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہوئی نشست پر بھینانتخابی شیڈیول کا اعلان ہو چکا ہے۔ سینیٹر اعجاز چودھری، احمدچٹھہ اور احمد بھچر کی الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نااہلی کے بعد پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین باقاعدہ دھینگا مشتی ہوئی۔ قائم مقام سپیکر کو ماحول پرامن رکھنے کے لئے کارروائی معطل کرنے کے علاوہ سکیورٹی سٹاف سے بھی مدد لینا پڑی۔ اپوزیشن کے کم از کم دو اراکین پنجاب اسمبلی کو بطور سزا چند دنوں کے لئے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔

پنجاب کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی داشتہ کیوں قرار دے دیا گیا؟

قصہ مختصر اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں حکومتی اور اپوزیشن بینچ مسلسل ’’تخت یا تختہ‘‘ والے معرکوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔میرا مشاہدہ کہتا ہے کہ ’’تخت یا تختہ‘‘ کے عالم میں ہوئے ’’ضمنی انتخابات‘‘ سیاسی فضا میں ہلچل مچاتے ہیں۔ 1988 میں جنرل ضیاء کی فضائی حادثے میں ہلاکت کے بعد انتخاب ہوئے تو بھٹو کی بیٹی وزیر اعظم بن گئیں۔ انہیں اقتدار سنبھالتے ہی لاہور سے قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں ضمنی الیکشن میں حصہ لینا پڑا۔ پیپلز پارٹی کے بھاری بھر کم وزراء کی اکثریت لاہور میں موجود رہ کر اس انتخاب میں جیت یقینی بناتی رہی۔ اس کے نامزد کردہ گھرکی صاحب بالآخر جیت بھی گئے۔ لیکن لاہور شہر میں سنٹرل پنجاب کے اس ضمنی انتخاب کے بعد سے اب تک پیپلز پارٹی کیلئے انتخابی اعتبارسے جیتنا مشکل ہورہا ہے۔

عمران حکومت کو اصل دھچکہ بھی ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کی بدولت لگا تھا۔

ایسے میں پنجاب کی حکومت کو سوچنا ہوگا کہ میاں اظہر مرحوم کی رحلت کی وجہ سے لاہور سے قومی اسمبلی کی ایک نشست خالی ہوچکی ہے۔ سیاست میں کامل بحالی کے لئے اس کے لئے لازمی ہے کہ صاف ،شفاف اور کھلے طریقے سے یہ نشست جیتتی نظر آئے تاکہ فارم 45اور 47کا تنازعہ ختم ہوسکے۔ ابھی اس ایک الیکشن کو ٹھوس انداز سے لڑنے کی تیاری ہی نہیں ہوپائی کہ الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (نون) کو انتہائی جذباتی ماحول میں وزیر آباد اور بھکر کے انتخابی نتائج میں جھونک دیا ہے۔ یاد رہے کہ احمد چٹھہ حامد ناصر چٹھہ کے فرزند ہیں۔ وہ محمد خان جونیجو کے تاحیات وفادار رہے اور ان کی وفات کے بعد نواز شریف کی مخالفت میں بے نظیر حکومت کا ڈٹ کر ساتھ دیا۔’’مقتدر‘‘ حلقے بھی ان کے بارے میں معاندانہ محسوس نہیں کرتے۔ فرض کیا اپنے بیٹے کی گرفتاری اور نااہلی کا بدلہ لینے وہ خود خالی ہوئی نشست پر کھڑے ہوئے تو پنجاب حکومت کیلئے بھی ایک ’’ڈسکہ‘‘ ہوسکتا ہے۔ معاملہ آر یا پار کی جانب یقینا بڑھ رہا ہے۔

Back to top button