بھڑک باز سہیل آفریدی نے اچانک مفاہمانہ رویہ کیوں اپنالیا؟

اپنے کپتان کی جانب سے علی امین گنڈا پور کی جگہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نامزد کیے جانے والے سہیل آفریدی چند ہفتوں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے خلاف جارحانہ بیانات دینے کے بعد بالآخر پسپائی اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ابتدائی ایام میں بڑھکیں لگانے اور محاذ آرائی کا انداز اپنانے والے وزیراعلیٰ اب اپنی ’اوقات‘ میں آتے ہوئے مفاہمانہ رویہ اپنانے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد سہیل آفریدی نے علی امین گنڈا پور کے طرزِ عمل کی نقل کرتے ہوئے نہ صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کو للکارا تھا بلکہ طالبان نواز پالیسی اختیار کرنے کی کوشش بھی کی۔ انہوں نے صوبے میں ممکنہ فوجی آپریشن کی مخالفت کا اعلان کر دیا تھا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسٹیبلشمنٹ بھڑک گئی اور انہیں آج دن تک اپنے قائد عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی، حالانکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک ڈویژن بینچ انکی ملاقات کروانے کا حکم بھی جاری کر چکا ہے۔
اس دوران یہ افواہیں بھی گرم تھیں کہ سہیل آفریدی شاید آخری حربے کے طور پر علی امین گنڈا پور کی طرح لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کریں گے۔ مگر سیاسی منظرنامے میں اچانک موڑ تب آیا جب وزیراعلیٰ نے واضح اعلان کیا کہ وہ کوئی جارحانہ اننگز کھیلنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی غیر قانونی یا غیر آئینی اقدام کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اپنا کھیل آئین کے دائرے میں رہ کر کھیلیں گے‘‘۔ اگلے ہی روز پشاور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران سیاسی صورتحال اور ممکنہ احتجاجی تحریک سے متعلق سوال کیا گیا تو سہیل آفریدی کے لہجے میں نمایاں تبدیلی محسوس کی گئی۔ ماضی کے سخت اور جارحانہ بیانیے کی بجائے آفریدی نے کہا کہ وہ صرف قانونی اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔
پارٹی کے کئی رہنما بھی اس اچانک تبدیلی کو محسوس کر رہے ہیں۔ عام کارکنوں کے لیے یہ تبدیلی حیران کن ہو سکتی ہے، تاہم پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور تجزیہ کار اسے غیر معمولی نہیں سمجھتے۔ یاد رہے سہیل آفریدی نے اپنا سیاسی سفر انصاف سٹوڈنٹس ونگ سے شروع کیا تھا۔ وہ جذباتی مزاج اور احتجاجی سیاست کے علمبردار سمجھے جاتے تھے۔ وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد کارکنوں کی بڑی خواہش تھی کہ وہ عمران کی رہائی کے لیے بھرپور احتجاجی تحریک کا آغاز کریں گے۔ آفریدی نے بھی اس حوالے سے کافی بڑھکیں ماریں لیکن جلد ہی ان کے لہجے میں ایسی نرمی آ گئی جس نے سب کو حیران کر دیا۔ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آفریدی اب وہ جارحانہ انداز نہیں اپنائیں گے جو کہ ان کی شناخت بن چکا تھا۔
تحریک انصاف کے ایک مرکزی رہنما نے بتایا کہ پارٹی کے اندر اس تبدیلی کو محسوس کیا گیا ہے لیکن اسکی اصل وجہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے سنجیدہ حلقے چاہتے ہیں کہ وفاق اور اداروں کے ساتھ محاذ آرائی نہ ہو اور ایک مناسب ورکنگ ریلیشن برقرار رہے۔ اگرچہ کارکن جذباتی قیادت پسند کرتے ہیں، مگر سہیل آفریدی کو اس حقیقت کا احساس ہے کہ تصادم سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی اب سوچ سمجھ کر بیانات دیتے ہیں اور ان کی گفتگو میں وہ سنجیدگی نظر آ رہی ہے جو پہلے مفقود تھی۔ مخالفین ان کی حالیہ نرمی کو ’مفاہمت‘ کا نام دیتے ہیں، مگر پی ٹی آئی رہنما اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نرمی مجبوری نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی ہے، کیونکہ وزیراعلیٰ جانتے ہیں کہ محاذ آرائی آسان نہیں اور جذباتی سیاست حکومت سنبھالنے کے بعد دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔ تاہم تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ سہیل آفریدی بعض مواقع پر سخت لہجہ اختیار کر لیتے ہیں اور سیاسی مخالفین پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ مگر مجموعی طور پر ان کا رویہ بتا رہا ہے کہ وہ حالات کو سمجھ چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ معاملات کو جذبات کے بجائے سمجھ داری سے چلانا پڑتا ہے۔
کیا واقعی پاکستان میں فضائی سفر سستا ہونے والا ہے؟
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کرسی پر بیٹھنے کے بعد جذباتی حکمت عملی میں تبدیلی ایک فطری بات ہے۔ ان کے مطابق آپ اسے مفاہمت، حکمت عملی یا سمجھداری جو بھی نام دیں، سہیل آفریدی اب جان چکے ہیں کہ سیاسی معاملات بہتر طور پر کیسے چلائے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق آفریدی بھی پی ٹی آئی کے ’جذباتی مائنڈ سیٹ‘ کا حصہ ضرور ہیں مگر وزیر اعلیٰ کے منصب نے انہیں یہ احساس دلا دیا ہے کہ صوبائی مسائل محض جذبات سے حل نہیں ہوتے۔
تجزیہ کاروں نے این ایف سی اجلاس میں شرکت کے فیصلے کو مثبت قدم قرار دیا ہے جس سے مرکز سے تعلقات بہتر ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی اب جذباتی کے بجائے سیاسی حکمت عملی پر کاربند ہیں اور انہیں احساس ہو چکا ہے کہ وفاق اور اداروں کے ساتھ چلنا صوبے کے مفاد میں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق گنڈاپور جیسے طاقتور وزیر اعلیٰ کی سبکدوشی کے بعد کچھ حلقوں نے سہیل آفریدی کو ’عارضی وزیراعلیٰ‘ قرار دیا تھا، مگر وہ اس تاثر کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابتدا میں عمومی خیال یہی تھا کہ شاید سہیل آفریدی کچھ عرصے کے لیے لائے گئے ہیں، مگر اب وہ مضبوط انداز میں حکومت چلا رہے ہیں اور طویل اننگز کھیلنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم پارٹی میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ سہیل آفریدی نے وقتی طور پر فیصلہ سازوں کے ساتھ مفاہمانہ رویہ اپنایا ہے تاکہ ان کی اڈیالہ جیل میں عمران سے ملاقات ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آفریدی کی عمران خان سے ملاقات ہو جائے گی وہ ان سے اگلا لائحۂ عمل لے کر دوبارہ جارحانہ رویہ اپنا سکتے ہیں۔
