بھڑکیں مارنے کے بعد آفریدی بھیگی بلی کیوں بن گئے؟

 

 

 

اپنی اقتدار کی کرسی کو ڈولتا دیکھ کر بھڑک باز وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ایک بار پھر مفاہمانہ روش اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے احیاء کیلئے کوئی راستہ تلاش کیا جا سکے۔ تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے ساتھ مفاہمت کے تمام دروازے بند کر دئیے ہیں۔ پی ٹی آئی قیادت اب جو مرضی حربے استعمال کر لے عسکری قیادت ان پر دوبارہ اعتماد کرنے پر قطعاً آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔

 

مبصرین کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی جانب سے عمران خان کو سیکیورٹی رسک قرار دینے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ پشاور میں ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے میں پریس کانفرنس پر سخت رد عمل دیا جائے گا اور اسلام آباد پر دھاوا بولنے سمیت کوئی احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔ تاہم  ایسا نہیں ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دیگر مقررین کے برعکس وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نہایت احتیاط اور نرم لہجے میں خطاب کیا گیا۔ انہوں نے خطاب میں بتایا کہ ان کے خلاف بیانیہ بنا کر انہیں تشدد پر اکسانے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن وہ کسی دام میں نہیں آئیں گے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکری قیادت کی جانب سے پی ٹی آئی قیادت کو واضح لفظوں میں پیغام پہنچا دیا گیا تھا کہ اب کسی قسم کی انتشار پسندی اور الزام تراشی قطعا برداشت نہیں کی جائے گی۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق اسی وجہ سے اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے سہیل آفریدی نے جلسے میں نرم لہجہ اپنایا تھا تاکہ مفاہمانہ روش اپنا کر مقتدر حلقوں کو رام کرتے ہوئے پی ٹی آئی کیلئے بات چیت یا مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے اکثریتی رہنما اب سیز فائر کے خواہشمند ہیں وہ معاملات میں مزید بگاڑ نہیں پیدا کرنا چاہتے تاہم حقیقت میں تحریک انصاف کو اس کی سوشل میڈیا کی ’قیادت‘ نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ مبصرین کے بقول پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر بیٹھی قیادت کسی وقت پی ٹی آئی کی طاقت تھی لیکن اب نہ صرف کمزوری بن گئی ہے بلکہ پارٹی قیادت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ مبصرین کے بقول اس وقت بھی سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی اکاؤنٹس کی جانب سے سخت گیر موقف سامنے آ رہا ہے لیکن پارٹی قیادت معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی قیادت اب خود یوتھیوں کے سوشل میڈیا پر سخت موقف سے بہت تنگ ہے کیونکہ پارٹی قیادت عمران خان کی رہائی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات بہتر کرنے کے خواہاں ہے تاہم سوشل میڈیا انقلابی مفاہمت کی آواز بلند کرنے والے اپنے ہی پارٹی رہنماؤں کو تختہ مشق بنا لیتے ہیں اسی وجہ سے پی ٹی آئی میں کوئی بھی رہنما سرعام مفاہمت کی بات نہیں کرتا تاکہ سوشل میڈیا انقلابیوں کے نشانے سے بچا رہے

عمران کی سیاست اور اقتدار میں واپسی ممکن کیوں نہیں؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کے اکثریتی ورکرز جارحانہ سیاست کے داعی ہیں جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان بھی کسی بھی قسم کی مفاہمت سے انکاری ہیں اسی وجہ سے سہیل آفریدی سے ورکرز یہی امید رکھتے ہیں کہ وہ سخت لہجہ اور سخت گیر سیاست کریں تاہم سہیل آفریدی نے بھڑکیں مارنے کے بعد اچانک مفاہمانہ طرز سیاست اختیار کر لیا ہے کیونکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جارحانہ پریس کانفرنس سے سہیل آفریدی جان چکے ہیں وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے کسی نرمی کی امید نہیں رکھنی چاہیے موجودہ حالات میں اگر اسلام آباد پر دھاوا بولنے کا کوئی پلان بنایا گیا تو حکومت 26نومبر سے بھی سخت جواب دے گی، مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کو ریاست کا موڈ معلوم ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے اب نہایت احتیاط سے قدم اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ بچاؤ کی کوئی راہ تلاش کی جا سکے، سہیل آفریدی کی جانب سے پشاور جلسے میں اختیار کیا گیا نرم لہجہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

Back to top button