کیاججزکےسیاسی فیصلوں نے حکومت کوعدالتی ترمیم پرمجبورکیا؟

ماضی قریب میں عمراندار ججز کی جانب سے آئین اور قانون کے نام پر سیاسی فیصلے سامنے آنے کے بعد عدالتی اصلاحات ناگزیر ہو چکی تھیں۔ حکومتی حلقوں نے 27 ویں آئینی ترمیم کی مجوزہ عدالتی اصلاحات کا دفاع کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ عدلیہ کے ذریعے برسوں سے سیاسی انجینئرنگ کی جا رہی تھی جس کا خاتمہ کرنے کے لیے آئینی ترامیم ضروری تھیں۔ آئینی ترمیم کے بعد اب عدالتوں کے ذریعے وزرائے اعظم کو گھر بھجوانے اور گڈ ٹو سی یو کا سلسلہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق حکومت عدالتی اصلاحات کے نام پر اعلیٰ عدلیہ کو پابندی کرنے جا رہی ہے۔ حکومتی اصلاحاتی پیکج حقیقت میں عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ اس سے ججوں کو انتظامیہ کے اثر و رسوخ میں لانے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ لیکن دوسری جانب، حکومتی حلقوں کے مطابق ملکی عدلیہ کو غیر سیاسی کرنے کے لیے یہ ترمیم ضروری تھی۔ ان کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے اعلی عدلیہ کے بعض ججز نہ صرف کھل کر اپنے سیاسی رجحانات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں بلکہ ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ان کی جانب سے دئیے جانے والے فیصلوں نے جہاں قومی سیاست پر براہِ راست اثرڈالا ہے بلکہ ملک میں نظام انصاف کو بھی ایک مذاق بنا دیا ہے۔ تاہم اب شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے ملک میں گزشتہ تین دہائیوں سے قائم سپریم کورٹ کی اجارہ داری ختم کر کے عدالتِ عظمیٰ کے اختیارات ایک نئی آئینی عدالت کے ساتھ تقسیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تاکہ ماضی میں سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال ہونے والی اعلیٰ عدلیہ کو آئینی دائرے میں لایا جا سکے۔

ناقدین کے مطابق ماضی قریب میں سپریم کورٹ اپنے آئینی اختیارات کو پی ٹی آئی کے مفاد پرست ٹولے اور اس کی سرپرست حکومت کے حق میں بے دردی سے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے آئین اور قانون کے نام پر سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے نہ صرف کئی وزرائے اعظم  کو گھر بھجوایا گیا ہے بلکہ بے شمار عوامی نمائندوں کو بھی ان کے عہدوں سے محروم کر دیا گیا جبکہ فیملی کرش مجرم وزیر اعظم کیلئے بھری عدالت میں گڈ ٹو سی یو جیسے جذبات کا اظہار ہوتا رہا ہے۔ تاہم، اب وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کی اس اجارہ داری کو ختم کر کے تمام معاملات آئین اور قانون کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ آئندہ کوئی وزیر اعظم عدالتی عتاب کا نشانہ نہ بنے۔

مبصرین کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے سامنے آنے والی مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق اگر کسی ہائیکورٹ کے جج کا آئین کے آرٹیکل دوسو کے تحت کسی دوسرے ہائی کورٹ میں تبادلہ کیا جائے اور وہ اس تبادلے کو تسلیم نہ کرے تو پھر اس جج کو ریٹائر سمجھا جائے گا۔ تاہم اس ریٹائر منٹ پر بھی وہ پنشن کا حق دار ہوگا۔ یہ پنشن متعلقہ جج کی مدت ملازمت کو دیکھتے ہوئے طے کی جائے گی۔ ٹرانسفر ہونے والے جج کو جوڈیشل کمیشن میں بلا کر پوچھا ضرور جائے گا ،مگر تبادلے کا فیصلہ متعلقہ دو ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے ووٹوں کے ساتھ جوڈیشل کمیشن کرے گا۔ ماہرین کے مطابق اس مجوزہ ترمیم کے معاملے پر یہ تاثر عام ہے کہ اس کے نتیجے میں سب سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے وہ پانچ جج صاحبان متاثر ہوں گے، جنہیں ہم خیال قرار دیا جاتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے ساتھ ہی ان ہم خیال ججز کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے تبادلہ کر دیا جائے گا جس کے بعد تبادلے کے احکامات کو نہ ماننے والے جج کو قانونی کارروائی مکمل کر کے گھر بھجوا دیا جائے گا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیاست اور تقسیم کو پروان چڑھانے والے ان پانچ ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابرستار، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت اور جسٹس اعجاز اسحاق شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت آرٹیکل دوسو کی اس آئینی ترمیم کی تپش کولگتا ہے کہ مذکورہ پانچ ججز نے بھی محسوس کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوروز پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں جب وکیل نے اگلی پیشی کے لئے دسمبر کی تاریخ مانگی تو اس پر جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا نومبر کی تاریخ لے لیں۔ دسمبر تک کیا معلوم ہم یہاں ہوں گے بھی یا نہیں ۔ اب دیکھنا ہے کہ مجوزہ ستائیسویں ترمیم منظور ہونے کے بعد جب مذکورہ پانچ ججز کو دوسری عدالتوں میں ٹرانسفر کیا جاتا ہے تو وہ ریٹائر ہونے کو ترجیح دیں گے یا پھر پرانی تنخواہ پر کام جاری رکھیں گے۔

یاد رہے کہ 73 کے آئین میں صدر کو وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد ایک جج کی کسی دوسری ہائیکورٹ میں منتقلی کا اختیار تھا اور دو برس کے لئے یہ تبادلہ جج کی رضا مندی کے بغیر بھی ممکن تھا۔ تاہم اٹھارہویں آئینی ترمیم میں یہ شق ختم کر دی گئی تھی اور ٹرانسفر یا تبادلے کیلئے جج کی رضامندی لازم قرار دی گئی تھی ، جسے اب ختم کیا جارہا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی اصلاحاتی پیکج کے تحت اب آئین کا آرٹیکل ایک سو چوراسی (تین) یعنی سپریم کورٹ کا از خود نوٹس کا اختیار بھی تبدیل ہونے جارہا ہے، جسے کئی دہائیوں اور بالخصوص پچھلی ایک دہائی کے دوران عوامی نمائندوں کے خلاف بے دردی کے ساتھ استعمال کیاجاتا رہا ہے۔ اسی آرٹیکل کے تحت اپنے آئینی اختیارات کو ذاتی پسند اور ناپسند کے بنیاد پر استعمال کرتے ہوئے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے کئی وزرائے اعظم سمیت کئی ارکان پارلیمنٹ کی چھٹی کرائی گئی۔ مبصرین کے مطابق آرٹیکل ایک سو چوراسی (تین) سپریم کورٹ کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر عوامی اہمیت کے معاملات میں از خود نوٹس لینے اور کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم اعلیٰ عدلیہ کے ہم خیال ججز کے ٹولے نے گزشتہ ادوار میں عوامی مفاد سے متعلق اس آرٹیکل کو بے رحمانہ طریقے سے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اس آرٹیکل کے سیاسی اور ناجائز استعمال کی مثال قائم کرنے میں اس وقت کا ہم خیال ججز ٹولہ ہدف تنقید بھی بنتا رہا۔ ان میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار، مظاہر علی نقوی، اعجاز الاحسن اور عظمت سعید شیخ قابل ذکر ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ کے اکثریتی عمرانڈو ججز اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ عمراندار ججز کا انجام قریب آتا دکھائی دیتا ہے۔ اپنے انجام کا سامنا کرنے والے عمراندار ججز میں سے مظاہر علی نقوی کو کرپشن اور جوڈیشل مس کنڈکٹ ثابت ہونے پر برطرف کیا گیا۔ جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لئے استعفیٰ دے دیا۔ اس معاملے سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر جسٹس اعجاز الاحسن مستعفی نہ ہوتے تو ان کے خلاف کیس اتنا مضبوط تھا کہ انہیں بھی برطرفی کا سامنا کرنا پڑتا۔ جسٹس عظمت سعید شیخ انتقال کر چکے ہیں۔ جبکہ جسٹس ثاقب نثار گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

27 ویں ترمیم 1973 کے آئین کا ڈیتھ وارنٹ کیوں قرار پائی ؟

مبصرین کے مطابق عدلیہ سے متعلق ایک اور اہم ترمیم آرٹیکل ایک سو نواسی میں کی جارہی ہے۔ جس کے تحت ستائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے قائم ہونے والی نئی وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں اور نظیروں کو ماننے کی پابند نہیں ہوگی۔ آئین کے موجودہ آرٹیکل ایک سو نواسی کے مطابق سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ، جو کسی اصول یا قانون پر مبنی ہو، یا اس کی وضاحت کرتا ہو، پاکستان میں تمام دوسری عدالتوں کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔ لیکن اب مجوزہ ترمیم کے تحت نئی وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے ماضی کے کس فیصلے کو ماننے کی پابند نہیں ہوگی۔جبکہ اس کے برعکس سپریم کورٹ نئی وفاقی آئینی عدالت کے ہر فیصلے کی پابند ہوگی۔یوں کئی دہائیوں کے سپریم کورٹ کے ہزاروں سیاسی غیر آئینی فیصلے اور نظیریں تاریخ کے کوڑے دان میں چلی جائیں گی ۔

 

Back to top button