وفاقی حکومت نے نئے کرنسی نوٹ لانے کا فیصلہ کیوں کر لیا؟

ملک بھر میں جعلی کرنسی نوٹوں کی بڑھتی ہوئی شکایات کے بعد حکومت نے نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وفاقی حکومت کی ہدایات پر نئے کرنسی نوٹ جدید بین الاقوامی معیار اور اعلیٰ سکیورٹی فیچرز کے مطابق ڈیزائن کیے جا رہے ہیں، جبکہ اس سلسلے میں بین الاقوامی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کابینہ کمیٹی قائم کر دی ہے، جو مجوزہ ڈیزائنز کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرے گی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد نئے کرنسی نوٹ جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے ڈیزائن کے بینک نوٹوں میں 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے نوٹ متعارف کروائے جائیں گے۔ ’نئے کرنسی نوٹوں میں جدید اور بہتر سکیورٹی تھریڈ استعمال کیا جائے گا، جس سے جعلی کرنسی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔‘نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن میں پاکستان کی علاقائی اور جغرافیائی اہمیت کو نمایاں کیا جائے گا اور تاریخی یادگاروں کو بھی جگہ دی جائے گی۔ اس سے ملک کی ثقافتی وراثت اور شناخت عوام کے سامنے مزید اُجاگر ہوگی۔اسی طرح ڈیزائن میں خواتین کی قومی ترقی میں شمولیت اور معاشرتی و مالیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوعات کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ کرنسی نوٹ معاشرتی شعور اور قومی ترقی کے پیغام کو بھی عام کریں۔
واضح رہے کہ سٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری کا عمل 2024 میں شروع کیا تھا، جس میں پیشہ ورانہ ڈیزائن کے مقابلے کے ذریعے آئیڈیاز جمع کیے گئے تھے۔بعد ازاں 2024 میں ہی کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کا انتخاب مکمل کرلیا گیا تھا اور اس بات کا اعلان بھی کیا گیا تھا کہ گورنر سٹیٹ بینک نے نئے ڈیزائن منتخب ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم وفاقی کابینہ سے اِن کی حتمی منظوری ہونا باقی تھی۔ اب وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن پر غور و خوض کے بعد حتمی سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرے گی، جس کے بعد رواں برس ہی نئے کرنسی نوٹوں کی منظوری متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن فائنل ہونے کے بعد سٹیٹ بینک کی جانب سے تمام بینکوں کو ایک واضح ٹائم فریم دیا جائے گا، جس کے اندر موجودہ کرنسی نوٹوں کو نئے نوٹوں کے ساتھ تبدیل کیا جا سکے گا۔
یاد رہے کہ گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے گذشتہ برس کہا تھا کہ ’2025 میں نئے کرنسی نوٹ جاری کر دیے جائیں گے‘، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ’نئے کرنسی نوٹوں پر ہم نے اپنا سارا کام مکمل کر لیا ہے اور نوٹوں کے حتمی ڈیزائنز بھی طے ہو چکے ہیں۔‘’جیسے ہی حکومت ان نئے نوٹوں کی منظوری دیتی ہے ان کی پرنٹنگ شروع ہو جائے گی۔‘
معاشی ماہرین حکومت کی جانب سے نئے کرنسی نوٹوں کے اجراء کے فیصلے کو ملکی معیشت کیلئے خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ ایکس چینج کمپنیز آف پاکستان کے سیکریٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ ’حالیہ دنوں میں جعلی کرنسی ملک کا ایک بڑا مسئلہ رہا ہے. پاکستان سے افغانستان ڈالر کی سمگلنگ کے ساتھ خیبرپختونخواہ میں جعلی کرنسی کی موجودگی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن گیا ہے، ایسے میں نئے نوٹ جاری ہوں گے تو جعلی کرنسی سے بھی بچا جاسکے گا اور کیش کی صورت میں ہولڈ ہوئے پیسے بھی باہر نکلیں گے۔‘’نئے نوٹ جاری کرتے وقت اگر چیک اینڈ بیلنس اچھا کرلیا جائے تو ملک کو فائدہ پہنچے گا۔
ماہر معیشت ظفر پراچہ کے مطابق ’اس حکومتی فیصلے سے ملک کو فائدہ ہوگا، درست وقت پر درست فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے بلیک منی بھی باہر آئے گی اور جعلی کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے سے کیا پاکستان کے معاشی مسائل حل ہوں گے؟، کالا دھن کرنے والوں کو کیا نقصان ہو گا اور کیا بھارت میں کیا گیا ایسا تجربہ کہ جس میں بڑے کرنسی نوٹ ختم کیے گئے، وہ کامیاب رہا؟
معاشی امور کے ماہر خرم شہزاد نے کہاکہ جب تک 5 ہزار جیسے بڑے کرنسی نوٹ ہیں نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانا کوئی نئی چیز نہیں ہو گی، نئے کرنسی نوٹ لانے سے کالے دھن والوں پر کیا اثر پڑے گا یا نہیں یہ ابھی بتانا قبل از وقت ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ نئے کرنسی نوٹوں کو نئے سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ لانا ایک اچھا قدم ہوگا۔ جو لوگ کالے دھن سے کیش لے کر اپنے پاس رکھتے ہیں ان کو نئے نوٹ لینے میں زیادہ مشکل نہیں ہو گی، لیکن اگر یہ بڑے نوٹ منسوخ کر دیے جاتے ہیں تو اس سے کالا دھن کرنے والوں کو مشکل ہو گی۔بھارت میں بڑے کرنسی نوٹ ختم کر کے نئے کرنسی نوٹ لائے گئے لیکن وہ تجربہ بھی بہت زیادہ کامیاب نہیں ہوا۔ دیکھنا ہو گا کہ کیا پرانے نوٹوں کو منسوخ کیا جا رہا ہے یا پھر صرف نئے نوٹ لائے جا رہے ہیں۔
اچکزئی کی تقرری کے باوجود عمران کی رہائی کا امکان کیوں نہیں؟
سینیئر صحافی شعیب نظامی نے کہاکہ نئے کرنسی نوٹ لانے کا معیشت کو یہ فائدہ ہو گا کہ حکومت کو معلوم ہو جائے گا کہ کس کے پاس کتنا سرمایہ ہے، نئے کرنسی نوٹ لانے سے ان لوگوں کو مشکل ہو گی کہ جن لوگوں کے پاس پرانے نوٹ ہیں، یا جعلی نوٹ ہیں، ان کو بتانا ہو گا کہ نوٹ کہاں سے آئے، عام آدمی کو نئے نوٹ آنے سے اس طرح فائدہ ہو گا کہ جب کالا دھن مارکیٹ میں آئے گا تو خود سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔
