پٹرول مہنگا کر کے حکومت نے اپنا بوجھ عوام پر کیوں ڈال دیا؟

 

 

 

سینیئر صحافی نصرت جاوید نے کہا ہے کہ ملک میں پٹرول کی قیمت میں حالیہ بڑا اضافہ دراصل حکومتی پالیسیوں اور ادارہ جاتی ناکامیوں کا نتیجہ ہے جبکہ اس کا بوجھ عام صارفین پر ڈال دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کو صرف عالمی حالات یا جنگی صورتحال سے جوڑنا درست نہیں کیونکہ اس فیصلے کے پس منظر میں اندرونی معاشی اور انتظامی عوامل بھی موجود ہیں۔

 

اپنے تجزیے میں نصرت جاوید نے کہا کہ عالمی تاریخ میں بھی کئی بار ایسا ہوا ہے کہ عوامی مشکلات کی اصل وجہ قدرتی آفات نہیں بلکہ حکمرانوں کی نااہلی اور بدانتظامی ہوتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیا سین کی تحقیق کا حوالہ دیا جنہوں نے 1943 کے بنگال قحط پر تحقیق کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اس وقت دراصل غذائی قلت نہیں تھی بلکہ ذخیرہ اندوزی اور حکومتی ناکامیوں نے بحران کو جنم دیا تھا۔

 

نصرت جاوید کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافہ بھی کچھ حد تک اسی نوعیت کی صورتحال کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جمعہ کی رات پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کا اعلان کیا جس کی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کو قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق اس جنگ کے باعث خلیج میں واقع اہم تجارتی راستے آبنائے ہرمز کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے جس سے عالمی تیل کی سپلائی کے متاثر ہونے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے بیشتر ایشیائی ممالک مشرق وسطیٰ سے درآمد ہونے والا تیل اسی سمندری راستے سے حاصل کرتے ہیں۔

 

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس آبنائے کو بند کرنے کے اعلان کے بعد کئی عالمی انشورنس کمپنیوں نے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کا بیمہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس صورتحال کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اس راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرے گا اور متبادل انشورنس کا بندوبست کرے گا، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی واضح عملی اقدامات سامنے نہیں آئے۔

 

نصرت جاوید کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اضافے کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جس تیل کی بنیاد پر قیمت بڑھائی گئی وہ دراصل تقریباً 45 سے 50 روز پہلے عالمی منڈی سے 65 سے 70 ڈالر فی بیرل کے حساب سے خریدا گیا تھا۔ اس لیے اس ذخیرے پر فوری طور پر قیمت بڑھانے کا معاشی جواز کمزور نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہی ملک میں ذخیرہ اندوزی شروع ہو گئی۔ بعض تیل کمپنیوں اور سپلائی کرنے والوں نے پٹرول کی فراہمی میں تاخیر کے حربے اختیار کیے جس کے نتیجے میں کئی شہروں میں پٹرول پمپوں کے باہر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگنا شروع ہو گئیں۔

ان کے مطابق بعض پٹرول پمپوں نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک صارف کو دس لیٹر سے زیادہ پٹرول فروخت کرنے سے بھی انکار کر دیا، حالانکہ ملک میں تقریباً ایک ماہ کے لیے پٹرول کے وافر ذخائر موجود تھے۔ اس طرح مصنوعی قلت کا تاثر پیدا کر دیا گیا۔

 

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس اختیار تھا کہ وہ مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتی اور انہیں سخت سزائیں دیتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تیل کی درآمد اور فروخت کے کاروبار میں شامل بہت سے بااثر افراد حکمران اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف تیل کمپنیوں اور ذخیرہ اندوزوں کو فائدہ ہوا بلکہ حکومت کو بھی اضافی محصولات حاصل ہوں گے۔ ان کے مطابق موجودہ قیمت میں حکومت فی لیٹر تقریباً 123 روپے مختلف ٹیکسوں اور لیوی کی صورت میں حاصل کر رہی ہے جبکہ درآمد کنندگان اور ترسیل کرنے والوں کو بھی کمیشن کی مد میں اضافی رقم مل رہی ہے۔

 

نصرت کے مطابق اس فیصلے کا بوجھ براہ راست عام شہریوں پر پڑے گا۔ پٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے جس کا اثر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔ اس کے علاوہ بجلی کی قیمتوں اور دیگر بنیادی اخراجات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ننصرت جاوید نے خبردار کیا کہ خلیجی کشیدگی کے اثرات صرف پٹرول تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان کے مطابق قطر نے بھی حالیہ کشیدگی کے بعد گیس کی ترسیل سے متعلق بعض معاہدوں پر نظرثانی شروع کر دی ہے جس سے گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں پاکستان میں ایل پی جی سلنڈر مہنگے ہو سکتے ہیں جبکہ گھریلو گیس کی لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

خلیج ممالک سے تیل بردار جہاز پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ حکومت اس تمام صورتحال کی ذمہ داری عالمی حالات پر ڈال رہی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر ملک میں آئندہ کئی ہفتوں کے لیے پٹرول کے ذخائر موجود تھے تو پھر قیمت میں فوری اور بڑا اضافہ کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت کو عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ کیے گئے محصولات کے اہداف پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو اور اسی وجہ سے پٹرولیم لیوی کے ذریعے اضافی آمدن حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ سینیئر صحافی کے مطابق اگر ایسا ہے تو پھر اس صورتحال کو عالمی جنگ یا بیرونی عوامل کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ٹیکس نظام کی کمزوریوں اور ایف بی آر کی ناکامیوں کا بوجھ بالآخر عام پٹرول صارفین پر ڈال دیا گیا ہے۔

 

Back to top button