حکومت نے موٹرویز اور ہائی ویز پر حد رفتار کم کیوں کر دی؟

خبردار! مزید احتیاط کریں، موٹروے پر اوور سپیڈنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اب آپ کو اپنی منزل کی بجائے بھاری جرمانے کے ساتھ جیل تک بھی پہنچا سکتی ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت اور موٹرویز و قومی شاہراہوں پر محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے نئی حدِ رفتار نافذ کر دی ہے، جس کے بعد خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی تیز کر دی گئی ہے۔ موٹروے پولیس نے ڈرائیورز کو نئی رفتار کی حدود سے آگاہ کرنے کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں آگاہی مہم شروع کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں پر جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں اور سنگین خلاف ورزیوں پر مقدمات درج کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر نئی رفتار کی حدود کیا ہیں، اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کتنا جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
موٹروے پولیس کے مطابق نئی پالیسی کے تحت موٹرویز پر کار اور ایل ٹی وی یعنی لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکلز کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔ اسی طرح پی ایس وی یعنی پبلک سروس وہیکلز اور ایچ ٹی وی یعنی ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکلزکے لیے بھی رفتار کی حد 110 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی شاہراہوں پر بھی رفتار کی حدود میں کمی کی گئی ہے جہاں کار اور ایل ٹی وی کے لیے رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے، جبکہ پی ایس وی اور ایچ ٹی وی کے لیے رفتار کی حد 80 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 65 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نئی حد رفتار مقرر ہونے کے بعد خلاف ورزی پر کتنا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں موٹروے پولیس کے ترجمان سنٹرل ریجن سید عمران احمد نے بتایا کہ نئی حدِ رفتار کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مختلف موٹرویز پر ٹریفک قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موٹروے ایم ٹو پر ایک شہری کو 115 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر 2500 روپے جرمانہ کیا گیا، جبکہ ایک مسافر بس کو 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ حکام کے مطابق سنگین خلاف ورزیوں کی صورت میں قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ موٹروے پولیس نے نئی رفتار کی حدود سے متعلق عوام کو آگاہ کرنے کے لیے مختلف شہروں میں بریفنگ کیمپس قائم کر دئیے ہیں۔ لاہور، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال اور بہاولپور سمیت مختلف شہروں میں ٹول پلازوں اور اہم مقامات پر پٹرولنگ افسران روڈ یوزرز کو نئی رفتار کی حدود کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ڈرائیورز کو قوانین سے آگاہ کرنا اور حادثات کے خطرات کو کم کرنا ہے تاکہ لوگ محفوظ سفر کو یقینی بنا سکیں۔
عمران خان چھوٹی کے علاوہ بڑی عید بھی جیل میں ہی گزاریں گے
ٹریفک اور روڈ سیفٹی ماہرین اس حکومتی اقدام کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ زیادہ رفتار سڑک حادثات کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے۔ تاہم رفتار کم ہونے سے جہاں پٹرول کی بچت ہوتی ہے وہیں نہ صرف حادثات کے امکانات کم ہوتے ہیں بلکہ حادثہ ہونے کی صورت میں نقصان کی شدت بھی کم ہو جاتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ رفتار میں کمی سے ایندھن کی کھپت بھی کم ہوتی ہے جس سے نہ صرف ڈرائیورز کے اخراجات کم ہوتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر ملک میں ایندھن کی بچت میں بھی مدد ملتی ہے۔ماہرین ڈرائیورز کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ طویل سفر کے دوران رفتار کو مقررہ حد میں رکھیں، سیٹ بیلٹ کا استعمال یقینی بنائیں اور تھکاوٹ کی صورت میں وقفہ لے کر سفر جاری رکھیں۔ اسی طرح لین ڈسپلن پر عمل کرنا اور اوور ٹیکنگ کے دوران احتیاط برتنا بھی محفوظ ڈرائیونگ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ڈرائیور ٹریفک قوانین پر عمل کریں تو نہ صرف حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر سفر کو مزید محفوظ اور آرام دہ بنایا جا سکتا ہے۔
