حکومت 271 روپے فی لیٹر پٹرول خرید کر 458 میں کیوں بیچنے لگی؟

حکومت کی جانب سے ہمیشہ پٹرولیم پراڈکٹس کی قیمتوں میں اضافے کا یہی جواز دیا جاتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں فروخت ہونے والا پٹرول حکومتی ٹیکسوں، لیویز، اور منافع خوروں کے مفادات کا زہریلا مرکب ہے، جو فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں 190روپے سے زیادہ کا اضافہ کر دیتا ہے۔ اسی اضافے کی وجہ سے 271روپے میں درآمد کیا جانے والا پٹرول عوام کو 458روپے میں فروخت کیا جاتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی قیمت کو دیکھا جائے تو یہ روپوں میں 245.95 روپے فی لیٹر ہے تاہم پاکستان میں درآمدی سطح پر اس پر 24 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی لگائی گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اس پر 1 روپے32 پیسے فی لیٹر ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ بھی عائد کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی پاکستان میں درآمدی قیمت 271.27 روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا پٹرول جو ریفائنری سے 271روپے میں نکلتا ہے، وہ حکومت کی ٹیکس بھری راہداری سے گزرتے ہوئے 458روپے میں عوام کے ہاتھ تک کیسے پہنچتا ہے۔ مبصرین کے مطابق جب ایک چیز کی اصل قیمت 271 روپے ہو اور وہ صارف تک پہنچتے پہنچتے 458 روپے فی لیٹر ہو جائے تو پہلا سوال یہی اٹھتا ہے: آخر ان قیمتوں کے درمیان کا فرق کہاں جا رہا ہے؟ اس کا سیدھا جواب ہے: ٹیکس، ڈیوٹیز، لیویز اور مارجن۔ حکومت اور متعلقہ ادارے جنہیں عوام کی فلاح کا نگہبان سمجھا جاتا ہے، وہ دراصل عام آدمی کی جیب پر سب سے بھاری ہاتھ ڈال رہے ہیں۔ شہری حقیقت میں پٹرولیم مصنوعات کی بجائے اس پر عائد ٹیکس، ڈیوٹیز اور مارجن کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرول پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں عوام سے تقریبا 187 روپے وصول کئے جارہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل پرٹیکسز ڈیوٹیز کی مد میں عوام سے 23روپے فی لیٹر بٹورے جارہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت پیٹرول کو 271.27 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کو 496.97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کر رہی ہے، مگر مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت 458.40 روپے جبکہ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی نہیں لگائی گئی، البتہ کسٹمز ڈیوٹی پہلے سے عائد ہے۔ موجودہ نرخوں کے مطابق پیٹرول پر 24.11 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 35.73 روپے فی لیٹر کسٹمز ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن 7.87 روپے فی لیٹر ہے جبکہ ان لینڈ فولیٹ مارجن پیٹرول پر 7.52 روپے جبکہ ڈیزل پر 4.37 روپے فی لیٹر ہے۔ اسی طرح پٹرولیم مصنوعات پر کلائنٹ سپورٹ لیوی 2 روپے فی لیٹراور ڈیلر مارجن 8.64 روپے فی لیٹر وصول کیا جا رہا ہے۔بلکہ حکومت نے پیٹرول پر لیوی 105 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 160 روپے 61پیسے فی لیٹر کر دی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت کو کم رکھنے کیلئے اس پر لیوی صفر کر دی ہے۔ ان تمام عوامل کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمت میں 137.23 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 184.49 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔
دوسری جانب ڈیزل کی بین الاقوامی قیمت کی بنیاد پر پاکستان میں اس کی قیمت 459.97 روپے فی لیٹر بنتی ہے ۔ اس میں حکومت نے 35.73 روپے فی لیٹر کی کسٹم ڈیوٹی لگائی ہے جس کے بعد اس کی درآمدی قیمت 496.97 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔ ہے ڈیزل کی قیمت میں 4.37 فی لیٹر کا ان لینڈ ایکولائزیشن مارجن، 7.87 روپے فی لیٹر کا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع اور پٹرول پمپس کا 8.64 روپے فی لیٹر کا نفع بھی شامل ہے۔ ڈیزل پر حکومت نے 2.50 روپے فی لیٹر کی کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی عائد کر رکھی ہے۔ جس کے بعد پیٹرول پمپس پر صارفین کے لیے ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
پنجاب حکومت کا پبلک ٹرانسپورٹ فری کرنے کا اعلان
تجزیہ کاروں کے مطابق 271 روپے فی لیٹر کی اصل قیمت والا پٹرول جب عوام کو 458 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے، تو اس میں شامل 187 روپے فی لیٹر کی اضافی وصولی صرف ایک عددی فرق نہیں بلکہ ایک گہری معاشی ناانصافی کی عکاسی ہے۔ اس رقم میں شامل ٹیکسز اور اضافی چارجز ریاستی پالیسی کی اُس سمت کی نشان دہی کرتے ہیں جو عوامی ریلیف کے بجائے محصولات کے حصول کو ترجیح دیتی ہے۔ ناقدین کے بقول جب حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ صرف عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ہیں، تو پھر یہ داخلی عوامل اور ٹیکسوں کا بوجھ کس کھاتے میں ڈالا جائے؟ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب بین الاقوامی سطح پر قیمتیں کم ہوں، تو کیا اسی تیزی سے عوام کو فائدہ دیا جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پٹرول پر لگائے گئے یہ غیر متناسب ٹیکسز اور لیویز عام شہری کی معاشی کمر توڑ رہے ہیں اور حکومت کے معاشی نظم و نسق پر ایک سنگین سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔
ناقدین کے مطابق حکومت کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے حالات کو بنیاد بنا کر عوام پر پٹرول بم گرایا گیا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے میں نہ صرف خطے کے دیگر ممالک بلکہ اپنے ہمسایہ ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جہاں دیگر ممالک عالمی حالات کے باوجود کسی حد تک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں پاکستان میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عوام پر ایک اضافی بوجھ بن چکا ہے، جس سے مہنگائی کی لہر مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس صورتحال نے یہ سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ آیا واقعی عالمی حالات ہی اس اضافے کی اصل وجہ ہیں یا پھر حکومتی پالیسیوں اور معاشی بدانتظامی کا بھی اس میں بڑا کردار ہے۔
حالیہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کا دیگر ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو سامنے آتا ہے کہ فروری سے اپریل 2026 کے دوران پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 70 سے 72 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس کے برعکس کمبوڈیا میں تقریباً 67 فیصد، ویتنام میں 49 فیصد جبکہ سری لنکا، لاؤس اور امریکہ میں یہ اضافہ 30 سے 33 فیصد کے درمیان رہا۔ کینیڈا میں تقریباً 28 فیصد اور بنگلہ دیش میں 25 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ چین، برطانیہ اور جاپان میں یہ شرح 20 سے 23 فیصد کے قریب رہی۔ خاص طور پر بھارت میں حکومت نے عالمی قیمتوں کے اثرات کو مکمل طور پر عوام تک منتقل نہیں ہونے دیا، انڈیا میں اس عرصے کے دوران صرف 28فیص قیمتیں بڑھائی گئیں ان اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، لیکن پاکستان میں اس کا اثر دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت کے ساتھ عوام پر ڈالا گیا، جو حکومتی پالیسیوں پر اہم سوالات اٹھاتا ہے
