کیا ایلون مسک پاکستان میں انٹرنیٹ کالائسنس لےپائےگا؟

انٹرنیٹ کی بندش اور ڈاؤن سپیڈ کے مسائل کے ستائے پاکستانیوں کے تیز ترین انٹرنیٹ سروسز کی دستیابی کے خواب ٹوٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت نے ایلون مسک کی کمپنی سٹار لنک کو لائسنس کے اجراء کا عمل معطل کر دیا ہے جس کے بعد جون 2026 سے قبل کمپنی کا پاکستان میں اپنی سروسز کا آغاز ناممکن ہو گیا ہے، ذرائع کے مطابق حکومت نے ڈیٹا سیکیورٹی، نگرانی کے نظام اور جیوپولیٹیکل خدشات کے باعث سٹارلنک کو لائسنس دینے کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط اختیار کر لی ہے اور تحفظات کے مکمل ازالے تک لائسنس کے اجرا کا عمل روک دیا ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سٹار لنک کا لائسنس جاری کرنے کے معاملے کے ابتدائی جائزے کے دوران یہ خدشات سامنے آئے ہیں کہ سٹارلنک کا سیٹلائٹ نیٹ ورک بعض صورتوں میں پاکستان کے مقامی نگرانی اور سیکیورٹی چیک پوائنٹس کو بائی پاس کرتے ہوئے ڈیٹا منتقل کر سکتا ہے، جس سے صارفین کے ڈیٹا کی سلامتی اور ریاستی نگرانی کے نظام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے سٹار لنک کو لائسنس کا اجرا تاخیر کا شکار ہے۔
تاہم پی ٹی اے حکام کے مطابق اسٹارلنک واحد کمپنی نہیں جو پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے کی خواہشمند ہے۔ اس کے علاوہ بھی متعدد بین الاقوامی کمپنیاں اس مقصد کے لیے درخواستیں دے چکی ہیں اور ان تمام کیسز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جب سپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ کسی کمپنی کو کلیئرنس دے دیتا ہے تو اس کے بعد کیس پی ٹی اے کے پاس آتا ہے، جہاں قانونی، تکنیکی اور صارفین کے ڈیٹا سے متعلق پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان تمام مراحل کی تکمیل کے بعد ہی کسی کمپنی کو باضابطہ لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔ سٹار لنک کا معاملہ بھی انڈر پراسس ہے شرائط و ضوابظ پوری ہونے کے بعد ہی لائسنس کے جاری کرنے یا نہ کرنے بارے فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب سائبر سیکیورٹی ماہرین سٹارلنک کی منظوری کو پاکستان کے لیے ایک مشکل فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سٹارلنک کی تیسری نسل کی ٹیکنالوجی مقامی گراؤنڈ سٹیشنز کے بغیر بھی کام کر سکتی ہے اور سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے سے کنیکٹ ہو سکتی ہے، جو اسے ریگولیٹری کنٹرول سے باہر لے جاتی ہے۔ ریگولیٹری کنٹرول سے باہر ہونے کی وجہ سے پاکستان میں سٹار لنک کو اپنی سروسز شروع کرنے کے حوالے سے باضابطہ اجازت ملنے کے امکانات کم ہیں۔
پاکستان کو دھمکیاں دینے والی ICC منتوں پر کیوں مجبور ہوئی؟
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے بقول سٹارلنک کے سگنلز کو ٹریک اور بعض حد تک جام تو کیا جا سکتا ہے، مگر مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔ روس، چین اور ایران جیسے ممالک میں اس ٹیکنالوجی کے عسکری اور غیر ریاستی استعمال کی مثالیں موجود ہیں، جہاں اسے ڈرون حملوں اور سوارم آپریشنز میں استعمال کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحد پر موجود سیکیورٹی خطرات کے تناظر میں بلیک مارکیٹ میں دستیاب سٹارلنک ٹرمینلز کا ممکنہ دہشت گردانہ استعمال ایک سنگین خدشہ ہے، جس کے باعث ریگولیٹرز کے لیے اس کمپنی کو منظوری دینا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ جاز، پی ٹی سی ایل اور دیگر موبائل کمپنیوں کی جانب سے ماضی میں سٹارلنک کی آزمائش کی جا چکی ہے تاہم موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے سٹارلنک کے بجائے چینی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی طرف جانا زیادہ محفوظ اور قابلِ کنٹرول راستہ سمجھا جا رہا ہے۔
