آئی ایم ایف نے پاکستان کی ڈانٹ ڈپٹ اور دھلائی کیوں کی؟

پاکستان بارے آئی ایم ایف کی تازہ ترین رپورٹ حسبِ معمول طعنوں، کوسنوں اور ڈانٹ ڈپٹ سے بھری ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کا مرکزی نکتہ قومی احتساب بیورو یا نیب کی دو برس کی کارکردگی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیب نے 2023-24 کے دوران 5.3 کھرب روپے مالیت کے اثاثے ریکور کیے، مگر اس کارکردگی پر آئی ایم ایف نے خوش ہونے کی بجائے الٹا کیس بناتے ہوئے کہا یے کہ اس سے ثابت ہو گیا کہ پاکستان میں کرپشن اوپر سے نیچے تک ہر قومی ادارے میں سرایت کر چکی ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر پاکستانی فیصلہ ساز سنجیدگی سے اصلاحات کریں تو آئندہ پانچ برس میں اس ملک کی قومی آمدنی میں سالانہ 5 سے 6 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان بی بی سی کے لیے اپنی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے حوالے سے آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ ایک بار پھر سخت لہجے، تیکھے تبصروں اور تلخ حقائق سے بھری ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اصل مسئلہ وہی مسلسل بگڑتی ہوئی گورننس ہے جو اس کی معاشی بنیادوں کو کھوکھلا کیے جا رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرپشن اوپر سے نیچے تک، انفرادی سے اجتماعی سطح تک ایک کینسر کی طرح پھیل چکی ہے۔ لیکن اگر ہھر بھی فیصلہ ساز اس مرض کے علاج کے لیے حقیقی سیاسی عزم دکھائیں تو پاکستان کی قومی آمدنی آئندہ پانچ برسوں میں سالانہ پانچ سے چھ فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
وسعت اللہ خان لکھتے ہیں کہ گویا آئی ایم ایف پاکستان کو یاد دلا رہا ہے کہ اس کی معاشی بیماری کی جڑیں بہت گہری ہیں اور اسکا علاج محض نیب کی ریکوری سے ممکن نہیں۔ان کا کہنا یے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کا تعلق محض قرض دہندہ اور قرض لینے والے کا نہیں بلکہ ایک ایسے سخت سسر اور ضدی داماد کا رشتہ ہے جو ایک دوسرے سے اکتائے ہوئے بھی ہیں اور مجبور بھی ہیں۔ ان کے مطابق آئی ایم ایف نہ صرف ریاستی آمدن اور اخراجات پر نظر رکھتا ہے بلکہ بچوں کے جیب خرچ تک کی خبر لیتا ہے، جبکہ بچے یعنی پاکستان گزشتہ 67 برس سے اسے چکمہ دینے اور حساب کتاب میں ہیر پھیر کے ماہر ہیں۔ اس طویل رشتے میں کئی حکومتیں آئیں اور گئیں، حکومتی پالیسیاں بدلیں، لیکن ہماری معیشت وہیں کھڑی ہے جہاں دہائیوں پہلے کھڑی تھی۔
وسعت اللہ طنزیہ انداز میں لکھتے ہیں کہ پاکستان 1958 میں جس ’’ڈولی‘‘ میں آئی ایم ایف کے گھر آیا تھا، وہ آج تک واپس نہیں گئی۔ دوسرے ملک ترقی کے راستے طے کر کے آگے نکل گئے، لیکن پاکستان نے شاید اپنی دہلیز پر ہی ایک بورڈ لگا رکھا ہے جس پر لکھا ہے کہ براہِ کرم ہمیں بار بار ترقی پر مجبور نہ کیا جائے۔وسعت کے جملے میں وہ مایوسی جھلکتی ہے جو مسلسل پالیسی ناکامیوں کی وجہ سے عام آدمی سے لے کر معاشی ماہرین تک محسوس کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی اس رپورٹ میں ابھی صرف وفاقی اداروں کی گورننس زیرِ بحث ہے، عسکری و صوبائی مالیاتی ڈھانچے اس سے باہر رکھے گئے ہیں، جو خود اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستانی معاشی بربادی پر سے ابھی آدھا پردہ ہی اٹھا ہے۔ وسعت اللہ خان توجہ دلاتے ہیں کہ اس رپورٹ کی بنیادی زبان وہی ہے جو کہ 2021 کی یو این ڈی پی رپورٹ میں بھی پڑھنے کو ملی تھی۔ گویا ملک میں حکومتیں تبدیل ہوئیں، آئین میں رد و بدل ہوا، سیاسی بیانیے بدلے مگر گورننس اور کرپشن کی گہرائی جوں کی توں رہی۔
وسعت اللہ اس کہتے ہیں کہ یو این ڈی پی کے اعداد و شمار کے مطابق قومی آمدنی کا نصف صرف 20 فیصد آبادی کے ہاتھ میں ہے جبکہ مجموعی دولت کا بڑا حصہ ایک فیصد اشرافیہ کے قبضے میں ہے۔ دوسری جانب نچلی 20 فیصد آبادی کو صرف سات فیصد آمدنی میں گزارا کرنا پڑتا ہے۔ اسی عدم مساوات کے نتیجے میں ملک کا متوسط طبقہ سکڑ کر 42 سے 36 فیصد پر آ گیا ہے جبکہ غربت بڑھ کر 45 فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔ وسعت اللہ کے مطابق یہ وہ معاشی ڈھانچہ ہے جس میں ترقی کی کوئی بھی پالیسی تب تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک طاقت اور وسائل کی تقسیم کا بنیادی سوال حل نہ ہو۔
وسعت اللہ خان بتاتے ہیں کہ پاکستانی معیشت پر کارپوریٹ سیکٹر، جاگیردارانہ طبقہ، سیاسی اشرافیہ اور عسکری اقتصادیات کا ایسا کنٹرول ہے جو کسی غیر اعلانیہ کارٹیل سے کم نہیں۔ یہی طبقات پارلیمنٹ، کابینہ اور ریاستی فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اشرافیہ کے اس کارٹیل کو سالانہ 17 ارب ڈالرز کی ٹیکس چھوٹ اور معاشی مراعات ملتی ہیں۔ وسعت اللہ کے نطابق اگر صرف یہ مراعاتی جال ٹوٹ جائے تو پاکستان کی آمدنی میں سالانہ چھ فیصد اضافہ ممکن ہے۔ مگر ان کے خیال میں موجودہ مراعاتی نظام سے اصلاحات کی توقع ایسے ہی ہے جیسے شیر کے منہ سے ہڈی چھیننے کی کوشش کرنا یا ہاتھی کے منہ سے گنا نکالنا۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ حکومت کی فائلوں میں ایسی انگریزی رپورٹیں یوں ہی پڑی رہتی ہیں کیونکہ ملک کی صرف ایک فیصد آبادی ہی انہیں پڑھ سکتی ہے۔ باقی عوام کے لیے ناخواندگی ایک مجبوری سہی، مگر اشرافیہ کے لیے یہ ایک نعمت ہے۔ یہ ایک ایسی افیون جس سے قوم کو سلائے رکھا جاتا ہے۔ ایسے میں ہماری سول سوسائٹی کے پاس دو راستے ہیں: یا تو اشرافیہ کے در کے چھوٹے بن کر بچا کھچا حصہ لے لے یا پھر ریاستی کارروائیوں کا سامنا کرے۔ اپنے تجزیے کے اختتام پر وسعت اللہ کہتے ہیں کہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے کئی جھنجھنے موجود ہیں جن میں مذہبی تنازعات، وسائل کی تقسیم کے جھگڑے، جمہوریت کے خواب، معدنیاتی دولت کی کہانیاں، گیم چینجر منصوبے، ڈیجیٹل پاکستان کے نعرے، خارجہ پالیسی کی کامیابیاں اور آئینی ترامیم کے مباحث شامل ہیں۔ عوام انہی میں سے کوئی نہ کوئی جھنجھنا چنتے ہیں، اس سے کھیلتے ہیں اور پھر شام ڈھلے واپس اسی مایوسی میں لوٹ جاتے ہیں جس سے انہیں اگلی صبح دوبارہ گزرنا ہوتا ہے۔
