آئی ایم ایف کے وفد نے چیف جسٹس آفریدی سے ملاقات کیوں کی؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے عالمی مالیاتی ادارے کے 6 رکنی وفد کی ملاقات اسوقت عوامی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے اتنا نیچے کیوں لگ گیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے جو سات ارب ڈالر پروگرام کا معاہدہ کر رکھا ہے اس کے تحت اس نے اس طرح کے جائزے کے لیے رضامندی ظاہر کر رکھی ہے۔
سپریم کورٹ سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کے وفد نے جوئل ٹرکیوٹز کی قیادت میں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی جس کے دوران عدالتی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ پیش کیا گیا۔ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس نے بتایا کہ ’میں نے آئی ایم ایف کے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا۔ وفد کو بتایا کہ ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں۔ وفد نے کہا معاہدوں کی پاسداری، اور پراپرٹی حقوق کے بارے ہم جاننا چاہتے ہیں، میں نے جواب دیا اس پر اصلاحات کر رہے ہیں۔‘ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے وفد نے کہا ’ہم پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا تحفظ چاہتے ہیں۔‘
چیف جسٹس نے صحافیوں کو غیررسمی گفتگو میں بتایا کہ ’میں نے آئی ایم ایف وفد کو جواب دیا ہے کہ ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھا رکھا ہے، یہ ہمارا کام نہیں ہے آپ کو ساری تفصیلات بتائیں۔‘ تاہم سوال یہ ہے کہ اس ملاقات کا مقصد کیا تھا؟
ماہرین کی رائے اس حوالے سے منقسم ہے تاہم حکومت کے خیال میں یہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہے اور وفد پاکستان سے ہونے والے تازہ قرض معاہدے کے تحت ہی اپنے جائزہ مشن پر ہے اور اداروں اور ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے آئی ایم ایف وفد کے اراکین کو واضح کیا کہ ’عدلیہ ایسے وفود کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں کرتی، لیکن چونکہ فنانس ڈویژن نے اس حوالے سے درخواست کی تھی چنانچہ یہ ملاقات ہو رہی ہے۔‘
اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں چیف جسٹس نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ ’پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے اور سپریم کورٹ کا سربراہ ہونے کے ناطے عدلیہ کی آزادی کا تحفظ اُن کی ذمہ داری ہے۔‘ اس اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے وفد کو بتایا کہ وہ اپنے تبصروں اور خیالات کے حوالے سے پوری طرح محتاط رہیں گے۔ ’اس کے بعد انھوں نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے حوالے سے اہم آئینی پیش رفت اور اصلاحات پر روشنی ڈالی، جن میں سینیئر سطح پر عدالت میں ججوں کی تعیناتیوں، عدالتی احتساب، اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تنظیم نو شامل ہے۔‘
تاہم کئی حلقوں کی جانب سے ائی ایم ایف کی چیف جسٹس سے ملاقات تنقید کی زد میں ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کیا وفد کا دورہ آئی ایم ایف سے ہوئے معاہدے کے ’دائرہ کار‘ میں آتا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں نجی ٹی وی چینل ‘جیو نیوز’ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ وفد کا یہ دورہ آئی ایم ایف کے ‘ڈومین’ یعنی دائرہ کار میں آتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ‘قانون کی حکمرانی، وفد کے ساتھ انتظام کا حصہ ہے۔’
چیف جسٹس سے ہونے والی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ لا اینڈ جسٹس کمیشن سپریم کورٹ کا ایک ذیلی ادارہ ہے جو کہ جوڈیشل پالیسی اور عدالتی اصلاحات سے متعلق سفارشات تیار کرتا ہے۔ وزیر قانون کے مطابق جہاں تک بات عدالتی خود مختاری کی ہے اور یا ججز کی تعیناتی کی تو یہ خالص ایک آئینی نوعیت کا معاملہ ہے اور اس پر وفد مداخلت نہیں کرتا اور یہ وفد کے مشن کا حصہ بھی نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ لا اینڈ جسٹس کمیشن پہلے سے ہی بہت سارے بین الاقوامی اداروں سے رابطے قائم کیے ہوئے ہے۔
تاہم اس کے برعکس پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بتایا کہ اس نوعیت کا دورہ اور ملاقات کسی بھی ملک کے اندورنی معاملات میں مداخلت کی بہترین مثال ہے۔ ان کے مطابق اس وفد کا یہ مینڈیٹ ہی نہیں ہے کہ وہ اس طرح ملک کے چیف جسٹس سے ملیں اور پھر ان سے تفصیلی نوعیت کے سوالات کرے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے پہلے بھی قرض معاہدے کیے ہیں مگر ماضی میں کبھی سپریم کورٹ کی سطح پر آئی ایم ایف نے کوئی جائزہ نہیں لیا۔
لیکن معاشی امور کے نامہ نگار اور تجزیہ کار خرم حسین کے مطابق آئی ایم ایف وفد کی ملاقات کسی بھی طرح پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہے۔ اُن کی رائے میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے جو سات ارب ڈالر پروگرام کا معاہدہ کر رکھا ہے اس کے تحت پاکستان نے اس طرح کے جائزے کے لیے رضامندی ظاہر کر رکھی ہے۔ تاہم سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ کے مطابق سپریم کورٹ کا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں بنتا اور یہ ملاقات اگر ضلعی عدالتوں یا ہائی کورٹس کی سطح پر بھی ہوتی، تو بات قابل ہضم تھی، مگر اس سے اوپر جانے کی کوئی تُک نہیں بنتی تھی۔
حفیظ شیخ کے مطابق اس وفد کا مینڈیٹ محض اتنا ہے کہ اس نے بدعنوانی سے متعلق ایک مخصوص رپورٹ مرتب کرنی ہے جبکہ سات ارب ڈالر کے پروگرام کا جائزہ لینے کے لیے آئی ایم ایف کا وفد اگلے دو سے تین ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کرے گا جس کی بنیاد پر پھر یہ فیصلہ ہونا ہے کہ اسلام آباد کو قرض کی اگلی قسط جاری کی جانی چاہیے یا نہیں۔ تاہم خرم حسین نے وہ تفصیلات بیان کی ہیں جن میں آئی ایم ایف سے ہوئے معاہدے کے تحت پاکستان عدالتی اصلاحات کرنے کا پابند ہے اور پھر آئی ایم ایف کے جائزے سے مشروط اس پروگرام کو آگے بڑھانے کا پابند ہے۔
آئی ایم ایف کا یہ وفد ایک ہفتے کے لیے پاکستان کے دورے پر رہے گا اور چھ شعبوں کی کڑی نگرانی کرے گا کہ کیسے یہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ وفد مالیاتی گورننس، سینٹرل بینک گورننس اینڈ آپریشنز، مالیاتی شعبے پر نظر رکھے گا، مارکیٹ ریگولیشن کا جائزہ لے گا اور پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور اینٹی منی لانڈرنگ جیسے اقدامات کا جائزہ لے گا۔
یوتھیوں کو دوبارہ سے عمران خان کی رہائی کی امید کیوں لگ گئی؟
اس وفد نے عدلیہ، سٹیٹ بینک، الیکشن کمیشن، فنانس اور ریونیو اور ایس ای سی پی سمیت دیگر شعبوں کے حکام سے ملاقاتیں کرنی ہیں۔ گذشتہ برس پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سات ارب ڈالر قرض کے حصول کے لیے طے پانے والے معاہدے سے قبل پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے عائد کردہ شرائط کو پورا کرنے کی کوشش کی تھی جس کے تحت رواں مالی سال میں ٹیکس آمدن بڑھانے، مختلف شعبوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے اور نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے جیسے اقدامات شامل تھے۔
اینٹی کرپشن فریم ورک کو مؤثر بنانے کے لیے حکومت 2025 تک سول سروس ایکٹ میں ترمیم کرے گی تاکہ اعلیٰ سطح کے عوامی عہدیداروں کے اثاثوں کی ڈیجیٹل فائلنگ اور ان کی عوامی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے اور ایف بی آر کے ذریعے اثاثوں کی جانچ کے لیے ایک مستحکم فریم ورک تیار کیا جائے گا۔ عدالتی اور ریگولیٹری نظام کا جائزہ آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کا حصہ ہے اور پاکستان نے اس معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔ پاکستان نے فنڈ کو یہ یقین دلا رکھا ہے کہ وہ انسداد بدعنوانی کے لیے اپنے اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا اور وہ آگے بڑھنے کے لیے سب کو غیرامتیازی کاروباری اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا۔
