آئی ایم ایف نے ٹرمپ کے برعکس پاکستان کا رگڑا کیوں نکال دیا؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ حالیہ ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی تحریک انصاف کی ناکامی تو ہے لیکن پاکستان بارے آئی ایم ایف کی رپورٹ ہماری بڑھک باز حکومت کو خود فریبی سے باہر نکالنے کیلئے ایک ہلکی سی چپت ہے۔ تاہم اگر حکومت نے خود کو نہ سدھارا تو یہ چپت آنے والے وقت میں طمانچہ بھی بن سکتی ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ ضمنی الیکشن میں کامیابی کے بعد وفاقی حکومت کے ایک وزیر صاحب گاڑی کی چھت پر چڑھ گئے اور انہوں نے بڑھک مار کر جشن منایا۔ ادھر ایک وزیر اعلیٰ صاحبہ نے قومی اسمبلی کی چھ اور صوبائی اسمبلی کی سات نشستوں پر ضمنی الیکشن میں کامیابی کو جنرل الیکشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن دراصل ایک ریفرنڈم تھا جس نے حکومت کی گڈ گورننس پر عوامی اعتماد کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پھر بھی کچھ عاجزی دکھائی اور اپنی پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی کو اپنے بڑے بھائی نواز شریف کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر قرار دیدیا۔
دوسری طرف اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف حسب سابق کنفیوژن کا شکار تھی۔ تحریک انصاف نے ضمنی الیکشن میں 13 میں سے 11 نشستوں پر بائیکاٹ کیا اور دو نشستوں پر حکومت کے مقابلے کا اعلان کیا جہاں اس کی پوزیشن مضبوط تھی۔ لیکن حیران کن طور پر پی ٹی آئی وہ دو نشستیں بھی ہار گئی اور پھر دھاندلی کا شور مچا دیا۔ ایسے مین اہم ترین سوال یہ ہے کہ جب تحریک انصاف نے 13 میں سے 11 سیٹوں پر الیکشن میں حصہ ہی نہیں لیا تو پھر وہ دھاندلی کا الزام کیسے لگا سکتی ہے۔
حامد میر کے مطابق آجکل اہل وطن کو ایک ایسی حکومت سے واسطہ پڑا ہے جو ضرورت سے زیادہ اعتماد کا شکار ہے جب کہ اس کی اپوزیشن کے پاس کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ اُس نے پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکال کر گڈ گورننس کے راستے پر ڈالا۔ یہ درست ہے کہ اگر شہباز شریف کی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سات ارب ڈالرز کا معاہدہ نہ کرتی تو پاکستان ڈیفالٹ کر سکتا تھا لیکن آئی ایم ایف نے نومبر 2025 میں پاکستان بارےگورننس اینڈ کرپشن پر جع رپورٹ جاری کی ہے وہ صرف شہباز حکومت کی گورننس پر ہی عدم اعتماد نہیں بلکہ ہمارے پورے ریاستی نظام کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے۔
سینئیر صحافی کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ پاکستان بارے واشنگٹن کی اُس رائے کی ترجمانی کرتی ہے جس کا عکس آپکو صدر ٹرمپ کے بیانات میں نظر نہیں آتا۔ پاکستانی ریاست واشنگٹن میں مختلف لابنگ فرموں پر لاکھوں ڈالر خرچ کرکے صدر ٹرمپ کی ذاتی خوشنودی تو حاصل کر سکتی ہے لیکن ٹرمپ جس نظام کا حصہ ہیں اُس نظام میں آئی ایم ایف ایک اہم سٹیک ہولڈر ہے اور وہ پاکستان سے مطمئن نہیں۔ آئی ایم ایف سے قرضہ ملنا کوئی اہم کامیابی نہیں ہے۔ اصل کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے ایک محفوظ ملک قرار دے ۔ آئی ایم ایف کا اصل مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ کرپشن ہے ۔ اسے یہ ضمانت چاہیے کہ وہ پاکستان کو جو اربوں ڈالرز دیں گے وہ صحیح جگہ خرچ ہوں گے۔ آئی ایم والے دہشت گردی کو کمزور گورننس کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ اگر اہم حکومتی شخصیات نے آئی ایم ایف کی رپورٹ کو غور سے پڑھا ہوتا تو نہ تو حکومت کا کوئی وزیر ضمنی الیکشن میں کامیابی پر بڑھکیں مارتا اور نہ ہی وزیراعظم 13 سیٹوں پر کامیابی کو اپنی گڈ گورننس کا کرشمہ قرار دیتے ۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں گورننس پر کرپشن کے بادلوں کا مستقل سایہ ہے جس سے اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے علاوہ عوامی اعتماد بھی متاثر ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نظام حکومت میں صوابدیدی اختیارات کی زیادتی اور شفافیت میں کمی کے باعث ایک ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے جس میں مراعات یافتہ طبقہ اپنے لئے ناجائز فائدے حاصل کرتا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کے ٹیکس سسٹم کو پیچیدہ اور کسٹمز ایڈمنسٹریشن کو کرپشن میں اضافے کی وجہ قرار دیا گیا ۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں عدالتی نظام کو زوال پذیر قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انصاف فراہم کرنیوالے ادارے کرپٹ ہیں اور تجارتی تنازعات کا جلدی فیصلہ نہیں کرتے۔ اینٹی کریشن کے اداروں کا نام لیکر کہا گیا ہے کہ یہ ادارے کرپشن کم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے نیب ، ایف آئی اے اور صوبائی اینٹی کرپشن ایجنسیوں کے بارے میں کہا ہے کہ انہیں سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اسلئے یہ غیر موثر ہو چکے ہیں ۔
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ قانون کی بالادستی کے بغیر گڈ گورننس قائم نہیں ہو سکتی اور جب تک عدلیہ کو آزاد نہیں کیا جاتا اور اس ادارے میں تقرریوں کا نظام شفاف نہیں بنایا جاتا قانون کی بالادستی قائم کرنا مشکل ہے ۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں اور بھی بہت کچھ ہے لیکن زیادہ زور عدالتی نظام کی کمزوریاں دور کرنے پر دیا گیا ہے۔
کیا اگلے 15دن میں پی آئی اے کی نجکاری ممکن ہے؟
حامد میر کہتے ہیں کہ اب ذرا سوچئے کہ آئین میں 26 ویں اور 27 ویں ترمیم سے عدلیہ مضبوط ہوئی ہے یا کمزور ؟ یورپی یونین کا جی ایس پی پلس مانیٹرنگ مشن بھی جمعہ کو پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اہم ملاقاتیں کریگا ۔ یاد رکھیں کہ رُول آف لاء کے گلوبل انڈیکس میں پچھلے سال پاکستان 129ویں نمبر پر تھا جبکہ سال پاکستان 130ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ جس ملک میں عدالتیں آزاد نہ ہوں وہاں میڈیا کیسے آزاد ہو گا ؟ اب آپ جتنے مرضی ضمنی الیکشن جیت جائیں اور جتنی مرضی آئینی ترامیم منظور کراتے جائیں لیکن جس عالمی مالیاتی ادارے سے سات ارب ڈالر لیکر آپ نے پاکستان کو ڈیفالٹ بچایا وہ آپکی گورننس، عدالتی نظام اور پبلک فنڈز کی مینجمنٹ پر کرپشن کے سیاہ بادلوں کی نشاندہی کر رہا ہے۔
