دنیا کی نظر میں پاکستان کا تعارف اور تعریف کیوں بدل گئی؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے سوال کیا ہے کہ کیا کبھی کسی نے یہ سوچا تھا کہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی کی جہنم میں جلنے والا جناح کا بنایا ہوا پاکستان ایک روز پوری دنیا میں امن کا پیامبر کہلائے گا؟

 

عمار مسعود اپنے سیاسی تجزیے میں سوال کرتے ہیں کہ کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ ساری دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی ہو گی اور ایسے میں پاکستان اس بین الاقوامی تنازعے میں ثالث بنے گا؟ کیا کسی کے گمان میں بھی تھا کہ دنیا کی تمام طاقتوں کی نگاہوں کا مرکز پاکستان کی سفارت کاری ہو گی۔ کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ دنیا کی سب سے طاقتور مملکت امریکا کا صدر ہمارے فیلڈ مارشل، وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی خوشامد پر مجبور ہو گا!

 

عمار مسعود یاد دلاتے ہیں کہ یہ وہی پاکستان ہے جہاں عمران خان کے دور اقتدار میں امریکی صدر نے تین سال تک وزیراعظم پاکستان سے تہنیت کا پیغام وصول کرنے کے لیے ایک تیس سیکنڈ تک کی کال ریسپانڈ نہیں کی۔ اب اسی پاکستان کے قصیدے امریکی صدر کی زبان پر رواں ہیں۔ وہ فیلڈ مارشل کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتا۔ وہ وزیراعظم پاکستان کی دوستی کا دم بھرتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے یہی پاکستان تھا اور کسی ملک کا فرماں روا پاکستان آنے کی خواہش نہیں کرتا تھا۔ آج ساری دنیا کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ امریکا ایران تنازعے میں تصفیہ کن میٹنگ بھی پاکستان میں ہونے کا امکان ہے۔

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ آج وہ وقت دیکھ رہے ہیں جب پاکستان کا پرچم ساری دنیا میں سربلند ہو رہا ہے۔ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ وہ وقت دیکھ رہے ہیں جب پاکستان کا نام امن کے استعارے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ اس دور میں جی رہے ہیں جب دنیا پاکستان پر ’آفرین‘، ’آفرین‘ کے نعرے لگا رہی ہے۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ اس عہد کے شاہد ہیں جہاں ہم نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو ناکوں چنے چبوائے اور شکست فاش دی۔ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ اس دور میں زندہ ہیں جہاں سول ملٹری تعلقات میں کوئی رخنہ نہیں۔ جہاں ہم سب کے نصاب اور نصیب میں پاکستان کی ترقی، فلاح اور عظمت کا گواہ ہونا لکھ دیا گیا ہے۔ تاریخ کے ان تاریخی لمحات میں اس ارضِ پاکستان سے رشتہ رکھنا، اسی دھرتی کا فرزند کہلانا کتنے نصیب  کی بات ہے۔

 

انکا کہنا ہے کہ یہی پاکستان اس سے پہلے بھی دنیا کی نظروں میں رہتا تھا مگر خبروں کی نوعیت مختلف تھی۔ زاویہ مختلف تھا۔ کبھی ہمارا ذکر اے پی ایس سانحے کی وجہ سے ہوتا۔ کبھی ہم بم دھماکوں کی وجہ سے دنیا میں بریکنگ نیوز بنتے تھے۔ کبھی انسانی حقوق کی پامالی اور کبھی جمہوریت پر لشکر کشی ہماری شہرت کا سبب بنتی تھی۔ جن باتوں سے ہم اپنا منہ چھپاتے تھے وہ ہمارا تعارف بن چکی تھیں۔ جن علتوں سے ہم نبرد آزما تھے وہ ہمارا مقدر ہو چکی تھیں۔ جن جہالتوں سے ہم جان چھڑاتے تھے وہ ہماری شناخت بن چکی تھیں۔ عمار مسعود کہتے ہیں نہ جانے یہ کسی کی دعاؤں کا اثر ہے کہ اب دنیا کی نظر میں پاکستان کا تعارف اور تعریف بدل چکی ہے۔ اب ہم بے بسی کی تصویر نہیں، امن کا استعارہ ہیں۔ اب ہم لاچارگی کا نشان نہیں، عظمت و رفعت کی علامت ہیں۔ اب دنیا ہمیں خطرے کے طور پر نہیں، حلیف کے طور پر دیکھتی ہے، دوست سمجھ کر بات کرتی ہے، مدبر سمجھ کر مشورہ کرتی ہے۔ یہ سب خوش قسمتی کی دلیلیں ہیں، یہ سب خوش نصیبی کی باتیں ہیں۔

 

وہ کہتے ییں کہ ہم فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے تدبر اور وزیراعظم شہباز شریف کی انتھک محنت کے لیے ان کے شکر گزار ہیں۔ مگر یہ مقام صرف محنتوں سے نہیں بنتا، یہاں بات محبتوں اور برکتوں پر آ جاتی ہے۔ عالم اسلام میں یہ رتبہ قادرِ مطلق کے احسان کے سوا کچھ نہیں، اس کے کرم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس دور میں ہماری خوش نصیبی کی انتہا نہیں اور ہماری خوش بختی کی مثال نہیں۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے جہاں ہم خوش نصیب ہیں، وہیں بد نصیبی میں بھی کم نہیں۔ اس سے بڑھ کر اور بد نصیبی کیا ہو گی کہ جب دنیا ہمارے قصیدے پڑھ رہی ہے، جب دنیا ہماری شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہی ہے، اسی عالم میں ہم میں سے ہی کچھ بدنصیب اس صورت حال میں بھی وطن کی بھد اڑا رہے ہیں۔

 

عمار مسعود تحریک انصاف کے فوج مخالف سوشل میڈیا بریگیڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہماری بدنصیبی ہے کہ یہ لوگ پاکستان دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔ جس ملک میں رہتے ہیں اسی ملک کی توہین کر کے  ذلت کے مزے لوٹتے ہیں۔ خوش رنگ، خوش نما پاکستان کے بجائے لوگوں کو ارضِ پاک کی سیاہ تصویر دکھاتے ہیں۔

 

سینیئر تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ یہ بدنصیبی نہیں تو اور کیا ہے کہ جس فوج نے دنیا کی ایک بڑی عسکری طاقت کو دھول چٹائی، اسی کے خلاف سوشل میڈیا بریگیڈ والے محاذ بنا کر بیٹھے ہیں۔ یہ ضمیر فروش اسی سے ڈالر کماتے ہیں۔ یہ لاعلاج جونکیں عمران خان کے بیٹے قاسم خان کی پاکستان کے خلاف سازشوں کا بھی دفاع کرتے ہیں۔ یہ بدبخت اسحاق ڈار کی ملک کے لیے کاوشوں کو بھلا کر ان کے گرنے کو موضوع بناتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں پاکستان کی توقیر راس نہیں آتی۔ اس وطن کے پرچم کو سربلند دیکھ کر انہیں جلن ہوتی ہے۔ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر یہ اس وطن کی بدنامی سے گریز نہیں کرتے۔ اپنے سیاسی عزائم کے لیے یہ اس خطۂ پاک کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے۔

کشمیری کی فیلڈمارشل سے مضبوضہ کشمیر کوآزادکرانےکی اپیل

عمار مسعود کے بقول ہم خوش نصیب بھی بہت ہیں اور بدنصیب بھی کمال کے ہیں۔ خوش نصیبی کی وجہ اس ارضِ پاک کا دنیا میں موجودہ مقام اور منصب ہے اور بدنصیبی کی وجہ وہ آستین کے سانپ ہیں جنہیں اس ملک میں خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہیں۔ عمران خان کے تربیت یافتہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کی عادت ہوتی ہے اور جنہیں اس مادر وطن کے خلاف بات کر کے تسکین ملتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو چند ٹکوں کی خاطر اپنی دھرتی ماں کی برائی پر مامور ہیں۔ لیکن ان کا انجام عبرتناک ہوگا۔

Back to top button