خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کا جواز ختم کیوں ہو گیا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرا نے کہا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جو جنگ چھیڑی ہے اس کے نتیجے میں خلیجی ریاستوں میں قائم امریکی فوجی اڈوں کا جواز ختم ہو گیا ہے، کیونکہ ایران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں امریکہ خلیجی ممالک کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔
انگریزی روزنامہ دی نیوز میں اپنے سیاسی تجزیے میں نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور سکیورٹی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ جیسا شخص جس کی پالیسی سازی میں جلد بازی اور دو نمبری نمایاں ہو، جب غیر معمولی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع کرتا ہے تو اس کے اثرات سرحدوں سے نکل کر عالمی معیشت تک پہنچتے ہیں۔ نسیم زہرا نے نشاندہی کی کہ اس جنگ نے امریکہ کے اندر بھی شدید سیاسی اور ادارہ جاتی بحران کو جنم دیا ہے۔ صدر کے جنگی اختیارات کا معاملہ ایک بار پھر متنازع بن چکا ہے کیونکہ عسکری قیادت کے بعض حلقوں کی احتیاطی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے جنگی فیصلے کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تنازعہ نیا نہیں بلکہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بعد سے زیر بحث ہے، مگر حالیہ صورتحال نے اسے دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
ان کے مطابق یہ جنگ ابتدا ہی سے امریکی عوام میں مقبول نہیں تھی کیونکہ اسے قومی ضرورت کے بجائے اسرائیلی دباؤ کے تحت شروع کیا گیا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے جنگ میں مشکلات بڑھ رہی ہیں، عوامی اور سیاسی سطح پر تنقید میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے امریکی قیادت کی سٹریٹجک کمزوری کو بھی بے نقاب کیا ہے، کیونکہ ایران کو ایک روایتی ہدف سمجھ کر اس کے خلاف کارروائی کی گئی، حالانکہ ایران چار دہائیوں کی پابندیوں، جنگی تجربے اور غیر روایتی حکمت عملی کے باعث ایک مضبوط اور مزاحم ریاست بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے دوران امریکی میڈیا پر بھی دباؤ بڑھا ہے اور حکومتی حلقوں کی جانب سے تنقیدی آوازوں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے۔ ان کے مطابق جب کسی ملک میں جنگ کے دوران داخلی اختلاف کو دبایا جاتا ہے تو اس سے اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
نسیم زہرا نے کہا کہ اس جنگ نے امریکی سیاست پر اسرائیل کے اثر و رسوخ کو بھی نمایاں کیا ہے، تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے اور پہلی بار امریکی عوام، خصوصاً نوجوان نسل، اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر سوال اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں اپنے مفادات کے بجائے اسرائیل کی ترجیحات کو آگے بڑھا رہا ہے، جس سے داخلی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عسکری حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے جدید ٹیکنالوجی اور برتری کے تصور کو بھی چیلنج کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے جدید دفاعی نظاموں کے باوجود ایران نے نہ صرف حملے برداشت کیے بلکہ مؤثر جوابی کارروائیاں بھی کیں۔ اس صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ جدید ترین دفاعی نظام بھی مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ ایران کی عسکری حکمت عملی، جس میں منتشر کمانڈ سسٹم، زیر زمین تنصیبات اور متحرک لانچنگ سسٹمز شامل ہیں، نے اسے مسلسل حملوں کے باوجود فعال رکھا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس جنگ میں ایک اہم سٹریٹجک ہتھیار کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ایران نے اسے مکمل بند کیے بغیر بھی عالمی منڈیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر فوری ردعمل پیدا کیا اور بڑی طاقتوں کو اس تنازع میں مزید محتاط بنا دیا۔
نسیم زہرا کے مطابق یورپی ممالک نے اس جنگ سے فاصلہ اختیار کیا ہے کیونکہ وہ اس کے قانونی اور سٹریٹجک خطرات سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی مکمل حمایت سے گریز کیا ہے، جس سے مغربی اتحاد میں بھی اختلافات نمایاں ہوئے ہیں، جبکہ امریکی قیادت کو اپنے اتحادیوں کی محتاط پالیسی پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوابی حملوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو، جو پہلے دباؤ ڈالنے کا ذریعہ تھے، اب کمزور ہدف بنا دیا ہے۔ خلیجی ممالک ایک دوہری کیفیت کا شکار ہیں، جہاں وہ ایک طرف امریکی سکیورٹی پر انحصار کرتے ہیں اور دوسری طرف اس کی کمزوری کو بھی محسوس کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ خلیجی ریاستوں کو اپنے فوجی اڈون کے ذریعے مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے، جس سے وہاں امریکی فوجی موجودگی کے جواز پر سنجیدہ سوالات اٹھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس امریکی ناکامی کے باوجود امریکہ اور خلیجی ممالک کے تعلقات مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے کیونکہ یہ تعلقات تیل، اسلحہ، مالیاتی نظام اور عسکری تعاون سے گہرے جڑے ہوئے ہیں، تاہم خلیجی ریاستوں اور امریکہ کے مابین اعتماد میں کمی واضح طور پر سامنے آئے گی۔ اس صورتحال میں چین اور روس کو خطے میں زیادہ سفارتی جگہ مل سکتی ہے، جبکہ علاقائی سکیورٹی کے نئے نظام پر بحث بھی تیز ہو جائے گی۔
امریکی اڈے خلیجی ممالک کے لیے رحمت کی بجائے زحمت کیوں بنے؟
نسیم زہرا نے کہا کہ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ ایک ایٹمی صلاحیت رکھنے والا مسلم ملک ہے جس کے ایران اور خلیجی ممالک دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات ہیں، جبکہ ترکی بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اگرچہ اس کا کردار علاقائی حالات پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ خطے کے نظام کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کرے گی، لیکن اس نے اس کی بنیادوں کو ضرور ہلا دیا ہے۔ اب امریکہ اور اسرائیل پر مشتمل سکیورٹی ڈھانچہ دباؤ کا شکار ہو چکا ہے اور ایک نئے علاقائی توازن کی تشکیل کا عمل شروع ہو گیا ہے، جو وقت کے ساتھ مزید واضح ہوتا جائے گا۔
