کے پی حکومت نے پاکستان دشمن طالبان سے دوستی کی ضد کیوں لگا لی؟

خیبر پختونخوا کی گنڈاپور سرکار نے دہشتگردی پھیلانے والے پاکستان دشمن افغان طالبان سے پیار کی پینگیں بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کے سیاسی مخاصمت میں وفاق سے مشاورت کئے بغیر ایک بار پھر افغانستان طالبان سے دوستی بڑھانے کے فیصلہ پر شدید رد عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف وزارت خارجہ نے مذاکرات کو وفاقی معاملہ قرار دیتے ہوئےگنڈاپور سرکار کو اپنے کام سے کام رکھنے کا مشورہ دے دیا ہے وہیں دوسری جانب آرمی چیف نے افغان طالبان کے حمایت یافتہ ٹی ٹی پی کے خارجیوں کو نشان عبرت بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرپسند طالبان کی ٹھکائی کے معاملے پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو پٹا ڈالنے کے مسلسل مطالبے پر افغان طالبان کے عملدرآمد سے انکار کی وجہ سے دونوں ممالک میں تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ملک میں ہونے والے پے درپے دہشتگردی کے واقعات میں افغان طالبان کا کردار کھل کر سامنے آنے کے بعد افغانستان سے مذاکرات کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک میں اعتماد کی فضا صرف اسی صورت بن سکتی ہے اگر افغان طالبان ٹی ٹی پی کی حمایت سے پیچھے ہٹ جائیں۔ تاہم موجودہ حالات میں وفاقی پالیسیوں کے برخلاف خیبرپختونخوا حکومت کا افغان طالبان سے پیار کی پینگیں بڑھانے کا فیصلہ غیر منطقی دکھائی دیتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق گنڈا پور سرکار کو سمجھنا چاہیے کہ کسی بھی ملک کے ساتھ مذاکرات صوبائی حکومت کا معاملہ نہیں بلکہ وفاقی حکومت کا کام ہے۔ صوبے کی حکومت کا اپنے طور پر مذاکرات کا اعلان کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت کو پہلے وفاق کے ساتھ بات کرنی چاہیے تھی اور وفاقی حکومت کو قائل کرنا چاہیے تھا کہ وہ مذاکرات کا اعلان کرے۔ اگر صوبے کی حکومت افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرتی ہے تو اس کے نتائج کے بارے میں تو کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ امن چونکہ صوبے اور ملک کی ضرورت ہے۔ اس لئے صوبے کی حکومت پہلے وفاق کو ساتھ ملاتی پھر مذاکرات کرتی تو اس کے سو فیصد نتائج برآمد ہونے کے امکانات تھے۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے مذاکرات کیلئے افغانستان کے دورے کیلئے ٹی اوآرز تیارکر لئے ہیں، افغان طالبا ن سے امن وامان کے معاملے پر بات چیت کیلئے 2وفد افغانستان جائیں گے۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے افغان عبوری حکومت سے بات چیت کے لئے وفد افغانستان بھیجنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پہلاوفد مذاکرات کے لئے ماحول سازگاربنائے گا اور سفارتی امور نمٹائے گا جبکہ دوسرا وفد کئی اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ہوگا۔
تاہم جہاں ایک طرف خیبرپختونخوا حکومت نے طالبان کے ساتھ دوستی بڑھانے کیلئے وفود افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے وہیں دوسری طرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے ٹی ٹی پی کے خارجیوں کو اسلام مخالف، فسادی اور پاکستان دشمن قرار دے کر ان کی سرکوبی کو پاک فوج کا اولین فریضہ قرار دے دیا ہے اورکہا ہے کہ پاکستان پر خوارج کی اقدار، سوچ مسلط نہیں ہونے دینگے، یہ کس شریعت ، دین کی بات کرتے ہیں ،فسادی جہاد نہیں کر رہے ،یہ دین سے دور ہیں۔۔۔
مبصرین کے مطابق آرمی چیف کا فتنہ الخوارج کو اپنے انجام پر پہنچانے کا عزم ظاہر کر رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں یکسو بھی ہیں اور سنجیدہ بھی۔ آرمی چیف اس جنگ کی نتیجہ خیزی کو پاکستان کی بقا و سلامتی کے لئے ناگزیر سمجھتے ہوئے اسی لئے وہ دہشت گردی کی جڑیں کاٹنے اور دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچانے پر مصر ہیں۔ جس کے بعد خیبرپختونخوا حکومت کی افغان طالبان سے دوستی بڑھانے کی خواہش اپنی موت آپ مرتی دکھائی دیتی ہے۔
سیننئر صحافی سلمان غنی کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ کی نتیجہ خیزی کے لیے یہ بات ضرور سمجھنے کی ہے کہ دہشت گردی کا یہ عمل صرف ملک کے اندر ہی محدود نہیں بلکہ اس کے ڈانڈے ہمارے سرحدوں سے باہر جا ملتے ہیں ۔ جب دہشت گردی کے رحجان اور اس کی ذمہ داری کی بات ہوتی ہے تو اس کی بڑی وجہ مغربی سرحد پار افغان سرزمین ہے ۔ افغان انتظامیہ جو دہشت گردی کے خاتمہ کے وعدہ پر یہاں قائم ہوئی تو اس کے آنے کے بعد سے اب تک وہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے میں ناکام رہی ہے ، تاہم وہ یہ ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے پاکستان پر الزام تراشی کرتی نظر آتی ہے ۔ سب سے پیچیدہ عمل ہی پاک افغان بارڈر پر عالمی معیار کے مطابق نظم و ضبط قائم کرنا ہے لیکن گزشتہ 40 سال میں آر پار آنے والے اس نظم و ضوابط کو ماننے کے لئے تیار نہیں ۔بلاشبہ پاکستانی فوج کے افسران اور جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جس جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی اتنے دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردی کا خاتمہ ایک مشکل کام ہے اس کے ساتھ ساتھ اگر دہشت گردوں کو مدد مل رہی ہو تو یہ کام مزید مشکل ہو جاتا ہے لیکن مسلح افواج نے ثابت کیا ہے کہ ان کی تربیت اور پیشہ ورانہ اہلیت کے سامنے کوئی بھی مشکل بڑی مشکل نہیں ، انہیں ہر قیمت اور ہر حالت میں پاک سرزمین کا تحفظ اور سلامتی عزیز ہے اور وہ پاک سر زمین پر اپنی جان نثار کرنا قابل فخر سمجھتے ہیں ۔ سلمان غنی کے مطابق ہماری حکومت اور ادارے سمجھتے ہیں کہ بلوچستان و خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کے کئی مقاصد موجود ہیں مثلاً بھارت پاک افغان تعلقات کشیدہ بنا کر مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کی توجہ مغربی سرحد پر رہے دوسری جانب بھارت دنیا کو بھی یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کا بازار گرم ہے تاکہ سرمایہ کار ادھر کا رخ نہ کریں ۔اگر سپہ سالار اور مسلح افواج ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے عمل کو ہی پاکستانیت قرار دیتی نظر آ رہی ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم اس آ پریشن میں اپنی فوج کے پیچھے کھڑی ہو اور خصوصاً دہشت گردوں کے سہولت کار کی تلاش اور انہیں ان کے انجام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔
