تحریک انصاف کی قیادت دوبارہ مذاکرات کا ڈھول کیوں پیٹنے لگی؟

پی ٹی آئی اپنے تمام احتجاجی اور انتشاری کارڈز کی ناکامی اور جنرل فیض حمید کے چارج شیٹ ہونے کے بعد اب حکومت سے مذاکرات کیلئے منتوں ترلوں پر اتر آئی ہے تا کہ کسی طرح بانی پی ٹی آئی کو انجام سے بچایا جا سکے۔ تاہم تحریک انصاف کی قیادت سرتوڑ کوششوں کے باوجود حکمران اتحاد کومشروط مذاکرات پرآمادہ نہیں کر سکی جبکہ دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق نے بھی تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں کسی قسم کا کرداراداکرنے سے متعلق لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے بتایاہے کہ’’ پی ٹی آئی رہنما ان سے تعزیت کے لئے آئے تھے‘ اس کے سوا ان سے سیاسی معاملات یا مذاکرات بارے کوئی بات نہیں ہوئی‘‘۔

مبصرین کے مطابق سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو باقاعدہ چارج شیٹ کئے جانے کے بعد پی ٹی آئی قیادت کو خطرات لاحق ہیں کہ جلد عمران خان کیخلاف بھی شکنجہ کسنے والا ہے اور وہ سابق آئی ایس آئی سربراہ پر عائد الزامات کی لپیٹ میں آنے والے ہیں۔ اسی وجہ سے پی ٹی آئی قیادت نے اپنے دعووں کے مطابق غیر آئینی حکومت سے مذاکرات کی بھیک مانگنا شروع کر دی ہے تاکہ عمران خان کو ملٹری ٹرائل سے بچایا جا سکے۔ تاہم مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی عمران خان کو انجام سے بچانے کیلئے اپنی کوششوں میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی کیونکہ عمران فیض گٹھ جوڑ اپنے مذموم مقاصد کے لیے نہ صرف ملک کو بدامنی کا شکار کرنے میں ملوث تھا بلکہ اس نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تعیناتی کو رکوانے کیلئے فوج میں بغاوت کی بھی پوری کوشش کی۔ بغاوت کی فوج میں کوئی معافی نہیں اس لئے لگتا نہیں کہ جنرل فیض کو کوئی معافی ملے گی اور عمران خان انجام سے بچ پائیں گے۔ اس لئے پی ٹی آئی کو مذاکرات کا ڈھنڈورا پیٹنے کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔

خیال رہے کہ بدھ کو پورا دن پی ٹی آئی ارکان پارلیمنٹ حکومتی ارکان اور وزراء سے رابطوں کے لئے کوشاں رہے تاکہ مذاکرات کا بند دروازہ کھل سکے‘ جس پر جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایوان بالا میں صاف لفظوں میں اعلان کردیا کہ نو مئی کا فیصلہ ہونے تک وہ کچھ نہیں کرسکتے۔وہیں عطا تارڑ نے بھی پی ٹی آئی سے کسی قسم کے مذاکرات شروع ہونے کی تردید کر دی جس کے بعد پی ٹی آئی کی پیالی میں آیا ہوا مذاکرات کا طوفان تھمتا ہوا دکھائی دیا۔ تاہم ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کہ تحریک انصاف اور اسکے بانی عمران خان کو اس سال مئی میں فوج کی جانب سے نو مئی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے صدق دل سے معافی مانگنے کا جو مشورہ دیا گیا تھا یہ پیش کش بھی اب غیر موثر ہوگئی ہے کیونکہ مشورے کے بعد بانی تحریک انصاف عمران خان نے اس مشورے پر عملدرآمد کی بجائے جنگ آزمائی کا راستہ اختیار کیا اور حکومت کو بلیک میل کرنے کا آپشن استعمال کیا جس سے پوری حکومتی مشینری جام ہو کر رہ گئی اور بحال ہوتی قومی معیشت کو روزانہ کی بنیاد پر دو سو ارب کا نقصان ہوا۔ اس صورتحال میں اب حکومت کی جانب سے کوئی بھی فریق مذاکرات کرنے پر آمادہ نہیں کیونکہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر اب بھی پی ٹی آئی سے کسی قسم لے مذاکرات کئے گئے تو اسے بھی بانی تحریک اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے من پسند معنی پہنا کر دوبارہ ہنگامے اور فساد کا ماحول تیار کرسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اب۔کوئی بھی فریق پی ٹی آئی قیادت پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔ حالانکہ اب تحریک انصاف حکومت سے غیر مشروط مذاکرات کیلئے بھی آمادہ ہے تاہم حکومت کی جانب سے مسلسل لال جھنڈی لہرائی جا رہی ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے اپنے پیشگی مطالبات سے پیچھے ہٹ گئی ہے اب‘پی ٹی آئی صرف 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کاقیام چاہتی ہے اور اس کیلئے اپنا جارحانہ اور انتشار پسندانہ طرز عمل ترک کرنے پر آمادہ ہے تاہم حکومت یوتھیوں پر قطعا اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔

تاہم پی ٹی آئی حلقوں کے دعوؤں کے مطابق اسد قیصر بدھ کو ایاز صادق کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کیلئے اسپیکر ہاؤس گئے جہاں دونوں کے مابین غیر رسمی گفتگو میں سیاسی ماحول سے جارحانہ پن ختم کرنے کی بات ہوئی‘اسی دوران سلمان اکرم راجہ بھی اسپیکر ہاؤس پہنچ گئے‘اسپیکر نے انہیں بھی سیاسی شدت پسندی ختم کرنے کا مشورہ دیا‘اس دوران وزیر اعظم محمد شہبازشریف بھی اسپیکر ہاؤس پہنچ گئے اور دعا کے بعد شریک گفتگو بن گئے جس پرفریقین نے معاملات کو آگے بڑھانے کا عندیہ دیا۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مخصوص جارحانہ طرز عمل میں تبدیلی‘ پارلیمانی اور مرکزی رہنماؤں کے لب و لہجے میں دھمکی آمیز رویوں میں دھیما پن اور سب سے بڑھ کر حکومت سے مذاکرات پر آمادگی کے حوالے سے فضا بننے کے کئی اشارے مل رہے ہیں‘ تاہم دانندگان راز اس ساری بدلتی ہوئی صورتحال کو آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کیخلاف کورٹ مارشل کے اگلے مرحلے میں باضابطہ چارج شیٹ کئے جانے کے مرحلے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق جنرل فیض حمید کے چارج شیٹ کئے جانے کے بعد بانی پی ٹی آئی کو بچانے کیلئے ہی پی ٹی آئی نے اچانک مذاکرات کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیا ہے ورنہ ان کا انتشاری طرز عمل تاحال۔قائم ہے۔

عمران کی گرفتاری کے بعد سے ترسیلات زر میں اضافے کا انکشاف

اس صورت حال میں سیاسی تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ مسائل کا حل سیاسی مذاکرات میں ہی مضمر ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے اعتماد سازی ہو اور سیاسی عزم واضح ہوں۔‘ البتہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش پر مثبت ردِعمل دے۔‘شاہزیب خانزادہ کے مطابق کچھ ہی دن میں پی ٹی آئی کا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کا منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل ہوگیا ہے، احتجاج میں ناکامی کے بعد پی ٹی آئی تو حکومت سے مذاکرات کے لئے تیار نظر آرہی ہے مگر حکومت اسے سنجیدہ نہیں لے رہی ہے۔ ایسے میں مذاکرات کی کامیابی کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔

Back to top button