فوجی اسٹیبلشمنٹ بلاول بھٹو سے ناراض کیوں ہو گئی؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے 27ویں آئینی ترمیم کے دوران فوجی اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لانے اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی، جسکے باعث ترمیم کی منظوری سے ایک رات قبل شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔ ان کے مطابق اگرچہ ترمیم منظور ہو گئی، لیکن اس عمل نے پیپلز پارٹی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں واضح دراڑ ڈال دی۔
اپنے سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاملہ یہیں تک محدود رہتا تو حالات سنبھل سکتے تھے، مگر 11 جنوری کو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو باغِ جناح میں جلسے کی اجازت دے کر اس دراڑ کو مزید وسیع کر دیا گیا۔ انکے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ کو کھلے عام چیلنج کرنے والے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کراچی جانا پہلے ہی حساس معاملہ تھا، تاہم پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کرنا دوسری بڑی سیاسی غلطی ثابت ہوئی۔
سینیئر صحافی کے مطابق یہ اقدام بھی شاید برداشت کر لیا جاتا، لیکن جلسے کی اجازت، عوام کی بڑی تعداد میں شرکت، اور پھر سہیل آفریدی کی تقریر کا قومی میڈیا پر نشر ہونا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ناقابلِ برداشت بن گیا۔
جاوید چوہدری کے مطابق تاریخ کے طالب علم ہونے کے ناطے وہ پورے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ سہیل آفریدی کا آخری جلسہ اور بلاول بھٹو کو دی جانے والی آخری ڈھیل تھی۔
ان کے مطابق آئندہ نہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اس نوعیت کی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ملے گی اور نہ ہی بلاول بھٹو کو مزید ایسے فیصلوں کی آزادی دی جائے گی۔ انکے مطابق بلاول بھٹو کی یہ غلطی ناقابلِ معافی ہے اور بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہاتھی کے منہ سے گنا کھینچنے کی کوشش کی جائے۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو کو اب اس فیصلے کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جبکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی بھی خود کو محفوظ نہ سمجھیں کیونکہ وہ بھی طاقت کے اس کھیل میں ہاتھی کے پاؤں تلے آنے سے نہیں بچ سکیں گے۔
جاوید کا کہنا تھا کہ دراصل بلاول بھٹو وہی غلطی دہرا بیٹھے ہیں جو ماضی میں سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو نے کی تھی، جب انہوں نے اپنے باس صدر جنرل ضیاء الحق کو ناراض کیا اور اس کا نتیجہ اقتدار سے برطرفی کی صورت میں نکلا۔ جاوید کہتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر آج تک پاکستانی سیاست میں اصل طاقت فوج کے پاس ہی رہی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی فوجی حکمران نے کسی سویلین کو وقتی ڈھیل دی اور اگلا غلط فہمی کا شکار ہو کر اسے اپنی سیاسی طاقت سمجھا تو اس کا انجام برا ہی نکلا۔
اسی تناظر میں جنرل ضیاء الحق اور محمد خان جونیجو کے تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے جاوید بتاتے ہیں کہ یہ پاکستانی سیاست میں فوج اور سویلین اقتدار کی حد بندی کی کلاسک مثال ہے۔ ان کے مطابق جنرل ضیاء الحق نے محمد خان جونیجو کو ایک کمزور اور فرمانبردار وزیراعظم سمجھ کر اقتدار سونپا تھا، تاہم اقتدار میں آنے کے بعد جونیجو نے نہ صرف مارشل لاء کے خاتمے کی بات شروع کر دی بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے فوجی آمریت کو سیاسی طور پر محدود کرنے کی کوششبھی شروع کر دی۔ جاوید چوہدری کے بقول جونیجو کی جانب سے بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کی اجازت، آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد اور افغان پالیسی پر اختلاف، وہ فیصلے تھے جنہوں نے ضیا کو یہ پیغام دیا کہ سویلین وزیراعظم خود کو دی گئی ڈھیل کو اپنی طاقت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے ٹکراؤ ناگزیر ہو گیا۔ چنانچہ جنرل ضیاء الحق نے آٹھویں آئینی ترمیم کو استعمال کرتے ہوئے محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کر دیا اور انہیں گھر روانہ کر دیا۔
کیا خان کی چوائس اسٹیبلشمنٹ مخالف اچکزئی اپوزیشن لیڈر بن پائیں گے؟
جاوید چوہدری کے مطابق تاریخ کا سبق بالکل واضح ہے کہ پاکستانی سیاست میں اصل طاقت فوج کے پاس رہی ہے اور جو سویلین حکمران دی جانے والی رعایت کو اپنی طاقت سمجھ بیٹھا، وہ ہمیشہ نقصان میں رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ آج بلاول بھٹو بھی اسی راستے پر چلتے دکھائی دے رہے ہیں، اور اگر ماضی سے سبق نہ سیکھا گیا تو تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا سکتی ہے۔
