فوجی ترجمان کو پاگل عمران کے الزامات کا جواب کیوں دینا پڑا؟

معروف لکھاری وسعت اللہ خان نے فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے غصے بھرے جذبات سے ایسا محسوس ہوا جیسے عمران خان جیلر ہے اور بھائی لوگ اس کے قیدی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران واقعی ایک ذہنی مریض ہے تو اس کے الزامات کا اتنی تفصیل کے ساتھ جواب دینے کی کیا ضرورت تھی؟
بی بی سی اردو کے لیے اپنی تحریر میں وسعت اللہ خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘محترم و مکرم ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب، بھاگ لگے رہن، مولا سلامت رکھے، جگ جگ جیئں۔ اوپر والا آپ کو بھی ایک دن فیلڈ مارشل بنائے اور عزت و تکریم کے مقامِ ثریا پر ہمیشہ براجمان رکھے۔ انہوں نے لکھا کہ دنیا جانتی ہے کہ آپ ہیں تو ہم ہیں، اور آپ کے ادارے کے بغیر پاکستان کئی مسائل کا شکار ہو سکتا تھا، جیسے افغانستان، شام، عراق اور صومالیہ میں حالات’۔
وسعت اللہ خان نے کہا کہ آپ ہی کے پیشروؤں نے قوم کا سر ہمیشہ فخر سے بلند رکھا، چاہے 1948 اور 1965 کی جنگِ کشمیر ہو، 1971 کا معرکہِ حق و باطل ہو یا 1999 کا کارگل۔ آپ نے افغانستان سے سوویت اور بعد میں امریکی سامراج کو نکال باہر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور کشمیریوں کو عزت اور خودداری سے جینے مرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ 78 برس میں جب بھی ناکام یا نااہل سیاسی حکومتیں ملک کی کشتی کو ڈوبا دیتیں، فوج نے ہمیشہ اسے سنبھالا۔
وسعت اللہ خان نے فوج کے عزم اور طاقت کو تاقیامت برقرار رہنے کی دعا کی اور طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ کارکردگی عالمی سطح پر بھی مشہور ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ، شی جن پنگ، محمد بن سلمان، رجب طیب اردوان اور علی خامنہ ای جیسے رہنما بھی اس کی تعریف کرتے ہیں۔ وسعت کے مطابق فوجی ترجمان نے درست کہا کہ فوج کا سیاست سے لینا دینا نہیں، اور یہ ریاستی احکامات کے مطابق کام کرنے والا ایک ادارہ ہے۔ عدلیہ اور پارلیمنٹ سپریم ہیں، اور آئین صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ریاست کی روح ہے۔ پھر وہ طنزیہ انداز میں سوال کرتے ہیں کہ اگر عمران خان ایک ذہنی مریض ہے، تو اس کے الزامات کے جواب میں اتنی طویل پریس کانفرنس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کے مطابق پریس کانفرنس دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے عمران خان جیلر ہے اور فوج اس کے قیدی۔
وسعت اللہ خان نے جیل کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں عمران کے علاوہ سینکڑوں اور قیدی ہیں جو اپنے جرائم یا سزاؤں کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ یہ قیدی مختلف مسائل سے دوچار ہیں، جن میں جسمانی اور نفسیاتی امراض بھی شامل ہیں۔ قیدی آپس میں لڑتے ہیں، اول فول بھی بکتا رہتا ہے، چیختے چلاتے ہیں، اور یہ دنیا بھر کی جیلوں میں معمول کی بات ہے۔ جیل کا ہسپتال اور انتظامیہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے موجود ہے، اور کسی ایک پاگل قیدی کے لیے خصوصی پریس کانفرنس کرنا ادارے کے شایانِ شان نہیں ہے۔
انکا کہنا تھا کہ ایک ذہنی مریض کی حیثیت سے عمران اپنی صلاحیتوں میں محدود ہے، لہٰذا اس کے الزامات پر سنجیدہ پریس کانفرنس کرنا اخلاقی اور طبی اصولوں کے خلاف ہے۔ ذہنی مریض اپنے منصوبے خود نہیں بنا سکتا اور نہ ہی قومی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ بن سکتا ہے؛ اس کے لیے زیادہ ضرورت نگرانی اور علاج کی ہے۔ اگر فوج کے معتبر طبی ماہرین نے کسی قیدی کو ذہنی مریض قرار دیا ہے، تو یہ لازمی ہے کہ اس کی حالت کو رازداری اور معیاری علاج کے ساتھ سنبھالا جائے۔
وسعت اللہ خان نے طنز کے ساتھ کہا کہ فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس سے یہ تاثر ملا کہ یہ ملک عجیب ہے جہاں ایک شخص، جسے ذہنی مریض قرار دیا گیا، نہ صرف سیاسی پارٹی بناتا ہے بلکہ ایک جوہری ملک کا وزیراعظم بھی بن جاتا ہے اور لاکھوں لوگوں کو اپنے پیروکار بنا لیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی ترجمان کے مطابق عمران خان غدار، انڈیا اور افغانستان کے ایجنڈے کا سہولت کار اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، مگر حقیقت میں ایک ذہنی مریض اس قسم کے منصوبے خود سے نہیں بنا سکتا۔
عمران کی دھلائی حکومت کی بجائے فوجی ترجمان نے کیوں کی؟
وسعت اللہ خان نے کہا کہ اس ملک میں پہلے بھی کئی وزرائے اعظم اور رہنما قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار پائے، اور اب ایک ذہنی مریض کی داستان بھی دیکھنی باقی تھی، جس نے ساڑھے تین سال حکومت کی اور لاکھوں لوگوں کو اپنے جیسا بنایا۔ آخر میں انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ فوجی ترجمان نے پریس کانفرنس کر کے یہ تاثر دیا کہ عمران خان جیلر ہے اور فوج اس کے قیدی، جبکہ حقیقی طور پر یہ ادارے کی شایانِ شان نہیں ہے کہ ایک فرد کے ذاتی بیانات پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر تشہیر کی جائے۔
