ایم کیوایم نے اچانک سڑکوں پر آنے کا منصوبہ کیوں بنالیا ؟

 

 

 

عوامی طاقت کے بل پر کراچی پر حکمرانی کرنے والی ایم کیو ایم آج باہمی اختلافات اور گروپ بندی کی وجہ سے سیاسی روبوٹس پر مشتمل ایک کٹھ پتلی جماعت بن چکی ہے۔ پارٹی کی عوامی پذیرائی میں مسلسل کمی نے قیادت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اسی صورتحال کے پیشِ نظر ایم کیو ایم نے اندرونی دھڑے بندی اور گرتی ہوئی عوامی مقبولیت پر قابو پانے کے لیے ’’کراچی بچاؤ مہم‘‘ کے نام پر سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاکہ عوام میں تیزی سے کمزور پڑتی ہوئی اپنی سیاسی ساکھ کو کسی حد تک بحال کیا جا سکے۔

مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی دھڑے بندی یا گروپنگ کی کہانی خاصی پیچیدہ اور پرانی ہے۔ جو اب ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اصولی طور پر ایم کیو ایم پاکستان میں اتحاد کی وجہ سے مرکزی دھڑے بندی دب چکی ہیں تاہم پارٹی قائدین کے مابین اندرونی طور پر اختلافات اور رسہ کشی تاحال موجود ہے جبکہ کچھ معاملات پر پارٹی قیادت میں سنجیدہ اختلافات بھی پائے ہیں جو کسی بھی وقت لاوے کی شکل میں پھٹ کر سامنے آ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ایم کیوایم کے مختلف دھڑوں اور گروپوں سے وابستہ افراد کو پارٹی میں اہم عہدے دئیے گئے ہیں تاہم آپس میں عوام کے سامنے شیروشکر ہونے کے باوجود ایم کیوایم رہنماؤں میں اندرونی اختلافات تاحال موجود ہیں اور ان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔ پارٹی کے اندرونی اجلاسوں، تنظیمی تبدیلیوں اور فیصلوں پر سینیئر رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے اختلافات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

 

ناقدین کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان حالیہ عام انتخابات میں کراچی کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی، تاہم اس بار تمام دھڑوں کو یکجا کرنے والی ایم کیو ایم پاکستان اندرونی اختلافات اور باہمی کشمکش کے باعث عوامی پذیرائی میں واضح کمی کا سامنا کر رہی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے آخری 2 جلسے اس جماعت کی کراچی میں مقبولیت کا احوال بتاتے ہیں، جبکہ مصطفیٰ کمال کی جانب سے آخری پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کی سینیئر قیادت کا نا ہونا بھی اشارہ کر رہا ہے کہ اندرون خانہ اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔

 

دوسری جانب ایم کیو ایم کی عوامی مقبولیت میں کمی کا اندازہ اس واقعے سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کراچی میں ایک ٹریفک حادثے کے فوراً بعد ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار موقع پر پہنچے، تاہم پہلی بار ایسے مناظر دیکھنے میں آئے کہ مشتعل عوام نے انہیں نہ صرف گاڑی سے اترنے کی اجازت نہیں دی بلکہ شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان پر سخت جملے بھی کسے۔ اس صورتحال کو پارٹی کی گرتی ہوئی عوامی پذیرائی کی واضح علامت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد ایم کیو ایم نے عوامی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے کراچی میں مضبوط اور بااختیار مقامی حکومت کے قیام، کراچی اسٹریٹجک ڈیولپمنٹ پلان 2020 پر مؤثر عملدرآمد، ای چالان سسٹم کے نفاذ، شہر کی ابتر بلدیاتی صورتحال، ٹریفک کے بے ہنگم نظام اور ڈمپرز، لوڈرز و دیگر ہیوی وہیکلز کے باعث شہریوں کی اموات جیسے سنگین مسائل کے حل کے نام پر ’’کراچی بچاؤ مہم‘‘ کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم کی جانب سے اس مہم کے دوران بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز، جن میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چھینا جھپٹی، سالانہ 20 ہزار سے زائد موبائل فونز کی ڈکیتیاں، چوری اور رہزنی کی 50 ہزار سے زیادہ وارداتوں کی رپورٹنگ، جعلی ڈومیسائلز کے اجرا اور کراچی کے نوجوانوں کو منظم انداز میں محدود کیے جانے جیسے مسائل بھی آواز اٹھانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں تاکہ کم ہوتی ہوئی عوامی مقبولیت کو روکا جا سکے۔

سہیل آفریدی فوج کی بجائے TTP کے ساتھ کیوں کھڑے ہو گئے؟

مبصرین کے مطابق  ایم کیو ایم پاکستان اندرونی اختلافات کے باعث ڈلیور نہیں کر پا رہی، اسی وجہ سے عوام ایم کیو ایم پاکستان سے متنفر دکھائی دے رہے ہیں، جس کی ایک جھلک نیپا چورنگی میں فاروق ستار کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے۔ وہ فاروق ستار جو کم عمر میئر منتخب ہوئے، وہ فاروق ستار جن کے اشاروں پر یہ شہر حرکت میں آتا تھا، ان کے ساتھ عوام نے نہ صرف انتہائی سخت لہجہ اپنایا بلکہ انھیں ننگی گالیاں بھی دیں اور گاڑی سے اترنے تک نہیں دیا گیا جو ایک پیغام ہے کہ اب عوام ان کے ہاتھوں کا کھلونا بننے کو تیار نہیں، مبصرین کے بقول ایم کیو ایم کی قیادت کو سوچنا ہے کہ وہ کس سمت پر گامزن ہیں اور وہ کیوں لوگوں کی محبتیں سمیٹنے کے بجائے عوامی نفرت کا نشانہ بن رہے ہیں۔

 

ناقدین کے مطابق ’کراچی بچاؤ مہم کا مقصد کیا ہے، یہ کس سے کراچی کو بچانا چاہتے ہیں، جبکہ یہ خود کو تو بچا نہیں پارہے ہیں، پہلے کراچی والوں کے دلوں میں جگہ تو بنائیں پھر مہم چلائیں۔

Back to top button