امریکی سٹاک مارکیٹ گرنے کے بعد  پاکستانی مارکیٹ میں اضافہ کیوں ؟

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک پر امریکہ منگوائی جانے والی اشیا پر نئے ٹیرف یا ٹیکس کے نفاذ نے عالمی معاشی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کے نتیجے میں امریکی سٹاک مارکیٹ سے لے کر یورپی اور ایشیائی سٹاک مارکیٹس  بھی مندی کا شکار ہو گئی ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود پاکستان کی چھوٹی سی سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھنے میں آئی۔ ٹرمپ کی جانب سے ٹیکسوں کے نفاز کے اعلان کے اگلے روز جمعے کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کی ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 20 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی عبور کر گئی۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ٹیرف عائد کرنے کے اعلان سے پاکستان بھی متاثر ہو گا کیوں کہ پاکستان سے امریکی جانے والی برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف عائد ہوا ہے۔ نئے ٹیرف کا نفاذ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کی معیشت پہلے ہی متعدد مسائل کا شکار ہے۔ ٹیرف کے اعلان کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹ میں ’ایپل‘ نامی ٹیکنالوجی کمپنی کے حصص کو بدترین کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکے حصص کی قدر نو فیصد کم ہونے سے ایپل کمپنی کو 310 ارب ڈالرز کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

دوسری جانب عید کی چھٹیوں سے قبل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے ایک حصص کی قیمت 410 روپے تھی لیکن جمعرات کے روز کاروبار کے اختتام پر اس کی قیمت 444 روپے فی حصص پر بند ہوئی۔ جمعے کے روز بھی اس کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا اور اس کی قیمت کاروبار کے اختتام پر 482 روپے فی حصص پر بند ہوئی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ آخر پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں بہتری کی وجہ کیا ہے؟ سوال یہ بھی یے کہ کیا واقعی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کو امریکی ٹیرف سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا؟

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ عالمی معاشی منظر نامہ نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں سات روپے فی یونٹ سے زائد کی کمی معیشت کے لیے اچھی خبر ہے جس کا اثر سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر مثبت انداز میں ہوا۔

کیپیٹل مارکیٹ کے تجزیہ کار نبیل ہارون نے بتایا کہ پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں بہتری کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان ہے۔ انھوں نے کہا کہ صنعتی صارفین کے لیے بھی بجلی کی قیمت کم ہوئی ہے جس سے پیداوار میں اضافے کا امکان ہے۔ اسی طرح مہنگائی بھی کم ہوئی یے اور ماہانہ بنیادوں پر پاکستان کا تجارتی خسارہ بھی کم ہوا ہے۔

پاکستانی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیکس سے معاشی مسائل بڑھنے کا خطرہ

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کو پانچ سال میں ختم کرنے کے اعلان نے بھی پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں اضافہ کیا ہے۔ معاشی تجزیہ کار جبران سرفراز کے مطابق بجلی کی قیمت میں کمی نے سٹاک مارکیٹ میں تیزی پیدا کی، تو اس کے ساتھ مارچ میں مہنگائی کی شرح میں کمی نے بھی سٹاک کاروبار میں مثبت رجحان کو فروغ دیا ہے۔

دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس کے مقابلے میں پاکستانی سٹاک ایکسچینج میں اضافے کی ایک اور وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ یہ مارکیٹ معاشی اصولوں کی بجائے چند افراد اور گروپوں کے ذریعے چلائی جاتی ہے جو اس میں تیزی اور مندی لاتے ہیں۔ اس تاثر کے بارے میں مالیاتی امور کے ماہر راشد مسعود عالم کا کہنا ہے کہ یہ تاثر کدی حد تک درست ہے کیونکہ پاکستانی سٹاک ایکسچینج کو کاروبار کے معاشی اصولوں کی بجائے چند افراد کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ انکے مطابق ایسا جزوی طور پر ہوتا ہے اور اس عمل میں بڑے بروکرز شامل ہوتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ بڑے کاروباری ادارے اس میں براہ راست مداخلت نہیں کرتے، تاہم ان ڈائریکٹ طریقے سے وہ اس میں ملوث ہوتے ہیں۔ لیکن عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو شاہد علی حبیب اس تاثر کی نفی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی بیس بہت بڑی ہے اور یہ چند ہاتھوں کی بجائے بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے جس میں بینک، انشورنس کمپنیاں، ہائی نیٹ افراد اور غیر ملکی سرمایہ کار شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ چند افراد یا گروپ اس کو کنٹرول کر سکیں۔ ان کا اصرار تھا کہ پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں موجودہ تیزی کی وجہ ملکی معیشت میں بہتری ہے۔

Back to top button