8 ستمبر کو پی ٹی آ ئی کا جلسہ نہ ہونے کے امکانات روشن کیوں ہو گئے؟

تحریک انصاف کے 8 ستمبر کے اسلام آباد جلسے کے حوالے سے عمرانڈو رہنمائوں کے سوشل میڈیا پر بلند و بانگ دعوؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم جہاں ایک طرف رانا ثناء اللہ نے جلسے کا اجازت نامہ منسوخ ہونے کا اشارہ دے دیا ہے وہیں دوسری جانب پی ٹی آئی میں اختلافات کی وجہ سے پارٹی رہنما جلسے کی تیاریوں میں بھی سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف میں پارٹی اختلافات بہت سنجیدہ شکل اختیار کر چکے ہیں۔پی ٹی آئی اس وقت علیمہ خان گروپ، گنڈا پور گروپ،بیرسٹر گوہر گروپ، علی محمد خان گروپ اور شیر افضل مروت گروپ میں تقسیم ہو چکی ہے۔ یہ سارے گروپس ایک دوسرے کے احکامات ماننے سے انکاری ہیں جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی کے متحارب گروپ پارٹی مفادات کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ ملکر چلنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرنے اور ٹانگیں کھینچنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ انھی اختلافات کی وجہ سے پی ٹی آئی قیادت نے اپنے منہ پھٹ رہنما شیر افضل مروت کو 8 ستمبر کے اسلام آباد جلسے کی آرگنائزنگ کمیٹی سے ہی فارغ کر دیا ہے جس پر وہ سراپا احتجاج ہیں۔شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ مجھے 8 ستمبر کے جلسے کی آرگنائزنگ کمیٹی سے باہر رکھا گیا ہے، مجھے دور رکھ کر پی ٹی آئی کی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔جلسہ ناکام ہوا تو میں ذمہ دار نہیں۔ مروت نے مزید کہا کہ مجھے نہیں لگتا حکومت پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دے گی۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ نے واضح اشارہ دیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو 8 ستمبر کے جلسے کی اجازت نہیں ملے گی۔ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ جب تک پی ٹی آئی خود کو 9 مئی سے علیحدہ نہیں کرتی تب تک انہیں نہیں لگتا کہ انتظامیہ اسے کسی قسم کے جلسے کی اجازت دے گی۔
تاہم ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے باہمی اختلافات اور حکومتی اجازت ایک طرف، تحریک انصاف کی جانب سے جلسے کی مربوط تیاریاں نہ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد میں 8ستمبرکو جلسہ منعقد ہونے کے امکانات معدوم ہورہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جلسے کے حوالے سے تحریک انصاف کی اپنی صفوں میں سنگین ابہام پیدا ہوگیا ہے۔ جلسے کے انتظام و انصرام کے سلسلے میں قائم کردہ کوئی کمیٹی متحرک نہیں ہوئی اور نہ ہی جلسے کے بندوبست کیلئے ابتدائی تیاریوں پر توجہ دی گئی ہے۔جلسے کے انعقاد میں چند دن باقی ہیں تاہم تحریک انصاف نے تاحال اسٹیج بنانے، کرسیاں لگانے، دریاں بچھانے، روشنی و تزئین و آرائش کیلئے کسی کمپنی سے رابطہ نہیں کیا جبکہ ڈی جے تک کا انتظام نہیں کیا جاسکا۔ ذرائع کے مطابق خود تحریک انصاف کی طرف سے جلسہ کے منتظم کی حیثیت سے سیکورٹی کے کسی ادارے سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ اسٹیج پر بٹھائے جانے والے افراد کا چناؤ کرنا ہے چونکہ باہمی اختلافات کی وجہ سے تحریک انصاف کے مختلف گروپس ایک دوسرے کے لوگوں کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اس لئے سٹیج پر بیٹھنے والے افراد کی لسٹ بنانا بھی منتظمین کیلئے ایک چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
جہاں ایک طرف حکومت پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت کے فیصلے سے پیچھے ہٹتی دکھائی دیتی ہے وہیں دوسری جانب سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے وفاقی دارالحکومت میں پرامن جلسے اور جلوسوں کے حوالے سے بل کی کثرت رائے سے منظوری دیدی ہے ۔بل کے مطابق حکومتی اجازت کے بغیر کے جلسہ جلوس کرنے یا اس میں شامل ہونیوالوں کو تین سال تک جیل میں ڈالاجاسکے گا،۔سینیٹرعرفان صدیقی نے بل پر بحث کرتے ہوئے کہا یہ بل اسلام آباد کی حد تک ہے،لوگوں کو پریشانی سھ بچانے کیلئےکوئی ایک جگہ مختص کردی جائے جہاں احتجاج کیا جاسکے گا، بغیر پیشگی اجازت کے کسی کو جلسہ یا جلوس نہیں نکالنے دیا جائے گا۔بل لانے کا مقصد ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کو قانون کے مطابق لایا جائے۔
