پیپلز پارٹی نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی کیوں دے ڈالی؟

 

 

 

اسلام آباد میں ایک مرتبہ پھر 18ویں آئینی ترمیم کے خاتمے کے لیے 28ویں ترمیم لانے کی افواہوں کے بعد پیپلز پارٹی نے اپنی اتحادی مسلم لیگ نواز پر واضح کر دیا ہے کہ اگر ایسا کوئی منصوبہ بنایا گیا تو پیپلز پارٹی نہ صرف حکومتی اتحاد سی علیحدہ ہو جائے گی بلکہ اس ترمیم کی ڈٹ کر مخالفت کرے گی۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کسی کے باپ میں بھی جرات نہیں کہ 18ویں آئینی ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔

 

دوسری جانب پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ طویل عرصے سے 18ویں آئینی ترمیم کو ریاستی نظم و نسق کے لیے ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتی رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کمزور جبکہ صوبے غیر معمولی حد تک طاقتور ہو گئے، جس کے نتیجے میں قومی سطح پر پالیسی سازی، داخلی سلامتی، تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں میں یکسانیت ختم ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس ترمیم کو عسکری و بیوروکریٹک حلقے ’غیر متوازن وفاق‘ کی علامت سمجھتے ہیں، جہاں مرکز کے پاس نہ مکمل اختیار ہے اور نہ ہی صوبوں کو جوابدہ بنانے کا مؤثر نظام موجود ہے۔

 

اسی پس منظر میں 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اسلام آباد میں ہونے والی مشاورت نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا حکومت درحقیقت 18ویں ترمیم کو واپس لینے یا کمزور کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے، یا یہ محض بلدیاتی نظام کی اصلاح کا معاملہ ہے۔ یہ بحث حال ہی میں تب شدت اختیار کر گئی جب قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے 18ویں ترمیم کو ’ڈھکوسلہ‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم کے ذریعے اختیارات عوام کی نچلی سطح تک منتقل ہونے کے بجائے صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے شہروں میں انتظامی بحران پیدا ہوا۔ انہوں نے کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں مؤثر بلدیاتی نظام کے فقدان کو شہری مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کراچی کے گل پلازہ میں حالیہ آتشزدگی کو اس ناکامی کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔

 

خواجہ آصف کے بیان پر پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے مطالبہ کیا تھس کہ حکومت واضح کرے آیا وہ 18ویں ترمیم پر نظرثانی کا ارادہ رکھتی ہے یا نہیں، کیونکہ ان کے بقول ملک مزید آئینی تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ 18ویں ترمیم وفاقی جمہوریت کی بنیاد ہے اور اس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ملکی استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

 

ادھر ایم کیو ایم پاکستان نے 18ویں ترمیم کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کا اصل مسئلہ اسکا غلط استعمال ہے۔ ان کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کو عملی طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے اور صوبائی حکومتیں مالی شفافیت دکھانے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے اس شق پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا جس کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتیں وفاق سے ملنے والے وسائل نچلی سطح تک منتقل نہیں کر رہیں اور بلدیاتی اداروں کو دانستہ طور پر غیر مؤثر رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 140 اے میں ترمیم کر کے بلدیاتی انتخابات کو بروقت اور لازمی بنانا اور پورے ملک میں یکساں بلدیاتی قوانین نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 28ویں ترمیم کے مجوزہ خدوخال پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے رہنما کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حکومت اس ترمیم کے ذریعے صوبوں سے اختیارات واپس لے کر وفاق کو دینا چاہتی ہے، جس کی ان کی جماعت بھرپور مخالفت کرے گی۔ ان کے مطابق بلدیاتی نظام، نئے صوبوں کا قیام اور انتظامی ڈھانچے جیسے معاملات آئینی طور پر صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور ان میں وفاقی مداخلت صوبائی خودمختاری کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

حکومت کی جانب سے تاہم یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ 18ویں ترمیم کو ختم کرنا مقصود نہیں۔

 

دوسری طرف وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کے مطابق 28ویں آئینی ترمیم کی تیاری جاری ہے اور اس سلسلے میں اتحادی جماعتوں سے غیر رسمی مشاورت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم اپریل کے آخر میں بجٹ سے قبل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس میں بلدیاتی نظام کو فعال بنانے، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری سے متعلق تجاویز شامل ہوں گی، اور کسی بھی پیش رفت سے قبل پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق اصل تنازع 18ویں ترمیم کے متن سے زیادہ اس کی روح پر عملدرآمد کا ہے۔ صدر آصف زرداری کے ایما پر 2010 میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی اس ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات کم کیے گئے، پارلیمان کو مضبوط بنایا گیا، 17 وفاقی وزارتیں صوبوں کو منتقل کی گئیں اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کا مالی حصہ بڑھایا گیا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صوبوں نے یہ اختیارات آگے ضلعی اور بلدیاتی سطح تک منتقل نہیں کیے، جس سے عام شہری کو براہِ راست فائدہ نہیں پہنچ سکا۔

پی ٹی آئی کا غلطی مان کر سٹینڈنگ کمیٹیوں میں واپسی کا فیصلہ؟

اسی نقطے کو بنیاد بنا کر طاقتور ریاستی حلقے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اگر مرکز کو محدود اختیارات واپس نہ دیے گئے تو قومی سطح پر گورننس کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس پیپلز پارٹی اسے مرکزیت کی طرف واپسی کی کوشش قرار دیتی ہے اور واضح کر چکی ہے کہ وہ 18ویں ترمیم کو ختم یا کمزور کرنے والی کسی بھی آئینی تبدیلی کی حمایت نہیں کرے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم کو مکمل طور پر واپس لینے کا کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم بلدیاتی اصلاحات کے نام پر صوبائی اختیارات میں کمی کی کوشش کی گئی تو یہ معاملہ ایک بار پھر شدید سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر وفاقی نظام کے مستقبل پر پڑے گا۔

Back to top button