سونے اور چاندی کی قیمتیں اچانک نیچے کیوں گرنے لگیں؟

 

 

 

عالمی معاشی غیر یقینی اور امریکی مالیاتی پالیسیوں کے اثرات اب واضح طور پر پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اُتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حالیہ دنوں سونے کی قیمت میں ہونے والی نمایاں اور غیر معمولی گراوٹ نے صرافہ مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے اور عام خریداروں کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ سونے کی قیمتیں کیوں گریں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ کمی عارضی ہے یا سرمایہ کاری کے روایتی تصور میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے؟ تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں یہ اُتار چڑھاؤ وقتی نوعیت کا ہے اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ معاشی بحرانوں اور غیر یقینی حالات میں بھی سونا اپنی قدر برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

 

خیال رہے کہ حالیہ دنوں مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے تحت فی تولہ سونا 30 ہزار روپے سے زیادہ سستا ہو کر 5 لاکھ 37 ہزار 362 روپے پر آ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 25 ہزار روپے سے زائد کی کمی دیکھی گئی ہے اور اب اس کی قیمت 4 لاکھ 60 ہزار 701 روپے ہو گئی ہے، جو حالیہ مہینوں کی سب سے نمایاں کمی قرار دی جا رہی ہے۔ ڈیلرزکے بقول اگرچہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان پہلے سے موجود تھا، تاہم مقامی مارکیٹ میں اس کے اثرات کچھ تاخیر سے سامنے آئے ہیں کیونکہ پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا براہِ راست تعلق نہ صرف عالمی نرخوں بلکہ ڈالر کی قدر، درآمدی لاگت اور حکومتی پالیسیوں سے بھی جڑا ہوتا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں کمی یا اضافے کا عمل فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتا۔

ماہرین کے مطابق نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں فی اونس سونا 355 ڈالر کم ہو کر 5 ہزار 150 ڈالر پر آ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کمی کی ایک بڑی وجہ امریکی معیشت سے جڑی مالیاتی پالیسیاں اور سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ ہے، جبکہ عالمی معاشی سست روی کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کے حوالے سے ازسرِ نو فیصلے کرنے پر مجبور کیا ہے۔

 

چاندی کی قیمتیں بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں رہیں۔ صرافہ مارکیٹ ڈیلرز کے مطابق چاندی کی فی تولہ قیمت ایک ہزار 106 روپے کم ہو کر 11 ہزار 69 روپے پر آ گئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی 949 روپے سستی ہو کر 9 ہزار 489 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 105.94 ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ چونکہ چاندی کو ایک صنعتی دھات بھی تصور کیا جاتا ہے، اس لیے عالمی صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کا اثر بھی اس کی قیمت پر پڑتا ہے۔ بعض دیگر ماہرین کے مطابق غیر یقینی حالات میں سونا عموماً محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم بعض اوقات بڑے سرمایہ کار منافع حاصل کرنے کے لیے سونا فروخت کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں عارضی مگر نمایاں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔

 

تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ سونے اور چاندی میں سرمایہ کاری فوری منافع کے بجائے طویل المدت بنیادوں پر کی جاتی ہے اور روزانہ کی قیمتوں کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے اکثر نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے مطابق تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی معاشی بحران، افراطِ زر یا کرنسی کی قدر میں کمی آئی، سونے اور چاندی نے اپنی قدر نہ صرف برقرار رکھی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوا ہے۔ جیولرز اور سرمایہ کار دونوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ سونے اور چاندی کی طلب کا مکمل طور پر ختم ہونا ممکن نہیں۔ اسی لیے ان دھاتوں کی قیمتوں میں حالیہ اُتار چڑھاؤ کو وقتی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا اور چاندی طویل مدت تک نہ صرف اپنی اہمیت اور حیثیت برقرار رکھیں گے بلکہ معاشی حالات میں بہتری اور مارکیٹ میں استحکام کے ساتھ آنے والے دنوں میں ان کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان کی بلندیوں کو چھوتی نظر آئیں گی۔

Back to top button