سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اچانک لاکھوں روپے کا اضافہ کیوں؟

 

 

 

موسم گرما کی آمد سے قبل ہی سولر پینلز کی قیمتوں میں 15فیصد تک غیر متوقع اضافے نے عوام کے چھکے چھرا دئیے ہیں۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد سولر سسٹمز کی مجموعی قیمت 2 سے 4 لاکھ روپے بڑھ گئی ہے، سولر پینلز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے سستی بجلی کا حصول عام صارفیں کیلئے ایک خواب بنتا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سولر پینلز کی قیمتوں میں اچانک اتنے بڑے اضافے کی اصل وجوہات کیا ہے؟ آنے والے دنوں میں سولر سسٹمز مزید کتنے مہنگے ہونے والے ہیں اور قیمتوں میں اضافے کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہنے کا امکان ہے ؟

 

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر لاجسٹکس، شپنگ اور فریٹ چارجز میں نمایاں اضافے اور مقامی سطح پر کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی لاگت نے قیمتوں کو مزید اوپر دھکیل دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سپلائی چین میں عدم استحکام اور طلب و رسد کے درمیان بگڑتا توازن بھی مارکیٹ کو مسلسل غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیے ہوئے ہے۔ آنے والے دنوں میں سولر سسٹمز کی قیمت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

 

ماہرین کے بقول مارکیٹ کے سامنے آنے والے اعداد و شمار بھی اس رجحان کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل 3 کلو واٹ کا مکمل سولر سسٹم تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے میں دستیاب تھا اور 5 کلو واٹ سسٹم ڈھائی لاکھ روپے تک میں لگ جاتا تھا۔ تاہم اب یہی لاگت نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے۔ اس وقت 3 کلو واٹ کا اچھا سولر سسٹم جس میں پینلز، انورٹر، سٹینڈ اور انسٹالیشن شامل ہو تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 5 کلو واٹ سسٹم کی قیمت 6 لاکھ سے بڑھ کر 8 لاکھ 50 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔

ماہرین کے مطابق سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے ایک نہیں بلکہ کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں عالمی سطح پر فریٹ چارجز میں نمایاں اضافہ اور چین کی جانب سے یکم اپریل 2026 سے سولر مصنوعات پر دئیے جانے والے 9 فیصد وی اے ٹی ایکسپورٹ ریبیٹ کا خاتمہ سرِفہرست ہیں۔ جس کی وجہ سے مجموعی طور پر مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمت میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ بعض کیسز میں سولر پینلز کی قیمتیں 20 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سولر پینلز کی قیمت میں اضافہ کسی ایک سیزنل یا وقتی عنصر کا نتیجہ نہیں بلکہ “کاسٹ پریشر” کا مجموعی اثر ہے۔ عالمی اور مقامی سطح پر شپنگ، لاجسٹکس اور ہینڈلنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ درآمدی لاگت، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین میں عدم استحکام نے بھی قیمتوں کو اوپر دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

 

سولر انڈسٹری ماہرین کے مطابق اس وقت سولر مارکیٹ ایک ٹرانزیشنل فیز میں داخل ہو چکی ہے، جہاں قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہی ہیں اور عمومی رجحان مسلسل اضافے کی طرف ہے۔ ان کے بقول اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر صارفین اور انسٹالیشن مارکیٹ پر پڑے گا۔ اس حوالے سے انجینیئر نور بادشاہ کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ محض مقامی یا وقتی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بڑی بین الاقوامی پالیسی تبدیلی کا اثر ہے۔ ان کے مطابق چین، جو دنیا بھر میں سولر پینلز کا سب سے بڑا سپلائر ہے، اس کی ایکسپورٹ پالیسی میں تبدیلی نے عالمی مارکیٹ کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ وی اے ٹی ریبیٹ کے خاتمے سے مینوفیکچرنگ لاگت بڑھے گی، جس کے اثرات پاکستان جیسے درآمدی ممالک میں فوری طور پر نظر آ رہے ہیں، جہاں قیمتیں فی واٹ کی بنیاد پر بھی بڑھ رہی ہیں۔

پی ٹی آئی کے مفاہمتی گروپ نے مریم نواز کے ساتھ ہاتھ کیسے ملایا؟

دوسری جانب، سولر انسٹالیشن کے شعبے سے وابستہ افراد اس صورتحال کو ایک “سولر انرجی بحران” قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان جیسے امپورٹ بیسڈ مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین عالمی رجحانات سے جڑا ہوتا ہے۔ اس وقت نہ صرف مینوفیکچرنگ لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ سپلائی چین میں غیر یقینی صورتحال اور روپے کی قدر میں کمی بھی قیمتوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے جبکہ دکانداروں کی جانب سے خودساختہ قیمتوں میں اضافے نے بھی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے، مبصرین کے مطابق امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز مستقبل میں متوقع اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے ہی قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات قیمتوں میں اضافہ حقیقی لاگت بڑھنے سے پہلے ہی نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ مجموعی طور پر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سولر مارکیٹ اس وقت ایک ری ایڈجسٹمنٹ فیز سے گزر رہی ہے، اور اگر مہنگائی، فیول کی قیمتوں اور عالمی لاجسٹک مسائل میں کمی نہ آئی تو اگلے چند مہینوں میں سولر سسٹمز کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔

Back to top button