13 برس کے اقتدار کے باوجود PTI کی KP حکومت ناکام کیوں؟

 

 

 

خیبر پختونخوا میں پچھلے 13 برس سے عمران خان کے نام پر برسر اقتدار ہونے کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت بے سمت اور ناکام دکھائی دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت اندرونی گروپ بندیوں، شخصی وفاداریوں اور احتجاجی سیاست میں الجھ کر صوبے کو درپیش دہشت گردی، بے روزگاری، اور معاشی زبوں حالی کے چیلنجز سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے اندرونی اختلافات ختم کرنے اور گورننس کو بہتر بنانے پر توجہ نہ دی تو اس کی 13 سالہ حکمرانی کا زوال نوشتہ دیوار ہے۔ یہ صورتحال اس جماعت کے لیے خاصی حیران کن سمجھی جا رہی ہے جس نے ایک وقت میں خیبر پختون خوا کی سیاست کا دھارا بدل دیا تھا۔ تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ تحریک انصاف کا آغاز 1996 میں ایک نظریاتی سیاسی جدوجہد کے طور پر ہوا، جس کی بنیاد کرپشن کے خلاف مزاحمت اور شفاف نظامِ حکومت کے دعووں پر رکھی گئی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ عمران خان کی سیاسی مقبولیت اور نوجوان ووٹر کی حمایت نے پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا میں وہ مقام دلایا جو ماضی میں کسی اور جماعت کو نصیب نہ ہو سکا۔

 

2013 میں پہلی مرتبہ صوبائی حکومت بنانا، پھر 2018 میں اقتدار کا برقرار رہنا اور اس کے بعد 2024 میں مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کرنا، بلاشبہ ایک غیر معمولی سیاسی کامیابی تھی۔ لیکن فروری 2026 تک پہنچتے پہنچتے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ انتخابی کامیابی اور مؤثر حکمرانی دو الگ چیزیں ہیں۔ 2024 کے انتخابات میں عمران خان کی قید، انتخابی نشان سے محرومی، انٹرنیٹ بندشوں اور دباؤ کے باوجود پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی نے یہ ثابت ضرور کیا کہ جماعت کی عوامی جڑیں مضبوط ہیں، مگر اس کے فوراً بعد سامنے آنے والے حالات نے یہ بھی واضح کر دیا کہ پارٹی اندرونی طور پر شدید انتشار کا شکار ہو چکی ہے۔ یہ انتشار محض اختلافِ رائے تک محدود نہیں رہا بلکہ باقاعدہ دھڑوں کی صورت اختیار کر گیا۔ ایک طرف وہ رہنما تھے جو خود کو عمران خان کے اصل بیانیے کا وارث سمجھتے رہے، تو دوسری جانب وہ گروہ سامنے آیا جو اقتدار اور فیصلوں میں براہِ راست اثر و رسوخ چاہتا تھا۔ پرویز خٹک اور محمود خان جیسے سابق وزرائے اعلیٰ کا سیاسی منظرنامے سے تقریباً غائب ہو جانا، جبکہ عاطف خان اور تیمور سلیم جھگڑا جیسے سینئر رہنماؤں کا انتخابی عمل سے باہر ہو جانا، اس بات کی علامت تھا کہ پارٹی اپنی ہی صفوں میں توازن برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ 2024 کے الیکشن میں شکست کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے دھاندلی کے الزامات ضرور لگائے گئے، مگر ان الزامات کو کسی مؤثر سیاسی یا قانونی حکمتِ عملی میں ڈھالا نہ جا سکا۔ علی امین گنڈاپور کا دورِ حکومت اس داخلی بحران کی واضح تصویر بن کر سامنے آیا۔ دو تہائی اکثریت کے باوجود ان کی حکومت زیادہ تر احتجاجی سیاست اور مرکز سے محاذ آرائی میں الجھی رہی۔ عمران خان کی رہائی کے لیے کیے گئے مارچ اور جلسے سیاسی کارکنوں کو متحرک تو کرتے رہے، مگر صوبائی انتظامیہ عملاً مفلوج ہوتی چلی گئی۔ اسی دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا، پولیس اور سیکیورٹی ادارے دباؤ کا شکار رہے اور عام شہری عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہو گئے۔ کابینہ میں بار بار تبدیلیاں، کرپشن کے الزامات اور انتظامی کمزوریوں نے حکومت کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا۔

پارٹی کے اندر کشیدگی اس وقت کھل کر سامنے آئی جب بشریٰ بی بی کی پشاور منتقلی کے بعد ان پر حکومتی معاملات میں اثر انداز ہونے کے الزامات لگے۔

 

علی امین گنڈاپور اور ان کے قریبی ساتھیوں کی جانب سے تحفظات، اور اس کے مقابل بشریٰ بی بی کے حامیوں کی مزاحمت، پی ٹی آئی کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کر گئی۔ نومبر 2024 کے اسلام آباد مارچ میں بدنظمی اور قیادت کے فقدان نے اس تقسیم کو مزید گہرا کر دیا۔ بعد ازاں علیمہ خان کی جانب سے کھلی تنقید نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ پارٹی میں اصل فیصلے منتخب قیادت کے بجائے عمران کے قریبی خاندانی اور ذاتی حلقے میں ہو رہے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں علی امین گنڈاپور کی برطرفی کے بعد نوجوان وزیرِ اعلیٰ سہیل خان آفریدی کو ذمہ داری سونپی گئی۔ ان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ کشیدگی کم کر کے حکمرانی پر توجہ دیں گے، مگر عملی طور پر ان کی حکومت بھی وہ کارکردگی نہ دکھا سکی جس کی صوبے کو شدید ضرورت تھی۔ سیکیورٹی، مالی وسائل اور وفاق کے ساتھ تعلقات کے معاملات جوں کے توں رہے، جبکہ مرکز پر الزام تراشی کا بیانیہ بدستور جاری رہا۔

بشری کو غیر سیاسی ملاقاتوں کی اجازت: عمران پر پابندی برقرار

آج کی صورتِ حال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی کمزور نظر آتی ہے۔ پارٹی سڑکوں اور سوشل میڈیا پر متحرک ضرور ہے، مگر حکمرانی کے محاذ پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑ چکی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر تحریک انصاف نے بروقت اپنے اندرونی اختلافات ختم نہ کیے، شخصی سیاست سے نہ نکلی  اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح نہ دی تو عمران خان کے نام پر خیبر پختون خواہ میں قائم 13 سالہ حکومت بھیانک انجام سے دوچار ہو گی۔

Back to top button