پی ٹی آئی قیادت نے عمران کی ڈو آر ڈائی کال کی مخالفت کیوں کی؟

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے بانی چیئرمین عمران خان کی اس خواہش کو سختی سے رد کر دیا ہے کہ انکی رہائی کے لیے اسلام اباد میں ایک ڈو اور ڈائی، یعنی مارو یا مر جاو طرز کی احتجاج کی کال دی جائے جسے دھرنے میں تبدیل کر دیا جائے۔ تاہم پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے ایسے کسی منصوبے کی سختی سے مخالفت کی جا رہی ہے اور کپتان کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پچھلے دو ماہ میں پی ٹی آئی کی چار احتجاجی کالز کی ناکامی کے بعد فوری طور پر کسی مذید احتجاج کا اعلان کیا گیا تو یہ الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پی ٹی آئی قیادت احتجاج کی مخالفت نکلی

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان سے لے کر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان تک تمام پی ٹی آئی رہنما اس تجویز کے مخالف ہیں چونکہ انہیں احتجاجی کال کی ناکامی نظر آ رہی ہے۔ حالار یہ ہیں کہ پارٹی کے شعلہ بیاں رہنماؤں کو بھی ڈر ہے کہ اب احتجاج کی کال کارگر ثابت نہیں ہو گی اور لوگ اکٹھے نہیں ہو پائیں گے لہذا عمران خان کا بھرم بھی کھل جائے گا۔

سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق پی ٹی آئی کے تقریباً تمام سرکردہ ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی کسی قسم کے ڈُو اور ڈائی احتجاج کے مخالف ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ایسی کسی کال سے نہ تو عمران کی رہائی میں مدد ملے گی اور نہ ہی پارٹی کو کوئی فائدہ ہو گا۔ انکا موقف یے کہ اگر اپ پی ٹی ائی کی جانب سے اسلام اباد میں احتجاج یا دھرنے کی کال دی گئی تو ریاست پوری طاقت سے اسے کچل دے گی جس سے پارٹی کیلئے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔

پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اب تو چیئرمین سے اڈیالہ جیل ملنے جانے والی مرکزی قیادت کو بھی گرفتار کر لیا جاتا ہے، ایسے میں لوگوں کو اسلام اباد کی سڑکوں پر اکٹھا کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔ اگر احتجاج کی کال دے بھی دی جائے تو مزید پارٹی رہنما اور کارکنان گرفتار ہوں گے اور ان پر مقدمات بنائے جائیں گے جس سے پارٹی کی رہی صحیح سٹریٹ پاور بھی ختم ہو جائے گی۔

اسلام آباد میں احتجاجی کال کے مخالف پی ٹی آئی رہنماؤں کا مذید کہنا یے کہ اگر حکومت احتجاج کیلئے فری ہینڈ دے بھی دے تو اس صورت میں بھی احتجاج کی قیادت کرنے والے رہنما عمران خان کو جیل سے نہیں نکلوا سکتے۔ انکا کہنا ہے کہ اگر خان صاحب نے باہر آنا ہے تو صرف عدالتی عمل سے ہی آ سکتے ہیں۔ احتجاج کے مخالف رہنماؤں کی جانب سے عمران خان کو یہ دلیل بھی دی جا رہی ہے کہ انہیں اب تک جن مقدمات میں ریلیف ملا، وہ سب کچھ عدالت میں قانونی جنگ سے ممکن ہوا لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ خان صاحب کے خلاف کیسز پر فوکس کیا جائے۔

اسکے علاوہ پارٹی کو 2014ء جیسے دھرنے کیلئے وسائل کی بھی اشد ضرورت ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مناسب منصوبہ بندی اور وسائل کی عدم موجودگی میں دھرنا ممکن نہیں ہوسکتا، خصوصا جب جہانگیر ترین اور عبدالکریم ڈھیڈی جیسے تگڑے فنانسرز بھی عمران کے ساتھ نہیں رہے۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات وقاص شیخ نے رابطہ کرنے پر اعتراف کیا کہ احتجاج کی حتمی کال دینے کے معاملے پر پارٹی میں دو آراء موجود ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ عمران خان جب احتجاج کی تاریخ دیں گے تو ہر کوئی تیاری کی پرواہ کیے بغیر اس پر عمل کرے گا۔
وقاص شیخ کا کہنا تھا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت کیا سوچتی ہے، پارٹی کے کارکن مشکلات اور مقدمات کا سامنا کرنے کے باوجود اب واقعی ڈُو آر ڈائی احتجاج کی حتمی تاریخ چاہتے ہیں۔ تو ہم جب شیخ وقاص اکرم سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد میں احتجاجی کے کال اگلے دو ہفتوں میں دی جا سکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ عمران خان خود کریں گے۔

Back to top button