حکومت سے مذاکرات کی بھیک مانگنے والی PTI مذاکرات سے کیوں بھاگی؟

حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو این آر دینے سے صاف انکار کے بعد صلح جوئی پر مائل پی ٹی آئی قیادت ایک بار پھر شرپسندی پر اتر آئی ہے اور اس نے دوبارہ وفاق پر حملے کی دھمکیاں دینی شروع کر دی ہیں۔ پی ٹی آئی نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر دبائوبڑھانے کیلئے ایک بار پھر مذاکرات کی بجائے احتجاجی سیاست کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی معطلی کے بعد پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے نئے صدر جنید اکبر کی وفاق پر دھاوا بولنے کی دھمکی کو اسی نئی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے اسی حکمت عملی کے تحت اپنے 8 فروری کے احتجاج کی کامیابی کیلئے حکومت سے مذاکرات ختم کر دئیے ہیں کیونکہ مذاکرات اور احتجاج کسی صورت اکٹھے نہیں چل سکتے۔ یوتھیے رہنما ہر صورت حکومت کیخلاف ملک گیر احتجاجی مہم کو کامیاب بنانے کیلئے کوشاں ہیں تاہم مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی یہ نئی مہم جوئی زیادہ طویل نہیں ہوگی اس سے برآمد ہونے والا نتیجہ آئندہ مذاکرات کے لئے اسے واپس میز پر لانے کے بارے فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس پوری مشق کے لئے پی ٹی آئی کے پاس تین ہفتوں کا وقت ہوگا جو یکم مارچ کو رمضان المبارک شروع ہوتے ہی اختتام پذیر ہوجائے گا ۔ تحریک انصاف اپنی تمام تر توانائی حکومت سے ناراض سیاسی جماعتوں کو اپنی چھتری تلے جمع کرنے پر صرف کرے گی۔تاہم حکومت مخالف بڑی احتجاجی تحریک میں ناکامی پر دوبارہ کسی اور بہانے سے مذاکرات کا ڈھول اپنے گلے میں ڈال لے گی۔اس صورت حال میں مذاکراتی عمل تین چار ہفتوں بعد بحال ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق پی ٹی آئی کی غیر سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے سیاسی محاذ پر تناؤ اور ٹکراؤ کے خاتمہ ، قومی ایشوز پر اتفاق رائے کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکراتی عمل سے جو امیدیں اور توقعات قائم ہوئی تھیں وہ دھری کی دھری رہ گئی ہیں۔ تاہم۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نے مذاکراتی عمل کو اپنی شرائط سے کیونکر مشروط کیا جبکہ حکومت اجلاس سے قبل ان نکات کو تسلیم کرنے سے کیونکر انکاری رہی اور کیا ڈیڈ لاک ہی ہماری قومی سیاست کا مقدر بنا رہے گا اور کونسا مائنڈ سیٹ ہے جو ڈائیلاگ پر پیشرفت کیلئے تیار نہیں ۔ پی ٹی آئی ذرائع اس امر کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں کہ جیل سے باہر کی قیادت مذاکرات بارے سنجیدہ تھی ،تاہم پی ٹی آئی لیڈر شپ نے مذاکرات توڑ کر حکومت کو مشکل سے نکال دیا بلاشبہ 9مئی اور 26نومبر کے واقعات کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن پر حکومت کے تحفظات تھے اور اس پر وہ اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت کے بغیر کسی فیصلہ کی پوزیشن میں نہیں تھی ۔
سلمان غنی کے مطابق مذاکراتی عمل کے خاتمے کے بعد اب دیکھنا ہوگا کہ جن پس پردہ مذاکرات کی بات پی ٹی آئی لیڈر شپ کر رہی تھی کیا وہ بھی جاری رہتے ہیں یا ان کا بھی دھڑن تختہ ہو جاتا ہے۔ اس مرحلہ پر شاید اب پی ٹی آئی کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گی۔ سلمان غنی کا مزید کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل کے باوجود فریقین ایک دوسرے پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی پر گامزن تھے ۔ حکومت کی بڑی مجبوری یہ تھی کہ جو کچھ مانگا جا رہا تھا وہ از خود اس میں کودنے کی پوزیشن میں نہیں تھی اسلئے کہ ان مطالبات اور معاملات کا تعلق اسٹیبلشمنٹ سے تھا اور اسٹیبلشمنٹ اس بارے قطعی لچک دکھانے کو تیار نہیں، اب اپوزیشن کے عدم تعاون سے مذاکراتی عمل کے خاتمہ پر پی ٹی آئی پھر سے بند گلی میں کھڑی نظر آ رہی ہے اور احتجاجی عمل خصوصاً اس مقصد کیلئے اپوزیشن اتحاد کی باتیں خواہشات تو ضرور ہیں مگر عملاً اس حوالے سے پیشرفت مشکل نظر آتی ہے کیونکہ زمینی حقائق پر نظر دوڑائی جائے تو کسی بڑی احتجاجی تحریک کیلئے حالات سازگار نظر نہیں آتے اور فرنٹ ڈور کی بندش کے بعد بیک ڈور بھی فعال ممکن نہیں رہے گا ۔ سلمان غنی کے بقول سیاسی قوت کی حیثیت سے واحد آپشن مذاکرات ہی بنتا ہے تاہم پی ٹی آئی نے مذاکراتی عمل معطل کر کے اپنے ریلیف کی فراہمی کے تمام دروازے بند کر دئیے ہیں۔
